News Detail Banner

افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی نہ ہو، اسلام آباد کابل مذاکرات کریں، حافظ نعیم الرحمن

4دن پہلے

افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی نہ ہو، اسلام آباد کابل مذاکرات کریں، حافظ نعیم الرحمن
ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت دہشت گردی ، جمعہ کو امریکہ کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوگا
امیر جماعت اسلامی پاکستان کی زیرصدارت مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس، ایرانی قیادت کی شہادت پر دعا کی گئی

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پاکستان اور افغانستان میں جاری جنگ و کشیدگی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امر زور دیا کہ کہ کابل یقینی بنائے افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو اور دونوں ہمسایہ اسلامی ممالک مذاکرات سے مسائل کا حل نکالیں۔
منصورہ میں مرکزی مجلس عاملہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے
ایران پر امریکی واسرائیلی جارحیت کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور جمعہ کو امریکہ و اسرائیل کے خلاف اضلاع کی سطح پر ملک گیر یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا۔
اجلاس میں نائب امیر لیاقت بلوچ ، سیکرٹری جنرل امیر العظیم و دیگر قائدین اور اراکین مجلس عاملہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی و عالمی معاملات اور خطے کی صورتحال پر غور کیا گیا اور جماعت اسلامی کا آئندہ کا لائحہ عمل تجویز ہوا۔ مجلس عاملہ نے امریکی و اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنائی ، سابق صدر احمدی نژاد اور دیگر قائدین اور معصوم جانوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور شہدائ کی بلندی درجات کی دعا کی۔
امیر جماعت اسلامی نے قائدین و کارکنان کو ہدایت کی کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف جمعہ کو پورے ملک میں مظاہروں کا اہتمام کیا جائے۔ انہوں نے قوم سے مظاہروں میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں جماعت اسلامی و پوری پاکستانی قوم ایرانی حکومت و عوام کے ساتھ ہے اور ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان و افغانستان میں جاری جنگ سے اسلام کے دشمنوں کا فائدہ ہوگا اور بھارت کو پاکستان کے خلاف مزید سازشوں کا موقع ملے گا، دونوں ملک جنگ کی بجائے فی الفور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کریں۔ انہوں نے کہا افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی برآمد نہیں ہونی چاہیے۔ دونوں ممالک میں جاری کشیدگی سے پاکستان و افغانستان کے عوام شدید پریشان ہیں اور معیشت تباہ ہورہی ہے ۔جماعت اسلامی نے ہمیشہ اس امر پر زور دیا ہے کہ حکومت پاکستان اندرونی مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر کے پالیسی تشکل دے۔ مشرف کی امریکی جنگ میں شمو لیت سے پاکستان میں دہشت گردی نے جنم لیا اور مغربی سرحد غیر محفوظ ہوئی۔ موجودہ حکمران امریکہ سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ حکمران قوم کی عزت و وقار اور ملکی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے اندرونی و بیرونی پالیسیاں تشکیل دیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے ایک دفعہ پھر اتحاد امت پر زور دیا اور مسلمان حکمرانوں سے کہا کہ وہ ٹرمپ کو خوش کرنے کی بجائے اپنے ملکوں کے عوام کی ترجیحات کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جوہری پاکستان کو قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اسلامی ممالک کے اتحاد اور مظلوم انسانیت کی مدد کے لیے کاوشیں کرنی چاہییں۔ وزیراعظم شہباز شریف ٹرمپ کی نوبل انعام کے لیے نامزدگی سے اعلان برآت کریں، امریکی صدر مسلمانوں کا دشمن ہے اور دنیا کو چوتھی عالمی جنگ کی جانب دھکیل کر نوآبادیاتی نظام کو ازسرِ نو منظم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور امریکہ سے امیدیں وابستہ کرنے کی پالیسیاں ترک کردیں۔