Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

عوام کورونا وائرس کی وجہ سے پریشان تھے،حکمران چاند کے مسئلے میں الجھے ہوئے تھے اور علماءکرام کا مذاق اڑا رہے تھے،سینیٹر سراج الحق



لاہور26مئی 2020ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عوام کورونا وائرس کی وجہ سے پریشان تھے اور حکمران چاند کے مسئلے میں الجھے ہوئے تھے اور علماءکرام کا مذاق اڑا رہے تھے ۔ ہسپتالوں میںکورونا مریضوں کے ساتھ دہشت گردوں والا سلو ک کیا جارہا ہے لوگ ہسپتال جانے سے ڈرتے اور اپنی بیماری کو چھپاتے ہیں ۔ملک میںمیتوں کی تذلیل کی جارہی ہے ۔حکومت اپنے ایس او پیز پر نظر ثانی کرے ۔ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کورونا مریضوں کا علاج کررہے ہیں ۔کئی ڈاکٹرز اور نرسز اب تک کورونا کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوچکے ہیں ۔ڈاکٹرز اور طبی عملے کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے مگر حکومت اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے حکومت ڈ اکٹرز اور طبی عملہ کو پی پی ایز فراہم نہیں کرسکی ۔حکومت ڈاکٹر ز کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ تعلیمی عمل کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائیں جائیں ۔ تعلیم کے ذریعے ہی قوم منظم اور ترقی کی پر راہ گامزن ہوتی ہے ۔غیر معینہ مدت کے لیے تعلیمی اداروں کی بندش نئی نسل اور قوم کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ اوورسیز پاکستانیوں نے ہر مشکل وقت میںپاکستان کا ساتھ دیا ہے اور حکومتوں کی اپیل پر سب سے زیادہ پیسے بیرون ممالک میںمقیم پاکستانیوں نے بھیجے لیکن اس مشکل وقت میںجب زیادہ تر پاکستانی بے روزگار ہوگئے ہیںاور ان کے پاس کھانے پینے اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ کے لیے پیسے نہیںہے حکومت ان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے جو قابل افسوس رویہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوقاف ہال پشاور میںالخدمت فاﺅنڈیشن خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام یتیم بچوں میں عید گفٹس کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صوبائی صدر الخدمت فاﺅنڈیشن خالد وقاص چمکنی ، جنرل سیکرٹری شاکر صدیقی ، امیر جماعت اسلامی ضلع پشاور عتیق الرحمن ، ضلعی صدر الخدمت فاﺅنڈیشن ارباب عبدالحسیب ، صوبائی نائب امیر و سابق ممبرقومی اسمبلی صا برحسین اعوان ، سابق صوبائی وزیر حافظ حشمت خان و دیگر قائدین بھی موجود تھے ۔
سینٹر سراج الحق نے کہا کہ جب قوم اپنے پیاروں کے ساتھ عید کی خوشیاں منا رہی تھی تو کراچی سے چترال تک الخدمت فاﺅنڈیشن اور جماعت اسلامی کے لاکھوں کارکنان عید کی خوشیوں میںشامل کرنے کے لیے غریبوں کے گھروں پر راشن پہنچانے کا اہتمام کر رہے تھے ۔ عید کے تینوں دن سینکڑوں یتیموں ، بیواﺅں میں عید گفٹس تقسیم کیے ۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم صرف تقریریں کرتے ہیںاور فیصلے کوئی اور کرتے ہیں ۔ وہ لاک ڈاﺅن کے خلاف تقریر کرتے ہیں اور اگلے روز لاک ڈاﺅن ہوجاتاہے اس حکومت کی کوئی سمت معلوم نہیں ہے ۔وزیر اعظم کے بیانات نے تو عوام کو کنفیوز کردیا ہے اور لوگ پوچھ رہے ہیں کہ حکومت کرنا کیا چاہتی ہے ۔اگر وزیر اعظم لاک ڈاﺅن کو ٹھیک نہیں سمجھتے تو انہیں فیصلہ کرنے سے کس نے روکا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے ٹائیگر فورس بنائی جو عوام پر قیامت گزرنے کے بعد اب حلف اٹھارہی ہے ۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت عوام کو سیاحتی مقامات سے روک رہی ہے جبکہ وزیر اعظم خود اپنے اہل خانہ اور وزراءکی فوج کے ساتھ عید کی چھٹیاں انہی مقامات پر منارہے ہےں ۔ انہوںنے کہاکہ کورونا وباءکے دوران صوبائی اور مرکزی حکومتیں آپس میںلڑ رہی اور باہمی تعاون کا شدید فقدان ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ملک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ضرورت نہیں ہے ایماندار اور صالح قیادت کی ضرورت ہے ۔ اس مشکل صورت حال میںپاکستانی قوم نے الخدمت فاﺅنڈیشن پر اعتماد کرتے ہوئے دو ارب روپے دیے ہیں ۔ الخدمت فاﺅنڈیشن کے تحت اس وقت ملک بھر میں 13 ہزار سے زائد یتیم بچوں کی کفالت کی جارہی ہے ۔ عید کی چھٹیوں میںامدادی سرگرمیاں جاری رکھنے پر الخدمت فاﺅنڈیشن کے رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس