Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

ملک میں سیاسی اور اقتصادی بحران گھمبیرہوتا جارہا ہے،لیاقت بلوچ


لاہور 16مئی 2020
جماعت اسلامی پاکستان کی سیاسی قائمہ کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں سیاسی ،معاشی اور زرعی بحران موجود ہے اور کبھی قومی حکومت ، ٹیکنو کریٹ کی حکومت اور ان ہاوس تبدیلی اور مائنس ون فارمولہ کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن جماعت اسلامی کا واضح موقف ہے کہ ملک میں قبل از وقت الیکشن کروائے جائیں ۔کورونا پر قومی کمیشن بنایا جائے ۔افسوناک پہلو یہ ہے کہ سال میں 6 بجٹ پیش کیے جاتے ہیں جو آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کا چھوٹے انتظامی یونٹس کی شکل دی جائے تو بحران سے نجات حاسل کی جا سکتی ہے ۔ ان خیالات کاظہار انہوں نے ”دار السلام“دفتر جماعت اسلامی ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔اس موقع پر صوبائی امیر راﺅ محمد ظفر ،صوبائی نائب امراءچوہدری اصغر گجر ،سید ذیشان اختر ،ضلعی امیر ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی ، چودھری اطہر عزیز ایڈووکیٹ وجنوبی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات کنور محمد صدیق نے بھی ہمراہ تھے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس وقت کورونا کے سلسلے میں کنفیوژن کا شکار ہے ۔ جب ملک میں چار سے پانچ سو مریض تھے توملک میں مکمل لاک ڈاون تھا ،اب چالیس ہزار متاثرین ہیں تو لاک ڈاﺅن کا نام نشان نہ ہے ۔ کورونا کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتفاق رائے پید اکیا جائے اور کورونا کے بارے میں جو شکوک شبہات پائے جا رہے ہیں اس پر قومی کمیشن بنایا جائے ۔ اس سلسلے میں حکومت ، ریاست اور اپوزیشن ایک پیج پر نہیں ہیں ۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں قومی اتفاق رائے پیدا کرے ۔ ملک میں سیاسی اور اقتصادی بحران گھمبیرہوتا جارہا ہے ۔ایک طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہا ہے اور دوسری طرف حکومت نے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال دیا ہے ۔ صرف کشمیریوں پرنہیں بلکہ بھارت اپنے ملک کے مسلمانوں پر بھی مظالم کی انتہا کر رہا ہے ، افغانستان کے حالات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں۔ بھارت کا جارحانہ رویہ قومی سلامتی کے لیے خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی قیادت کو متحد کر کے متفقہ ایکشن پلان تیار کرے ۔اگر ملک میں اقتصادی اور سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوا تو یہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، جس کی ذمہ داری وزیر اعظم عمران خان پر ہو گی ۔ جماعت اسلامی نے کورونا وائرس کے دوران متاثرین کی بے لوث خدمت کی اور یہ سلسلہ جار ی ہے اور ملک میں اس حقیقت کو تسلیم کروایا ہے کہ جماعت اسلامی عوام کی خدمت کرنے والی جماعت ہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس وقت سیاسی جماعتیں اور حکمران محلاتی سازشوں کا شکار ہیں اور چاہتی ہیں کہ پردے کے پیچھے سے کچھ نہ کچھ حاصل کیا جائے ۔ ان حالات میں جماعت اسلامی سیاسی جد جہد کے ذریعے ملک و قوم کو بحران سے نکالے گی ۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ18 ویں آئینی ترمیم اور58-2B کو چھیڑ کر صوبوں کے اختیار ات چھیننے کا خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ کچھ عناصر اس میں خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں ۔ وفاق ہمیشہ ماں کا کردار ادا کرتا ہے اس لیے وفاق کو چاہیے کہ وہ صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کرے ۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو بحران سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے چھوٹے آئینی یونٹس بنائے جائیں تاکہ صوبے اپنے مسائل حل کر سکیں ۔ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس وقت کسان بدحالی کا شکار ہے اور کسان کو اس کی محنت کا صلہ نہیں مل رہا۔ نمائشی اقدامات کی بجائے عملی اقدامات کیے جائیں ۔ ملک میں فوری طور پر بلدیاتی الیکشن کروائے جائیں ۔ ان ہاﺅس ، مائنس ون یا قومی حکومت جیسے فارمولے کی بجائے قبل از وقت الیکشن کروائے جائیں ۔ جب سے ملک میں سیاست کوا سٹیبلشمنٹ نے منتخب کیا ہے اور جو پارلیمنٹ اشاروں پر چلے اس کا انجام المناک ہو سکتا ہے ۔ اور 2018 ءکے بعد ہمارے ملک میں یہ صورتحال قائم ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ قبل از وقت الیکشن کے حوالہ سے جماعت اسلامی اپنے موقف پر قائم ہے لیکن دیگر بڑی جماعتیں اس وقت مقدمات میں الجھی ہوئی ہیں اس لیے قبل از وقت الیکشن کے حوالے سے بڑی سیاسی جماعتوں سے کوئی ٹھوس بات نہیں ہوئی ۔ تاہم جماعت اسلامی اپنی جدو جہد جاری رکھے گی۔ یقینا بجٹ آنے والاہے لیکن اب تک اس کے خد و خال سامنے نہیں آیئے ۔ یہ الگ بات ہے کہ سال میں 6 بجٹ آتے ہیں
حکومت کو چاہئے کہ وہ بجٹ کے حوالے سے آئینی راستہ اختیار کرئے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حالیہ اجلاسوں میں کورونا کے حوالے سے کوئی ٹھوس تجاویز سامنے نہیں آئیں ۔ اس وقت معاشرے میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ عام بیماریوں کو کورونا کا نام دیا جا رہے اور مختلف بیماریوں کی اموات کو کورونا کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے اس حوالے سے قومی پارلیمانی کمیشن بنایا جائے تاکہ کورونا کی صحیح صورتحال قوم کے سامنے آ سکے ۔ لیاقت بلوچ نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ سانحہ ساہیوال میں معصوم بچوں کی موجودگی میں ان کے والد ، والدہ اور بچی کو ڈارئیور سمیت پولیس نے بر سر عام گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارا ۔ یہ منظر بڑی تعداد میں لوگوں نے دیکھا لیکن اس سانحہ کے ملزمان کو تحفظ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا ہے ۔ جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ معصوم بچوں کو انصاف دیا جائے ۔
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس