پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی، ٹیکسوں کی بھرمار کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر مظاہرے
4دن پہلے
پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی، ٹیکسوں کی بھرمار کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر مظاہرے
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ہونے والے مظاہروں میںعوام کی کثیر تعداد کی شرکت
حکمران مراعات اور عیاشیاں ختم کریں، پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے، مقررین
لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد: 22مئی 2026ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر جمعہ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اور مہنگائی کی مجموعی صورت حال کے خلاف ملک گیر مظاہرے ہوئے۔ لاہور، کراچی، پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اور ملک کے دیگر بڑے چھوٹے شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے عوام اور جماعت اسلامی کے کارکنان کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جماعت اسلامی کی مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی قیادت نے مظاہرین سے خطاب کیا اور حکومت کو عوام دشمن اقدامات کی واپسی کا پُرزور مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور کہا کہ حکمران اپنی عیاشیاں اور مراعات ترک کر کے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کا اعلان کریں۔
تفصیلات کے مطابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ و امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری نے مال روڈ پرمہنگائی مخالف مظاہرہ کی قیادت کی۔ کراچی کے 14مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے،مرکزی احتجاجی مظاہرہ قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ کی قیادت میں جامع مسجد خضراء صدر میں ہوا۔ مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز و پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ حکمرانو! پیٹرول لیوی ختم کرو،پیٹرول سستا کرو،بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز کے نام پر لوٹ مار بند کرو،مہنگی بجلی،بدترین لوڈ شیڈنگ نامنظور۔مظاہروں سے امرائے اضلاع سمیت دیگر ذمہ داران نے بھی خطاب کیا۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن نے گوجرہ میں جب کہ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری نے قصور میں مظاہرین سے خطاب کیا۔ بنوں میں امیر جماعت اسلامی کے پی جنوبی پروفیسر محمد ابراہیم، مری میں امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، ایبٹ آباد میں امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرزاق عباسی نے مظاہرہ کی قیادت کی۔ جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی ہزارہ جاوید اختر اور امیر جماعت اسلامی ضلع ایبٹ آباد عبیدالرحمٰن عباسی و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کوئٹہ میں امیر جماعت اسلامی و ممبر صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بڑے احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کی۔ ملتان سمیت پنجاب جنوبی کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ فیصل آباد میں قائم مقام امیر چودھری سلیم نے مظاہرہ کی قیادت کی، ملتان میں قیم ملتان خواجہ عاصم ریاض، اوکاڑہ میں امیر شہر سلمان اظہر شیخ نے مہنگائی مخالف مظاہرین سے خطاب کیا۔ مشیر امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید پراچہ جامع مسجد علما اکیڈمی میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا نفاذ غیر آئینی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی ہے، یہ حقیقی جواز کے بغیر آئی ایم ایف کے مطالبہ پر کیا جا رہا ہے گویا کہ اطاعت غیراللہ ہے۔ پشاور، مالاکنڈ ڈویژن اور اندرون سندھ کے مختلف مقامات پر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافے، مہنگائی، ٹیکسوں کی بھرمار اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج ہوا۔ شمالی پنجاب کے مختلف اضلاع راولپنڈی، مر ی، جہلم، تلہ گنگ، خوشاب، سر گودھا، چکوال اور بھکر میں ملک میں بڑھتی ہو ئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ظالمانہ اضا فے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔سیکرٹری جنرل پنجاب شمالی اقبال خان نے چکوال میں احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کیا۔ کرک میں احتجاجی مظاہرے سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے سیکرٹری جنرل محمد ظہور خٹک، جماعت اسلامی ضلع کرک کے امیر صدیق اللہ شاہین اور سیکرٹری جنرل اعجاز قمر نے خطاب کیا۔ڈیرہ اسماعیل خان میں ضلعی امیر منظر مسعود خٹک نے مظاہرین سے خطاب کیا۔
جیکب آباد، کندھ کوٹ کشمور، دادو، شکارپور، لاڑکانہ، شہدادکوٹ،جامشورو، ٹنڈوالہیار، نواب شاہ، بدین، ٹھٹہ،ٹنڈوآدم سمیت سندھ کے مختلف شہروں میںبھرپور احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ خیرپور میں مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری ممتاز حسین سہتو، ضلعی نائب امیر مولانا ثناءاللہ جونیجوکی قیادت میں پھول باغ تا پنج گلا مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف مظاہرہ ہوا۔ جیکب آباد میں ضلعی امیر محمد ابوبکر سومرو، امیر شہر حاجی دیدار علی لاشاری کی قیادت میں دفتر جماعت اسلامی سے احتجاجی نکالی گئی جو مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی۔ کندھ کوٹ میںپریس کلب کے باہر ضلعی امیر غلام مصطفی میرانی،مقامی امیر حافظ اسداللہ چنا، مولانا رفیع الدین چنا، حافظ شیر محمد مینک ودیگر رہنماؤں کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ شکارپور میں پریس کلب پر مقامی امیر مولانا صدرالدین مہر جبکہ تحصیل مدیجی میں قیم ضلع عبدالرزاق منگریو اور عبدالرحمن منگریو کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔لاڑکانہ میں دفتر جماعت بندر روڈ تا پریس کلب تک ضلعی امیر ایڈوکیٹ نادر علی کھوسو، مقامی امیر رمیز راجا شیخ، نعمت اللہ سیال، عباس علی ڈاھانی ،عبدالمجید مغل، اطہر مجید تنیو کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ دادو میںضلعی امیر محمد موسیٰ ببر ، نواب شاہ میں میںنائب امیر ضلع سرور احمد قریشی، مقامی امیر نجف رضا اور فیصل ہمایوں ، ٹنڈوآدم میں امیر جماعت اسلامی ٹنڈوآدم سید عریف اللّٰہ ، نائب امراء مشتاق احمد عادل ، عبدالغفور انصاری اور حاجی نور حسن کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ بدین میں ضلعی امیر سید علی مردان شاہ،جنرل سیکریٹری عبدالکریم بلیدی، صدر کسان بورڈ بدین اللہ بچایو، مقامی امیر بدین فتح خان کھوسو ،ٹھٹہ میں ضلعی امیر عبدالمجید سموں، جامشورو میںضلعی امیر مولانا محمد عمر ،حیدرآباد میں ضلعی امیر طاہر مجیداور جنرل سیکریٹری محمد حنیف شیخ، شہداد کوٹ میں ضلعی امیر منصور ابڑو جب کہ ٹنڈوالہیار میں ضلعی امیر آصف یاسین اور سیاسی کمیٹی کے صدرعبدالحفیظ لغاری نے مظاہرین سے خطاب کیا۔
دریں اثنا مقررین نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عوام دشمن پالیسیوں، مہنگائی، ٹیکسوں اور ظالمانہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف اپنی تحریک جاری اور حکمرانوں کا پیچھا کرتی رہے گی۔ عوام خصوصاً نوجوان، تاجر، مزدور، طلبہ اور شہری حکومت کی عوام دشمن ظالمانہ معاشی پالیسیوں کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں۔ سڑکوں پر نکلنے اور مسلسل جدوجہد کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہیں۔ آئی ایم ایف سے آج تک پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ ہر قرض کے بدلے عوام پر مزید ٹیکس مسلط کیے گئے۔ حکمرانوں نے ملک کو سودی نظام میں جکڑ دیا ہے اور آج ہر پاکستانی مقروض ہوچکا ہے۔ پیٹرول کی اصل قیمت 270 روپے ہے لیکن عوام اسے 409 روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں۔ لوگ مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر سولر سسٹم لگارہے ہیں تو حکومت اب اس پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تیاری کررہی ہے۔حکمران اپنی شاہ خرچیاں ترک کرنے کے بجائے مسلسل عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ پاکستان کے قیام کو 79 سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی عوام اپنے بنیادی حقوق اور مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔



