News Detail Banner

کسانوں کو سستی بجلی اور زرعی مداخل پر ریلیف دیا جائے: صدر کسان بورڈ کی پریس کانفرنس

18گھنٹے پہلے

زراعت کے لیے وفاقی و صوبائی بجٹ کا 10 فیصد مختص کیا جائے، سردار ظفر حسین

کسانوں کو سستی بجلی اور زرعی مداخل پر ریلیف دیا جائے: صدر کسان بورڈ کی پریس کانفرنس

کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کو قومی معیشت کی بنیاد تسلیم کرتے ہوئے اس شعبے کے لیے کم از کم 10 فیصد بجٹ مختص کیا جائے اور کسان دوست پالیسیاں متعارف کروائی جائیں تاکہ زرعی پیداوار، خوراک کے تحفظ اور دیہی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

منصورہ لاہور میں پری بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار ظفر حسین نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں وفاقی حکومت نے زراعت کے لیے ایک فیصد سے بھی کم، صرف 0.36 فیصد بجٹ مختص کیا، جبکہ پنجاب نے 1.5 فیصد، سندھ اور خیبرپختونخوا نے 1.9 فیصد اور بلوچستان نے 2.5 فیصد بجٹ زرعی شعبے کے لیے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس شعبے کی اہمیت کے منافی ہے، حالانکہ قومی آمدن میں زراعت کا حصہ 24 فیصد جبکہ روزگار کے 45 فیصد مواقع اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔ پریس کانفرنس میں کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبدالجبار خان، سینئر نائب صدر چوہدری منظور احمد گجر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

صدر کسان بورڈ نے کہا کہ پاکستان کی 60 سے 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے منسلک ہے۔ اس کے باوجود زرعی ترقی کی شرح 6.5 فیصد سے کم ہو کر صرف 0.6 فیصد رہ جانا انتہائی تشویشناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔

سردار ظفر حسین نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ اقدامات کرے تو پاکستان زرعی پیداوار اور زرعی مصنوعات کی برآمدات کے ذریعے سالانہ 60 ارب ڈالر تک زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے، جس سے ملک کو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے قرضوں سے نجات دلانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں یوریا کی ایک بوری تقریباً 900 روپے جبکہ ڈی اے پی کھاد 4,500 روپے میں دستیاب ہے، لیکن پاکستان میں یوریا 4,500 روپے اور ڈی اے پی 16 ہزار روپے تک فروخت ہو رہی ہے، جس کے باعث کسان کی پیداواری لاگت ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی ہے۔

کسان بورڈ پاکستان کے صدر نے مطالبہ کیا کہ زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے نرخ پانچ سال کے لیے فی یونٹ 10 روپے مقرر کیے جائیں، جبکہ زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے مفت بجلی فراہم کی جائے جبکہ سرکاری افسران کو حاصل مفت بجلی اور مفت پیٹرول کی سہولت ختم کی جائے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ 11 ارب روپے مالیت کا سرکاری جہاز فروخت کرکے اس رقم کو زرعی شعبے کی بحالی اور کسانوں کی معاونت پر خرچ کیا جائے۔

سردار ظفر حسین نے کہا کہ ملک میں آج تک کوئی جامع اور طویل المدتی زرعی پالیسی نہیں بنائی گئی، جس کے باعث زراعت اور کسان دونوں لاوارث ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کی مشاورت سے پانچ سالہ قومی زرعی پالیسی تشکیل دی جائے اور فصلوں کی کم از کم خریداری قیمتیں بوائی سے دو ماہ قبل مقرر کی جائیں تاکہ کسان اعتماد کے ساتھ فصلوں کا انتخاب اور سرمایہ کاری کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت فصلوں کی پیداواری لاگت، کسان کی محنت اور دیگر اخراجات کا حساب لگانے کے بعد کم از کم 25 فیصد منافع شامل کرکے امدادی قیمتوں کا اعلان کرے۔ ان کے مطابق کپاس، گندم، مکئی، دھان، گنا، آلو، تیل دار اجناس، پھلوں اور دیگر اہم فصلوں کے لیے واضح پانچ سالہ قیمت پالیسی دی جائے۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ بیج، کھاد، زرعی ادویات اور دیگر زرعی مداخل کی قیمتوں میں کم از کم 50 فیصد کمی کی جائے، زرعی مشینری پر تمام غیر ضروری ٹیکس ختم کیے جائیں، سولر ٹیوب ویلوں کے لیے سولر پینلز، انورٹرز اور متعلقہ آلات پر تمام ڈیوٹیاں ختم کی جائیں اور آئندہ پانچ سال تک زراعت پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ تمام زرعی قرضے بلا سود فراہم کیے جائیں اور قرضوں کے حصول کا نظام آسان، شفاف اور کسان دوست بنایا جائے۔ اسی طرح زرعی منڈیوں میں اصلاحات لاتے ہوئے کسان اور خریدار کے درمیان براہ راست رابطے کا نظام قائم کیا جائے، ناجائز منافع خوری اور استحصالی مڈل مین کلچر کا خاتمہ کیا جائے اور کسان کو اس کی فصل کی منصفانہ قیمت کی ضمانت دی جائے۔

سردار ظفر حسین نے کہا کہ حکومتیں زراعت کی بحالی کے لیے جی ڈی پی کا کم از کم 10 فیصد حصہ مختص کریں اور اس رقم کے ذریعے بنیادی زرعی مداخل کی قیمتوں میں کمی، توانائی کے اخراجات میں ریلیف اور زرعی پیداوار میں اضافے کے اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ کسان حکومت سے خیرات نہیں بلکہ واضح اور پائیدار پالیسی مانگ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کسان بیج بوتے وقت بھی غیر یقینی کا شکار ہوتا ہے اور فصل کاٹنے کے بعد بھی اپنی محنت کی مناسب قیمت حاصل نہیں کر پاتا۔ اگر حکومت واقعی زراعت کو بچانا چاہتی ہے تو اسے پانچ سالہ قومی زرعی پالیسی، پیشگی امدادی قیمتوں، سستی بجلی، سولرائزیشن، ٹیکسوں کے خاتمے اور زرعی لاگت میں کمی کے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔