News Detail Banner

حقوق کراچی تحریک کے اثرات ٗ بااختیار بلدیاتی نظام کی تحریک پورے ملک میں زور پکڑرہی ہے ٗ حافظ نعیم الرحمن

1دن پہلے

حقوق کراچی تحریک کے اثرات ٗ بااختیار بلدیاتی نظام کی تحریک پورے ملک میں زور پکڑرہی ہے ٗ حافظ نعیم الرحمن
کراچی میں جماعت اسلامی آج بھی سب سے بڑی جماعت اور عوام کی مؤثر وتوانا آواز ہے،منتخب مردو خواتین کے بلدیاتی کنونشن سے خطاب
2026 میں تعمیر و ترقی کے کاموں میں مزید تیزی لائیں گے،ممبران کی تعداد میں اضافہ ومحلہ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گاٗ منعم ظفر
بلدیاتی کنونشن سے اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا ٗ انجینئر صابر احمد نے ملٹی میڈیا پر کارکردگی رپورٹ پیش کی

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے جمعہ کی شب ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کراچی کے منتخب مردوخواتین نمائندوں کے عظیم الشان بلدیاتی کنونشن سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک اور جدوجہد کے اثرات ملک بھر میں مرتب ہورہے ہیں اور پنجاب سمیت پورے ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام بنانے کی تحریک زور پکڑرہی ہے، کراچی میں جماعت اسلامی آج بھی سب سے بڑی جماعت اور عوام کی مؤثر وتوانا آواز ہے،پہلے بلدیاتی انتخابات میں اور پھر عام انتخابات میں کراچی میں عوام نے جماعت اسلامی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیالیکن بلدیاتی انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو چھینا گیا،ہمارے میئر کا راستہ روکا گیااور عام انتخابات میں فارم 47کے ذریعے مسترد شدہ لوگوں کو مسلط کردیا گیا،جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے اور عوامی رائے عامہ کے ذریعے ہی ملک میں معاشرے اور پورے نظام میں حقیقی تبدیلی و انقلاب لانا چاہتی ہے،جماعت اسلامی نے ماضی میں جبر وتشدد،خوف اور دہشت گردی کے بدترین دور میں بھی صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور عوام کے ساتھ کھڑی رہی،جماعت اسلامی نے ماضی میں بلدیاتی اداروں کے ذریعے عوام کی خدمت کی ہے،آج بھی جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندے محدود وسائل و اختیارات کے باوجود عوام کی خدمت کررہے ہیں۔بلدیاتی کنونشن سے امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ،سکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی نے بھی خطاب کیا،ٹاؤن چیئرمین لانڈھی عبد الجمیل خان نے درس قرآن دیا جبکہ ڈپٹی سکریٹری کراچی انجینئر صابر احمدنے جماعت اسلامی کے 9ٹاؤنز کی رپورٹ ملٹی میڈیا پر پیش کی۔یوسی چیئرمینز نادر لودھی، امید علی قاضی اور جمشید نے بھی اپنی یوسیز میں کیے جانے والے ترقیاتی کاموں سے آگاہ کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ منتخب بلدیاتی نمائندے اپنے علاقوں کی حالت بہتر بنانے اور تعمیر و ترقی کے کاموں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ ملائیں،ٹاؤن کے تحت آنے والے اسکولوں اور مراکز صحت کو بہتر و فعال بنائیں تاکہ شہریوں کو تعلیم و صحت کی معیاری و سستی سہولیات میسر آئیں۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کا مقصد صرف انتخابات جیتنا نہیں بلکہ اقامت دین کی تحریک کو آگے بڑھانا،عدل و انصاف کے نظام کو قائم کرنا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ ہم کسی سازش اور چور دروازے کے ذریعے سے انقلاب نہیں لانا چاہتے بلکہ عوام کی رائے سے تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ کراچی میں رائے عامہ کے سروے موجود ہیں، شہر میں فضا جماعت اسلامی کے حق میں ہی ہے۔پنجاب میں پنجاب کو اون کرنے کے لیے تو لوگ موجود ہیں لیکن سندھ میں کراچی کو کوئی اون کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پنجاب میں عوام کے پیسوں سے ناجائز طریقے سے کروڑوں روپے کے اشتہارات دیے جاتے ہیں اور کام میں اربوں روپے کی کرپشن کرتے ہیں۔ جنریشن ذی سے تعلق استوار کرنے کے لیے منتخب چیئرمین وائس چیئرمین اپنی پوزیشن کا استعمال کریں اور جماعت اسلامی میں شامل کریں۔ہمارے چییرمین وائس چیئرمین کا مطمع نظر صرف کام ہونا چاہیے اقامت دین کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنے لیے دعوت دین کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ منعم ظفر خان نے کہاکہ 2026 کے سال میں تعمیر و ترقی کے کاموں میں مزید تیزی لائیں گے،ممبران کی تعداد میں اضافہ اور محلہ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اس وقت شہر میں بے پناہ مسائل ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں، جو لوگ برسر اقتدار ہیں ان کا ماضی اور حال یہی ہے کہ کراچی سے جتنا ہوسکے لوٹو اور کھاؤ، کرپٹ اور نااہل حکمرانوں سے اچھے کی امید نہیں رکھی جاسکتی،گزشتہ کئی سال سے حق دو کراچی تحریک میں نہ صرف عوامی مسائل کو اجاگر کررہے ہیں بلکہ مسائل حل کروانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ حق دو کراچی تحریک کے نتیجے میں شہریوں کا جماعت اسلامی پر اعتماد قائم ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری تمام تر سرگرمیاں نصب العین کی یاد دلاتی ہے، ہمارا نصب العین یہی ہے کہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی رضا حاصل کی جائے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان کی محنت ہے کہ جس کی وجہ سے عوام نے جماعت اسلامی سے توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں۔ بحریہ ٹاؤن، کے الیکٹرک، نادرا کے مسائل سمیت دیگر مسائل جماعت اسلامی نے مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ مسائل کے حل کے لیے ہم نے شہر بھر میں احتجاج کیے، دھرنے دیے اور عدالت کا راستہ بھی اختیار کیا۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی سیٹوں کو چھیننے،عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کے باوجود آج شہر میں 1100منتخب بلدیاتی نمائندے جماعت اسلامی کے موجود ہیں اور عوامی خدمت و مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں،بلدیاتی حکومتوں میں جماعت اسلامی کی کارکردگی کا ماضی شاندار رہا ہے، نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ اور عبد الستار افغانی کے دور میں تعمیر و ترقی کے مثالی کام روشن مثال ہے، جماعت اسلامی کی حق دو کراچی تحریک نے شہر میں جماعت اسلامی کو ایک نیا اور نمایاں مقام عطا کیا ہے،اسی کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے لیکن یہ شہر کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے 4ٹاؤنز اور یوسیز چھینی گئیں اور میئر کا راستہ روکا گیا،کراچی میں اگر ہمارا میئر ہوتا تو آج شہر کی یہ ابتر صورتحال نہ ہوتی۔