Jamaat-e-Islami Pakistan |

سراج الحق، الخدمت فاؤنڈیشن کو سلام! ( انصار عباسی کا کالم )

  1. جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور اُن کی ہی تنظیم الخدمت فائونڈیشن نے تو کمال کر دیا۔ الخدمت فائونڈیشن ویسے تو اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے پہلے ہی اچھے نام سے جانی جاتی ہے لیکن کورونا وائرس کے دوران جو کچھ سراج الحق نے کہا اور جس انداز میں الخدمت فائونڈیشن نے ابھی تک کام کیا ہے، اُس نے تو بہت سوں کے دل جیت لیے اور اب وہ طبقہ بھی سراج الحق اور الخدمت فائونڈیشن کی تعریف کر رہا ہے جو جماعت اسلامی کے ساتھ اپنے شدید نظریاتی اختلافات کی وجہ سے اس کا حوالہ دینا پسند نہیں کرتا۔
    کوئی سماوی آفت آ جائے، سیلاب ہو، زلزلہ یا کوئی اورمصیبت‘ کچھ دوسری رفاہی تنظیموں کی طرح الخدمت فائونڈیشن ہمیشہ متاثرین کی مدد کے لیے پیش پیش رہتی ہے لیکن کورونا وائرس کے موجودہ بحران کے دوران اس فلاحی تنظیم کو جس طرح کام کرتے دیکھا گیا اور جس قسم کی ہدایات سراج الحق صاحب کی طرف سے دی جاتی رہیں اُس کی ماضی میں کم ہی نظیر ملتی ہے۔
    الخدمت فائونڈیشن کے کارکنوں نے اگر مساجد کی صفائی کی اور وہاں کورونا وائرس کے خاتمہ کے لیے اسپرے کیا تو یہی کچھ اس فلاحی تنظیم کے رضاکار مندروں، گوردواروں اور چرچوں وغیرہ میں بھی کرتے نظر آئے۔ مقصد یہ تھا کہ چاہے کسی کا کوئی بھی مذہب ہو، اس وائرس سے انسانیت کو بچانے کے لیے سب کی خدمت کرنی ہے۔
    مجھے یقین ہے الخدمت کے یہ رضاکار (یا اُن کی اکثریت) پہلے کبھی اپنی زندگی میں کسی گرجا گھر، کسی گوردوارے، کسی مندر کے اندر نہیں گئی ہو گی لیکن اب وہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے اندر جا جا کر اُن کو اسپرے کر کے کورونا وائرس سے پاک کر رہے ہیں تاکہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی اقلیتی شہری عبادت کے دوران اس وائرس سے متاثر نہ ہو۔
    یعنی الخدمت فائونڈیشن نے یہ انتظار نہیں کیا کہ اس کام کو اقلیتوں تک چھوڑ دیا جائے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو خود اس وائرس سے پاک کرنے کے لیے اسپرے کریں یا حکومت کا انتظار کیا جائے۔ مقصد انسانی جان بچانا ہے جس کا الخدمت کی طرف سے یہ بہترین مظاہرہ ہے۔
    سراج الحق نے الخدمت کو یہ بھی ہدایت دی کہ ملک بھر میں کھانے پینے کی جو بھی اشیا اس فلاحی تنظیم کی طرف سے ضرورت مندوں میں تقسیم کی جا رہی ہیں اُن میں بھی اقلیتوں کا خاص خیال رکھا جائے۔
    اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے الخدمت فائونڈیشن کے ایک ذمہ دار کے مطابق یہاں تقسیم کی جانے والی خوراک کا 20فیصد حصہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو دیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ سراج الحق کا ایک بیان پڑھنے کو ملا کہ اس موقع پر خصوصی طور پر خواجہ سرا کمیونٹی کو خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ خواجہ سرا وہ طبقہ ہے جس سے بحیثیت معاشرہ ہمارا سلوک انتہائی قابلِ مذمت ہے۔
    ان سے معاشرے کو ہمدردی ہونی چاہیے لیکن ہم اُنہیں نفرت سے دیکھتے اور اُن کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہمارے قابلِ مذمت رویوں کی وجہ سے اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے کئی افراد ایسا طرزِ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جس سے ہم اور ہماری ریاست بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ سراج الحق اور الخدمت فائونڈیشن نے اقلیتوں کے ساتھ ساتھ خواجہ سرائوں کے ساتھ جس ہمدردی اور انسانیت دوست سلوک کا مظاہرہ کیا ہےوہ ہم سب کے لیے قابلِ تقلید ہے۔
    علاوہ ازیں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پہ چند تصویریں اور وڈیوز وائرل ہوئیں جنہیں دیکھ کر بہت سوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ تصویریں اور وڈیوز الخدمت فائونڈیشن کے اُن رضا کاروں کی تھیں جو اُن بلیوں اور کتوں کو کھانا ڈال رہے تھے جو لاک ڈائون کی وجہ سے گلیوں کوچوں میں قائم ہوٹلوں کے بند ہونے کی وجہ سے بھوک سے مر رہے تھے۔
    اس وقت جماعت اسلامی کی قیادت اور اُن کی فلاحی تنظیم جو کام کر رہی ہے وہ اُس اسلام کی بہترین ترجمانی ہے جسے ہم میں سے بہت سے لوگ بُھلا چکے ہیں۔ اس بہترین کارکردگی پر میرا سراج الحق، جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن کو سلام۔

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس