News Detail Banner

پاکستان کو افغانستان سے لڑانے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں‘ ڈاکٹر اسامہ رضی

4گھنٹے پہلے

پاکستان کو افغانستان سے لڑانے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں‘ ڈاکٹر اسامہ رضی
کراچی سیاسی و نظریاتی شہر تھا اور رہیگا، گرفتاریوں اور مقدمات سے ڈرایا نہیں جاسکتا، اسامہ رضی
ملک پر مسلط فسطائیت اور 3کے ٹولے کیخلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی‘ اسامہ رضی
جماعت اسلامی ضلع سائٹ غربی کے تحت جلسہ و دعوت افطار سے محمد اسحاق خان، ڈاکٹرنور الحق، راشدخان و دیگر کا بھی خطاب

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ جو لوگ بھی پاکستان کو افغانستان سے لڑا رہے ہیں وہ پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہیں، پاکستان اور افغانستان بظاہر دو ملک ہیں لیکن یہ یک جاں دو قالب ہیں ،یہ فیصلہ کہاں ہوا کہ افغانستان ہمارا دشمن ہے، افغانستا ہمارا پڑوسی ملک ہے جس کی بقا ہماری بقا ہے، جنہوں نے روس کا مقابلہ کرکے ہمارے بقا کی جنگ لڑی ہے کہاں یہ فیصلہ ہوا اور کس نے کیا، ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں، ہمیں یہ پالیسی قبول نہیں ہے۔شہر کراچی کل بھی سیاسی و نظریاتی شہر تھا آج بھی ہے، دھمکیوں، گرفتاریوں اور مقدمات سے ہمیں ڈرایا نہیں جاسکتا، اب کے بار جو بھی احتجاج ہوگا وہ پہلے سے کہیں زیادہ توانا اور بھر پور ہوگا ہمارے کارکنان کے حوصلے اور عزم جواں ہیں، ملک پر مسلط فسطائیت اور تین کے ٹولے کے خلاف ہماری تحریک جاری رہے گی، پورا ملک سمجھ چکا ہے کہ پاکستان کی تباہی کا اصل ذمہ دار کون ہے، جین زی میں جو ذہنی انقلاب پیدا ہوا ہے وہ کسی بھی وقت ایک سیاسی انقلاب برپا کرسکتاہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع سائٹ غربی کے تحت سیوڑھی بابا روڈ فرنٹیئر کالونی پر منعقدہ ”جینے دو کراچی کو جلسہ عام و دعوت افطار“ سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی کے معاون خصوصی محمد اسحاق خان، امیر ضلع ڈاکٹر نورالحق، قیم ضلع راشد خان نے بھی خطاب کیا جبکہ سیکرٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ یہ ملک اس لیے بنا تھا کہ یہاں اسلامی نظام قائم ہوگا لیکن قیام پاکستان کے بعد سازش کے تحت اس ملک میں اسلامی نظام قائم نہ ہوسکا،اس وقت ملک میں بیروز گاری عام ہے کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں، غربت کا گراف بڑی تیزی سے اوپر جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے گئے، لوگوں کو لڑایا گیا، کراچی کل بھی سیاسی و نظریاتی شہر تھا کراچی والے لڑنا نہیں چاہتے کراچی کل بھی متحد تھا آج بھی متحد ہے جنہوں نے مصنوعی طور پر ہم کو لڑایا لوگ انہیں پہچان چکے ہیں، ہم کراچی کو سلام کرتے ہیں، کراچی کے رہنے والوں کو سلام کرتے ہیں یہاں کے مہاجروں کو پختونوں کو سندھیوں کو پنجابیوں کو بلوچوں کو شیعہ اور سنی کو دیوبندی اور بریلویوں کو جنہوں آپس میں لڑنے کے بجائے اپنے اصل دشمن کو پہچان لیا ہے، کون ہے جو ہمیں آپس میں لڑا تا ہے،اور متصادم کرتاہے، اور یہ جمہوریت، ہماری حق نمائندگی، ہماری حق حکمرانی چھین کر اپنی فسطائیت اور اپنی حکمرانی ہماری گردنوں پر مسلط کرنا چاہتاہے۔ کراچی والے یہ بات سمجھ گئے ہیں۔اسامہ رضی نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ شاہراہ فیصل پر احتجاج نہیں ہوسکتا، اگر شاہراہ فیصل پر احتجاج نہیں ہوسکتاتو ہمیں بتایا جائے کہ بینظیر بھٹو کی ریلی کہاں پر نکلی تھی اس پر دھماکا اور حملہ کہاں پر ہوا تھا، امریکی ایوان صدر اور برطانوی ایوان وزیر اعظم کے باہر احتجاج ہوسکتا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں ہوسکتا، اگر کوئی اپنی ریڈ لائن بناتا ہے تو ایسی ریڈ لائن کو ہم مانتے۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہماری یہ جدوجہد جاری رہے گی، ہماری تحریک جاری رہے گی، اور تمام جگہوں پر احتجاج ہوگا اگر یہ سمجھتے ہیں کہ کارکنان کو گرفتار کرکے اور مقدمے قائم کرکے یہ ہمیں ڈرا دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے،ہمارے کارکنا ن کے عزم آج بھی جواں ہیں اور کراچی کے حقوق کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ اب اگر احتجاج ہوگا تو سندھ اسمبلی پر ہونے احتجاج سے کئی گنا بڑا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس ملک پر جو فسطائیت مسلط ہے اور جو تین کا ٹولہ مسلط ہے اس کے خلاف ہماری یہ تحریک جاری رہے گی،پورا ملک سمجھ چکا ہے کہ پاکستان کی تباہی و بربادی کا اصل ذمہ دار کون ہے، ملک کا بچہ بچہ یہ بات سمجھ چکا ہے یہ وہ ذہنی انقلاب ہے اور بہت جلد یہ ذہنی انقلاب سیاسی انقلاب میں بدل جائے گا، جن اقوام میں ذہنی انقلاب برپا ہوجائے انہیں پھر سیاسی انقلاب سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ہماری تحریک عوام کے حقوق کی تحریک ہے ان کو آزاد مرضی دلانے کی تحریک ہے، ان کے جمہوری حقوق کی بحالی کی تحریک ہے اور یہ تحریک برپا کی گئی اب یہ کسی طرح رکے گی نہیں۔