بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم الرحمن
1گھنٹہ پہلے
بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم الرحمن
سات دہائیوں سے مسلط طبقہ ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے،
نوجوان منظم اور متحد ہوجائیں، ہجوم انقلاب نہیں لاسکتے، امیر جماعت اسلامی کا مردان میں بنو قابل تقریب سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں سے مسلط طبقہ ملک کا سب سے بڑا المیہ ہے، بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،نوجوان اپنے حق کے لیے متحد اور منظم ہوجائیں، ہجوم کبھی انقلاب نہیں لاتے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت بنوقابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں طلبا وطالبات نے بنوقابل مفت آئی ٹی تربیت میں داخلہ کے لیے امتحان دیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر عطاء الرحمن، امیر کے پی کے وسطی عبدالواسع، سیکرٹری جنرل الخدمت فاؤنڈیشن وقاص انجم جعفری اور صدر الخدمت کے پی کے خالد وقاص چمکنی نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے جماعت اسلامی مردان اور الخدمت کی ٹیم کو کامیاب ٹیسٹ کے انعقاد پر مبارکباد دی اور طلباوطالبات کو یقین دلایا کہ انہیں امتحان پاس کرنے کی صورت میں تمام تربیتی کورسز مفت کرائے جائیں گے۔ یاد رہے کہ امیر جماعت اسلامی نے مردان میں بنوقابل پروگرام کا افتتاح کرکے اب تک ملک بھر کے چھیاسٹھ شہروں میں مفت آئی تربیت کی فراہمی کی بنیاد رکھ دی ہے، اس طرح بنو قابل حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا مفت آئی ٹی تربیتی پروگرام بن گیا ہے جس میں تاحال رجسٹرڈ طلبا وطالبات کی تعداد پندرہ لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ کئی لاکھ بچے اور بچیاں تربیتی کورسز مکمل کرچکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت نے بنوقابل کو وسعت دے کر اسے زی-کنیکٹ (Z-Connect) پروگرام میں تبدیل کردیا ہے، نئی نسل کو اس جامع پروگرام کے تحت نہ صرف مفت آئی ٹی تربیت دی جائے گی بلکہ اس پروگرام میں ہنر سیکھنے، کھیلوں کے فروغ، اخلاقی تربیت اور اپنے کاروبار کے آغاز کے لیے چھوٹے قرضوں کی فراہمی کے اقدامات بھی شامل کرلیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہی، ملک میں پونے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، ملک مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہے، زراعت، تعلیم، صحت سمیت ہر شعبہ زوال پزیر ہے، حکمرانوں کی اپنی عیاشیاں ختم نہیں ہورہی ہیں، مریم نواز نے اپنے لیے گیارہ ارب کا جہاز خرید لیا، چیئرمین سینٹ کے لیے نوکروڑ کی گاڑی لے لی گئی، عوام کا خون نچوڑا جارہا ہے، حکومت ایک لیٹر پٹرول پر ایک سو بیس روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے، یہ ظلم بند ہونا چاہیے، نوجوان تعلیم اور ہنر بھی حاصل کریں اور عوام کے حقوق کے تحفظ اور ظالمانہ نظام سے چھٹکارا کے لیے جماعت اسلامی کا بھی ساتھ دیں، نوجوان خود مایوس ہونے کی بجائے مسلط طبقے کو مایوس کریں۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ حکمرانوں نے تعلیم کو طبقاتی بنا دیا ہے، مفت اور بہترین تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر جاگیردار، وڈیرے عام نوجوان کو یہ حق دینے کو تیار نہیں، ان کے اپنے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، یہاں سکولوں میں بنیادی سہولیات دستیاب نہیں۔ مسلط اشرافیہ قوم کو صوبائی اور نسلی تعصبات پر تقسیم کرتی ہے، نوجوان ان تعصبات میں نہ پڑیں، اپنے دین اور ملک سے محبت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مسلکی تعصبات سے بالاتر جماعت ہے، جماعت اسلامی پوری پاکستانی قوم اور ملت اسلامیہ کی نمائندگی کرتی ہے، نوجوان جماعت اسلامی میں شامل ہوکر فرسودہ نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کریں۔



