*بجٹ میں عوام پر مزید بوجھ ڈالا گیا تو ملک گیر احتجاجی تحریک و پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کریں گے ٗحافظ نعیم*
19گھنٹے پہلے
*بجٹ میں عوام پر مزید بوجھ ڈالا گیا تو ملک گیر احتجاجی تحریک و پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کریں گے ٗحافظ نعیم*
*حکومت صومالیہ میں سمندری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی فوری ومحفوظ بازیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے*
*چینی مافیا کو لگام ٗآئی پی پیز کے معاہدوں کا فرانزک آڈٹ اور قومی مفاد کے خلاف معاہدوں کو ختم کیا جائے ۔ ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس*
*ملک کو کسی نئی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ، کراچی سمیت ملک بھر میں مقامی حکومتوں کو با اختیار ،انہیں براہِ راست مالی وسائل فراہم کیے جائیں*
*بلوچستان میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملہ ا افسوسناک قابل مذمت اور انسانیت سوز واقعہ ہے،حکومت روک تھام کے لیے اقدامات کرے*
*حافظ نعیم الرحمن سے صومالیہ میں بحری قزاقو ں کے ہاتھوں یرغمال شہریوں کے اہل خانہ کی ملاقات ،حافظ نعیم کی تعاو ن کی یقین دہانی*
کراچی: 9 جون 2026ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 12 جون کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا گیا تو 13 جون سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز اور بہت جلد پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیاجائے گا ۔ نوجوان، مزدورطلباء،وکلاء، اساتذہ،ڈاکٹرز، تاجرسمیت تمام طبقات سے وابستہ افراد عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت صومالیہ میں سمندری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے ۔ تقریباً 50روز گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے سنجیدہ اور مؤثر کوششیں نظر نہیں آ رہیں ، یر غمالی شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار او ر ان کے اہل خانہ بھی شدید بے چینی و اضطراب اور کرب میں مبتلا ہیں ۔ آئی پی پیز کے معاہدوں سے ملکی معیشت کو شدید معاشی نقصان پہنچایا ہے ،بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود عوام سے ہزاروں ارب روپے وصول کیے جا رہے ہیں ۔ آئی پی پیز کے معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کیا جائے اور قومی مفاد کے خلاف معاہدوں کو ختم کیا جائے ۔ پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور کم از کم تین سال کے لیے ان کی قیمتوں کو منجمد کیا جائے تاکہ معیشت کو سہارا مل سکے ۔ کابینہ میں شوگر مافیا کو سپورٹ کیا جارہا ہے ،چینی برآمد کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں ،چینی برآمد کرکے شوگر مافیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے نتیجے میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ حکومت کو عوامی مفاد کے بجائے مخصوص مافیاز کے مفادات کے تحفظ سے باز رہنا چاہیے ۔ کراچی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور سندھ کے مجموعی ریونیو کا بڑا حصہ کراچی سے حاصل ہوتا ہے، لیکن شہر کو اس کے جائز حقوق اور وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے ۔ کراچی میں کے فور منصوبے کی تکمیل میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر اپنی ناکامیوں کو چھپا رہی ہیں ۔ شہر کا 70 سے 80 فیصد حصہ پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور شہری کئی کئی ہفتوں تک پانی سے محروم رہتے ہیں جبکہ ٹینکر مافیا حکومتی سرپرستی میں کھلے عام سرگرم ہے ۔ اس وقت ملک کو کسی نئی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ، کراچی سمیت ملک بھر میں مقامی حکومتوں کو با اختیار بنایا جائے اور انہیں براہِ راست مالی وسائل فراہم کیے جائیں ۔ بلوچستان میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملہ یہ انتہائی افسوسناک قابل مذمت اور انسانیت سوز واقعہ ہے ۔ حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی اور سخت اقدامات کرنے چاہئیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور آئندہ بجٹ میں بھی عام آدمی کے لیے کوئی خوشخبری نظر نہیں آ رہی ۔ پٹرولیم لیوی اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عوام پر مسلسل بوجھ ڈالا جا رہا ہے جبکہ حکمران طبقہ اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ایک عام شہری، طالب علم، مزدور، کسان اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والا شخص روزانہ پٹرول پر بھاری ٹیکس ادا کر رہا ہے، جبکہ اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقات کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یرغمال بنائے گئے 17 افراد میں 10 پاکستانی شامل ہیں جن میں سے 7 کا تعلق کراچی سے ہے ۔ اہلِ خانہ کے مطابق جہاز میں خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، یرغمالیوں کو صرف تھوڑے سے اُبلے ہوئے چاول دیے جا رہے ہیں جبکہ پینے کے لیے آلودہ اور زنگ آلود پانی فراہم کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کا فرض ہے کہ اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر تمام ممکنہ ذراءع استعمال کرے ۔ جماعت اسلامی اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہتی، تاہم اگر حکومت نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کیں تو جماعت اسلامی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہر سطح پر آواز بلند کرے گی اور احتجاج سمیت ہر جمہوری آپشن استعمال کیا جائے گا ۔ ضروری ہے کہ انسانی المیے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھے اور یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے ۔ پریس کانفرنس میں قائم مقام امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقیاور بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے کراچی کے شہریوں کے اہل خانہ بھی موجود تھے ، جن میں خواتین بھی شامل تھیں ، قبل ازیں یرغمالیوں کے اہل خانہ نے ادارہ نور حق میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ملاقات کی اور ان کے پیاروں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے آگاہ کیا ، حافظ نعیم الرحمن نے اہل خانہ سے بھر پور اظہار یکجہتی و ہمدردی اور جماعت اسلامی کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور حکومت سے یر غمالیوں کی بازیابی کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ۔



