News Detail Banner

حالیہ عدالتی فیصلے سے انصاف کو شکست اوروڈیرہ شاہی کو تقویت ملی ٗحافظ نعیم الرحمن

1گھنٹہ پہلے

حالیہ عدالتی فیصلے سے انصاف کو شکست اوروڈیرہ شاہی کو تقویت ملی ٗحافظ نعیم الرحمن
جماعت اسلامی ہر سطح پر ام رباب چانڈیو کے ساتھ کھڑی ہے،جاگیردارانہ و وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی
اگر ام رباب چانڈیو کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت کے سرپرستوں پر عائد ہوگی۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
میرا اور جماعت اسلامی کا کاز ایک ہی ہے اور وہ سند ھ میں وڈیرانہ اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہے ٗ ام رباب چانڈیو کی میڈیا سے گفتگو
امید کرتی ہوں کہ باقی جماعتیں بھی سندھ میں وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف میرا ساتھ دیں گے

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق میں سندھ کی مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو کی سندھ کے ظالم جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ہر سطح پر ام رباب چانڈیو کے ساتھ کھڑی ہے،جاگیردارانہ و وڈیرہ شاہی نظام کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ حالیہ عدالتی فیصلے سے انصاف کو شکست ہوئی ہے جبکہ وڈیرہ شاہی کو تقویت ملی ہے۔ تمام تر شواہد اور ثبوتوں کے باوجود مجرموں کو باعزت بری کیا جانا سوالیہ نشان ہے۔ بدقسمتی سے وڈیروں کے نزدیک نہ قانون کی کوئی حیثیت ہے اور نہ عدالت کی۔ام رباب چانڈیو کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور عدالت سے رہائی پانے والے ملزمان نے دفعہ 144 کے باوجود فائرنگ کر کے قانون کی دھجیاں اڑائیں۔اگر قوم کی بیٹی ام رباب چانڈیو کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری صوبائی حکومت کے سرپرستوں پر عائد ہوگی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ سندھ میں وڈیروں اور جاگیرداروں کو لگام دی جائے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے، جس کے باعث صوبے میں جاگیردار اور وڈیرے بے خوف ہو کر دندناتے پھر رہے ہیں۔جو عناصر جاگیرداروں اور وڈیروں کی سرپرستی کرتے ہوئے حکومتی نظام چلا رہے ہیں، انہیں اب سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ 8سال قبل ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو بے دردی سے شہید کیا گیا، جو ایک انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے جاگیردارانہ نظام میں جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف آواز بلند کرنا نہایت مشکل ہوگیا ہے کیونکہ ظالم عناصر کو بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وڈیرے اور جاگیردار خود کو زمینی خدا سمجھتے ہیں اور عام عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ 18 سال سے سندھ میں اقتدار پر قابض ہے، مگر اربوں روپے کے تعلیمی بجٹ کے باوجود غریب کسانوں اور ہاریوں کے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم نہیں کی جا سکی۔صوبے میں 28 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، جو حکومتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔سندھ کے شہر کندھ کوٹ کی حالت 26 سال گزرنے کے باوجود تبدیل نہیں ہوئی اور آج بھی وہی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ اس موقع پر ام رباب چانڈیو نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ آج میں ادارہ نور حق میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں۔ میرا اور جماعت اسلامی کا کاز ایک ہی ہے اور وہ سند ھ میں وڈیرانہ اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہے، امید کرتی ہوں کہ باقی جماعتیں بھی سندھ میں وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف میرا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آج سے 8 سال قبل میرے والد، دادا اور چچا کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ میرے بابا نے جاگیرداروں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا اور آج میں اسی کو تھامے کھڑی ہوں۔ میرے بابا،دادا اور چاچا کو قتل کرنے والے سندھ کے وڈیرے اور پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔عدالت کے فیصلے نے بے گناہوں کو گناہ گار بنادیا اور قاتلوں کو باعزت بری کردیا۔ مجھے سندھ حکومت سے امید ہے کہ وہ اس فیصلے کے حوالے سے نظر ثانی کرے گی اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ملاقات میں سکریٹری صوبہ سندھ محمد یوسف، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ،نائب امیر کراچی مسلم پرویز،ڈپٹی سیکرٹری کراچی راشد قریشی، صوبائی سکریٹری اطلاعات مجاہد چنا، سکریٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری،ڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمدودیگر بھی موجود تھے۔