Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کے دوران، مزدوروں اور محنت کشوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا، حافظ نعیم الرحمن



کراچی/22 اپریل ( )امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کے باعث بے روز گار ہونے والے تمام مزدوروں اور مختلف اداروں کے ملازمین کے روزگار کی بحالی اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔ لاک ڈاؤن کے دوران، مزدوروں اور محنت کشوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ فاقوں کے شکار مزدوروں اور محنت کش احتجاج کرنے اور سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں حکومت کے پاس بیرونی امداد سمیت وسائل اور اختیارات ہیں لیکن محنت کشوں اور دیہاڑی دار مزدور طبقے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ جماعت اسلامی نے وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر محنت کو لاک ڈاؤن کے دوران مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی مگر ان کی طرف سے دعدوں اور یقین دہانیوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ آج مزدور بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی مزدروں کے ساتھ ہے اور لاک ڈاؤن میں ان کے مسائل کے حل تک جدو جہد جاری رکھے گی۔ ایس او پیز کے ساتھ کراچی میں بھی صنعتیں اور کاروبار کھولے جائیں۔ پاکستان اسٹیل کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات ادا کیے جائیں، اسٹیل مل کو چلایا جائے تاکہ مزدور بے روزگار نہ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کراچی پریس کلب پر نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے تحت مزدوروں کے بھوک ہڑتالی کیمپ پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزدوروں کو جوس پلا کر ان کی بھوک ہڑتال ختم کرائی اور ان پر زور دیا کہ اپنے اس کیمپ کو احتجاجی کمیپ میں تبدیل کر دیں۔ جماعت اسلامی ان کے احتجاج میں ان کے ساتھ ہے۔ اس موقع پر این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان، جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات و سابق صدر پاکستان اسٹیل لیبر یونین پاسلو زاہد عسکری، اسٹیٹ بینک سی بی اے یونین کے صدر لیاقت ساہی،ایل ایل ایف کراچی کے سیکریٹری قاسم جمال، پریم یونین کے راجہ عبد المناف، ثناء اللہ ٹیکسٹائل ملز کے محمد جنید، ایس بی سی اے لیبر یونین کے یعقوب احمد شیخ، ارشاد بھٹو اور دیگر مزدور رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی اور دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور زیر محنت سعید غنی نے وعدہ کیا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کسی بھی ملازم اور مزدوروں کو نکالا نہیں جائے گا اور نہ ان کی تنخواہیں روکی جائیں گی لیکن آج صورتحال اس کے بالکل بر عکس ہے آج کئی فیکٹریوں اور کارخانوں سے مزدوروں اور محنت کشوں کو نکال دیا گیا ہے اور ان کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی جا رہی ہیں۔ اب وزیر اعلیٰ اور وزیر محنت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اداروں کے خلاف کارروائی کریں اور ان کو مجبور کریں کہ وہ ملازمین کو بحال کریں اور تنخواہیں دیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اس وقت لاک ڈاؤن کے دوران کاروبار کی بندش اور بے روزگاروں میں اضافے کے بعد شہر کی صورتحال ابتر ہو تی جا رہی ہے۔ جب پنجاب میں کاروبار اور صنعتیں کھل سکتی ہیں تو سندھ اور بالخصوص کراچی میں ایس او پیز کے ساتھ ایساکیوں نہیں ہو سکتا۔ کیا اس سنگین صورتحال میں بھی کراچی اور کراچی کی معیشت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی ان حالات میں دوسروں کی طرح خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ مزدوروں، محنت کشوں اور تنخواہوں سے محروم اور بے روزگار ہونے والوں کے حق کے لیے آگے بڑھ کر جدو جہد کرے گی اور اس طبقے کو کسی صورت میں بھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فیکٹری اور ملز مالکان اربوں روپے منافع کماتے ہیں اگر اس صورتحال میں یہ اپنے ملازمین اور محنت کشوں کو کوئی ریلیف دے دیں یہ مزدروں کے حق میں بہتر ہو گا اور ان کے گھروں میں فاقے نہیں ہو ں گے۔ خالد خان نے کہا کہ آج مزدوروں اور محنت کشوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ وزیر محنت مستفعی ہوں وہ اپنے وعدے پورے کرنے اور مزدوروں کے مسائل حل کرانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ محکمہ محنت مزدوروں کے بجائے مالکان کا ساتھ دے رہا ہے پہلے حکم نامے میں تو ملازمتوں کے تحفظ اور تنخواہوں کی ادائیگی کی بات کی گئی تھی مگر دوسرے حکم نامے میں اس کا ذکر نہ کرکے مالکان کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔این ایل ایف مزدوروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ آج بھوک ہڑتال کی ہے اب ہم اس احتجاج کو مزید تیز اور منظم کریں گے اور مختلف صنعتی زونز میں بھی احتجاج کریں گے۔ زاہد عسکری نے کہا کہ آج لاک ڈاؤن میں مزدورطبقہ، محنت کش اور دیہاڑی دار افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ صنعتی اداروں سے مزدوروں کو نکالا جا رہا ہے ان کے گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں اور صوبائی حکومت کچھ کرنے پر تیار نہیں۔ مزدوروں کو فاقوں سے بچایا جائے۔#
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس