اسرائیل ایران میں کامیاب ہو گیاتو اس کی سرحد پاکستان تک آجائے گی،حافظ نعیم الرحمن
1گھنٹہ پہلے
اسرائیل ایران میں کامیاب ہو گیاتو اس کی سرحد پاکستان تک آجائے گی،حافظ نعیم الرحمن
پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سلام پیش کرتے ہیں،حکومت ٹرمپ کے پیس بورڈ سے باہر آئے، پریس کانفرنس
شہباز شریف ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لیے نامزد کرنے پر قوم سے معافی مانگیں، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنے والا امریکہ و اسرائیل کا ایجنٹ ہے
قبضہ میئر نے تین سال میں چار سو کروڑ لگاکرکریم آباد انڈر پاس میں دو پتلی گلیاں بنائی ہیں،امیر جماعت اسلامی پاکستان
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیر کے روز ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل ایران میں کامیاب ہوجاتاہے تو اس کی سرحد پاکستان تک آجائے گی، ہم محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا،جنرل پرویز مشرف نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تذلیل کی،پاکستان کو ٹرمپ کے پیس بورڈ سے باہر آنا چاہیے، شہباز شریف کو ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لیے نامزد کرنے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے،جماعت اسلامی کے علاوہ کسی نے کراچی میں امریکی قونصل خانے سے فائرنگ اور 10افراد کی شہادت پر امریکی میرینز کی مذمت نہیں کی، اس وقت جو بھی شیعہ سنی تفریق پیدا کرنا چاہتا ہے یا ایران کے خلاف بات کررہا ہے وہ امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ کا کردار ادا کررہا ہے، پوری پاکستانی قوم ایران کے ساتھ ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ بند ہونی چاہیے،چین اور روس کوبھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔خطے کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے ملک میں جو بحران پیدا ہوا ہے اس پر حکومت نے عوام پر تو پیٹرول کا بم گرادیا مگر مریم نواز کا جہاز کیوں نہیں بیچا؟ 11ارب روپے کا جہاز بیچ کر پنجاب کی عوام کو ریلیف دیا جائے،ہم خیبر پختونخواہ حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے2200 روپے ماہانہ نوجوانوں کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، دس ارب روپے میں پوری پی آئی اے بیچ دی اور گیارہ ارب روپے کا مریم نواز کا نیا جہاز آگیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر،ایم پی اے،ایم این اے،وزیر،مشیر کی گاڑی بھی 1300سی سی سے بڑی نہیں ہونی چاہیے، حکومت کو سرکاری گاڑیوں کا فری پیٹرول بھی ختم کرنا چاہیے،جماعت اسلامی کے کسی بھی ٹاؤن چیئرمین،وائس چیئرمین جو سرکاری گاڑی استعمال کررہاہے، اگر 1300سی سی سے بڑی گاڑی موجود ہے توفوری طور پر اسے تبدیل کیا جائے، 1300سی سی سے بڑی گاڑی کوئی استعمال نہیں کرے گا،حکومت بتائے کہ جب پاکستان میں پیٹرول کا اسٹاک 28دن کا موجود تھا تو نرخوں میں اضافہ کیوں کیا گیا؟ تماشہ یہ ہے کہ20روپے لیوی میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے، اس موقع سے بھی فائدہ اٹھاکر ایف بی آر کی نااہلی کوختم کرنے کے بجائے عوام سے براہ راست ٹیکس وصول کرنے کا سلسلہ جاری ہے، آئی پی پیز مافیا ہمارے دو ہزار ارب روپے کھاچکے ہیں، اس کرائسز کی صورتحال میں حکومت آئی پی پی مافیا کی ادائیگیاں موخر کرے،انہوں نے کہا کہ کراچی میں قبضہ میئر نے تین سال میں چار سو کروڑ لگاکرکریم آباد انڈر پاس میں دو پتلی گلیاں بنائی ہیں ، شہر میں اسٹریٹ کرائمزبڑھ گئے ہیں، آئے دن لوگ ہیوی ٹریفک کے نیچے کچلے جاتے ہیں، کراچی میں کوئی پروجیکٹ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا، انہوں نے کہا کہ امریکہ و اسرائیل نے ایران میں بڑے پیمانے پر شہریو ں پر بم پھینکے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں میزائل داغے جارہے ہیں لیکن ہم ایران کی عوام اور ان کی لیڈرشپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو استقامت کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہے، آیت اللہ خامنائی کی شہادت کے بعد ٹرمپ سمجھ رہا تھا کہ لوگ باہر آجائیں گے اور رجیم چینج ہوجائیگا لیکن آیت اللہ خامنائی کی شہادت نے ایرانی قوم کو مزید متحد کردیا ہے، ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم کسی سیویلین کو ہدف نہیں بنانا چاہتے لیکن جہاں جہاں امریکی اڈوں سے ہم پر اٹیک کیاجائے گا ہم وہاں اٹیک کریں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ کراچی میں 50لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں چلانے والے ہیں پورے ملک میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ موٹر سائیکلیں ہیں، ان میں طلبائ،مزدور،مڈل کلاس لوگ ہوتے ہیں، موٹر سائیکل پر پوری فیملیز کو بٹھا کر سفر کیا جاتاہے کیونکہ کوئی اور باعزت ٹرانسپورٹ پورے ملک میں موجود نہیں ہے، بمشکل چالیس،پچاس ہزار کمانے والے‘بائیکیا چلانے والاروزانہ 360روپے حکومت کو ٹیکس کی مد میں دے رہا ہوتا ہے، اگر اوسطاً ایک بائیک پر ایک لیٹر پیٹرول روزانہ خرچ ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت ملک بھر میں ڈھائی کروڑ بائیکس کے مطابق 120روپے فی لیٹر کے حساب سے ڈھائی سے تین ارب روپے روزانہ مڈل کلاس سے ٹیکس جمع کررہی ہے، جو ماہانہ تقریباََ50ارب اور سال میں 600ارب روپے بنتے ہیں،بائیکس کے علاوہ دیگر گاڑیوں کے حساب سے اندازہ لگایا جائے تو ہزار،بارہ سو ارب روپے تو یہ صرف پیٹرول کی لیوی اور ٹیکس کی مد میں مڈل کلاس سے وصول کرتے ہیں، دوسری طرف پورے ملک کے جاگیرداروں نے صرف دس سے بارہ ارب روپے ٹیکس جمع کرایا ہے،ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب حکومت ہر چیز پر ٹیکس وصول کررہی ہے تو یہ پچیس سے تیس ہزار لوگوں پر مشتمل ایف بی آر کیا کررہا ہے،یہ اپنے اہداف کیوں نہیں حاصل کرتا، حکومتی رپورٹوں کے مطابق سال میں 1300ارب روپے کی کرپشن خود ایف بی آر کا عملہ کرتا ہے،حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ان ظالمانہ اقدامات کو واپس لے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک بار پھردہشت گرد ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے، امریکہ میں ریاست کے اندر ریاست بن چکی ہے، اسلحہ بنانے والی کمپنیوں کے مالکان فیصلے کررہے ہیں جویہودی اور صیہونی لابی کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور عملاََاسرائیل امریکہ پر حکومت کررہا ہے، ٹرمپ جب اقتدار میں آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ امریکہ فرسٹ لیکن اس وقت درحقیقت اسرائیل فرسٹ کے طور پر کام کررہا ہے اور 35 کروڑ امریکی یرغمال بنے ہوئے ہیں، امریکہ میں جمہوریت ایک فراڈ نظر آتی ہے، زیادہ تر دولتمند لوگ ہی ان کی سینیٹ اور کانگریس میں بیٹھ کر فیصلے کررہے ہیں، پاکستان میں ممبران اسمبلی کی خرید وفروخت کو ہارس ٹریڈنگ کہتے ہیں،امریکہ میں ہارس ٹریڈنگ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا وہ اسے لابنگ کہتے ہیں اور انسانوں کی منڈی لگتی ہیں ، ٹرمپ نے نعوذ باللہ خدا کی زبان میں بات کرنا شروع کردی ہے جو اس کے زوال کا باعث ہوگی ، وہ کہتا ہے میں دنیا بھر میں جس ملک یا اس کے سربراہ کو چاہوں گا ختم کردوں گا، ایرا ن میں جوبھی سپریم لیڈر آئے گا ہم اسے مار دیں گے، اس سے بڑھ کر دہشت گردی اور کیا ہوگی، افسوس کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ بھی اپنا رول ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، کیونکہ اس کو بڑی طاقتوں خصوصاََامریکہ نے اپنا غلام بنا رکھا ہوا ہے، امریکہ،اسرائیل اور بھارت کا ایک اتحاد ہے جو تثلیثہ خبیثہ بناہوا ہے جس نے دنیامیں امن کو تاراج کیا ہوا ہے، گریٹر اسرائیل، ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا خواب دیکھنے والوں نے ٹرمپ کے آفس میں بیٹھ کر دعا کرائی ہے، گریٹر اسرائیل کا مطلب صرف نیل سے لیکر فرات تک پھیلاؤ نہیں ہے بلکہ اس میں خلیجی ممالک کو تباہ اور پوری دنیا پر کنٹرول کرنا ہے، ایپسٹین فائلز کودبانے کی کوشش کی جارہی ہے اس میں ٹرمپ سمیت وہ شیطان سامنے آرہے ہیں جو بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث ہیں، کس قدر مکروہ قسم کے معاملات سامنے آرہے ہیں، پریس کانفرنس میں امیر کراچی منعم ظفر خان، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور سینئر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد بھی موجود تھے۔


