قر آن عظیم الشان کا اصل مقصد ظلم و جبر کے نظام کا خاتمہ ہے۔امیر العظیم
1دن پہلے
قر آن عظیم الشان کا اصل مقصد ظلم و جبر کے نظام کا خاتمہ ہے۔امیر العظیم
انسانیت کی فلاح اور عالمی امن کا قیام صرف قرآن کے نظام سے ممکن ہے۔
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان کامنصورہ میں تکمیل دورہ تفسیر القرآن کی تقریب سے خطاب
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے کہا ہے کہ قرآن نور ہدایت اور انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔قرآن دنیا پر مسلط ظلم و جبر کے نظام کو بدل کرمحبت و اخوت،خیر خواہی اور بھلائی اور اللہ تعالی ٰ کی بندگی کا نظام دیتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں تکمیل دورہ تفسیر القرآن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان شیخ القران ڈاکٹر عطاء الرحمن،دورہ تفسیر کے استاد ڈپٹی سیکریٹری جماعت اسلامی پاکستان مولانا عبد الحق ہاشمی نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر ناظم تربیت حافظ سیف الرحمن،ڈاکٹر عنایت الرحمن اور سیکریٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل احمد ترابی بھی موجود تھے۔دورہ تفسیر میں ملک بھر سے 400طلبا اور 150طالبات نے شرکت کی۔جبکہ آن لائن کے ذریعہ دنیا بھر سے ہزاروں مرد و خواتین نے دورہ تفسیر مکمل کیا۔
امیرالعظیم نے کہا کہ قرآن حکمت و دانائی کا سرچشمہ ہے،جو لوگ نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کررہے ہیں ان کے لئے رہنمائی کا اصل ذریعہ قرآن کریم ہے۔ہمیں سیاسی آزادیاں تو پون صدی قبل مل گئیں مگرانگریز کے ظالمانہ نظام اور اس کے ایجنٹوں سے آج تک آزادی نہیں مل سکی۔ عدالتی،تعلیمی اور معاشی نظام کی تبدیلی کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سودی معیشت اور قرضوں کی نحوست نے ترقی اور خوشحالی کے خواب چکنا چور کردیئے ہیں۔اسلامی دنیا کے حکمرانوں نے بنکوں میں دولت کے انبار لگا رکھے ہیں مگریہ دولت الماریوں میں بند ہے اور امت کے کسی کام نہیں آرہی۔
سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مسلم ممالک کے حکمران ہر رمضان میں اشتہارات کے ذریعے خود کو اسلام کے خادم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر تمام تر دعوؤں کے با وجود اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے لئے تیا ر نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ حقیقی اسلام تو وہ ہے جو امت کو سرفرازی اور سربلندی عطا کرتاہے۔حکمرانوں کی مرضی کا اسلام کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا۔ان کا منافقانہ رویہ ہی غلبہ دین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معاشرے میں دین کے اجتماعی تصور کواجاگر کرنا ہوگا تاکہ مسلط نظام اور اس کے کل پرزہ حکمرانوں سے نجات حاصل کی جاسکے۔
ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا ہے کہ اگر حقیقی معنوں میں کسی ایک ملک میں بھی اسلام کا نظام ہوتا تو اسرائیل اور امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ایران اکیلا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھڑا ہے،ہزاروں مسلمان شہید ہورہے ہیں،سکولوں پر بمباری کرکے ہمارے معصوم بچوں کو شہید کیا جارہا ہے۔ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کردیا گیا مگر پورا عالم اسلام تماشا دیکھ رہا ہے۔اس وقت ایک طرف ظالم اور دوسری طرف مظلوم ہے اور اسلامی دنیا کے حکمران ظالم کے ساتھ کھڑے ہیں۔اگر آج امت متحد ہو کرظلم کے خلاف لڑنے کا اعلان کردے تو امریکہ و اسرائیل پسپائی اختیار پر مجبور ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل تیس سال سے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگا رہا ہے مگر آج تک ثابت نہیں ہوسکاکہ ایران کے پاس واقعی ایٹمی اسلحہ ہے۔ تقریب کے اختتام پر، سیکریٹری جنرل امیرالعظیم، نائب امیر ڈاکٹر عطاء الرحمن اور مولانا عبدالحق ہاشمی نے دورہ تفسیر کے شرکاء میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔



