ملک بھر میں اہلِ ایمان سے اپیل کی ہے کہ ماہِ محرم الحرام کا پورے عقیدت و احترام سے استقبال کریں،
10گھنٹے پہلے
مشترکہ اعلامیہ
اجلاس مرکزی مجلسِ عاملہ ، مِلّی یکجہتی کونسل پاکستان
ملک بھر میں اہلِ ایمان سے اپیل کی ہے کہ ماہِ محرم الحرام کا پورے عقیدت و احترام سے استقبال کریں،
وفاقی شرعی عدالت کے سُود کے خاتمہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کے لئے شہباز شریف حکومت کسی قسم کا روڈمیپ دینے میں ناکام ہے
ریاستِ آزاد جموں و کشمیر میں احتجاج اور اُس کے خلاف ریاست کا بےمہاباں طاقت کا استعمال انتہائی تشویش ناک ہے
مِلّی یکجہتی کونسل پاکستان کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کی صدارت میں منعقد ہوا، لیاقت بلوچ، سیّد ناصر شیرازی، عبدالغفار روپڑی، قاری یعقوب شیخ، پیر صفدر گیلانی، علامہ زاہد محمود قاسمی، میر آصف اکبر، نزیر احمد جنجوعہ، نثار ترمذی، حافظ محمد اسلم، قاضی شاہد حمید، رضاء الحق، چوہدری گلزار احمد، حافظ عبد الوحید روپڑی ،سید عبد الوحید شاہ،غلام شبیر قادری، لطیف الرحمن شاہ، فرحان شوکت ہنجرا، اسرار احمد نعیمی نے اجلاس میں شرکت کی۔ مِلی یکجہتی کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مِلی یکجہتی کونسل تمام دینی، مسلکی جماعتوں کا مشترکہ غیرانتخابی قومی پلیٹ فارم ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی وحدت اور اتحادِ اُمّت کی جدوجہد ہی ملی یکجہتی کونسل کے مشترکہ مقاصد ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں اعلان کیا گیا ہے کہ
• پاکستان اسلامی جمہوری نظریاتی مملکت ہے، قرآن و سُنّت کی بالادستی پر مبنی نظامِ مصطفٰیﷺ کا قیام ہی پاکستان کی طاقت اور اصل بنیاد ہے۔ حکمران آئین سے انحراف بند کریں، قرآن و سُنّت کی بالادستی عملاً قبول کریں اور قرآن و سُنّت سے متصادم ہر طرح کی قانون سازی سے باز رہیں۔ عدل و انصاف عوام کا حق ہے، عدلیہ کی آزادی اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم قیامِ پاکستان کے اہم مقاصد کا حصہ ہیں۔ مِلّی یکجہتی کونسل آئین کی فرمانروائی، عدل و انصاف کے نظام کے قیام کی جدوجہد جاری رکھے گی۔
• مِلّی یکجہتی کونسل کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس نے ملک بھر میں اہلِ ایمان سے اپیل کی ہے کہ ماہِ محرم الحرام کا پورے عقیدت و احترام سے استقبال کریں، سانحہ کربلا، شہادتِ امام حسینؓ اور خانوادہ رسول اللہﷺ کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے باہمی احترام اور مشترکہ مقدسات کی حفاظت کے جذبوں سے کام لیں۔ خطباء، واعظین اور ذاکرین شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد کو اتحادِ اُمّت کا ذریعہ بنائیں اور کسی بھی دِل آزار اور باہمی احترام کے رشتوں کو توڑنے والے اقدام کا مشترکہ طور پر سدّباب کیا جائے، خصوصاً مِلّی یکجہتی کونسل کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق کی پابندی کی جائے۔ مِلّی یکجہتی کونسل کی صوبائی تنظیموں کو ماہِ محرم کے آغاز کے ساتھ ہی صوبائی مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔
• قومی معیشت کا بحران امیر کرپٹ اشرافیہ کے لئے مراعات کی چراگاہ اور غریب متوسط طبقہ کے عوام کے لئے موت کا کھیل بن گیا ہے۔ قومی بجٹ 2026-27ء ماضی کی خرابیوں، ناکامیوں، نااہلیوں اور عوام دشمنی کا تسلسل ہے، جس کے نتیجے میں قرضوں، سُود کی لعنت، مہنگائی، بے روزگاری کا بوجھ بڑھے گا، عالمی استعماری مالیاتی اداروں کا شکنجہ مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ قومی میزانیہ زراعت، صنعت، تجارت، گھریلو صنعت کے لئے مطلوبہ ریلیف دینے میں ناکام ہے۔ قرضوں سے نجات، سُود کے خاتمہ، کرپشن سے نجات اور سرکاری اداروں، نظامِ حکومت سے عیاشی، مفت خوری، بدانتظامی کے خاتمہ کا کوئی لائحہ عمل نہیں۔ المیہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے سُود کے خاتمہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کے لئے شہباز شریف حکومت کسی قسم کا روڈمیپ دینے میں ناکام ہے۔ مِلّی یکجہتی کونسل کا پختہ عقیدہ اور مطالبہ ہے کہ اسلامی معاشی نظام خودداری، خودانحصاری، امانت و دیانت پر مبنی نظام ہے اور قومی معیشت کو بحرانوں سے نجات دے سکتا ہے۔ قومی میثاقِ معیشت پر قومی قیادت کو یک آواز بنانے کے لئے وزیراعظم عملی ماحول بنائیں۔
• ملک میں سیاسی بحران انتہائی گھمبیر ہوگیا ہے، سیاست بندگلی میں ہے، قومی سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ بند ہے، ہائبرڈ نظام سیاست، جمہوریت، عوامی حقوق اور عوام کے لئے مساویانہ نظام قائم کرنے میں بہت بڑی رُکاوٹ اور انتہائی مہلک بن گیا ہے۔ سِول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی میں سیاست، جمہوریت، انتخابات، قومی وحدت دم توڑ رہے ہیں۔ آئین اور قانون کی فرمانروائی، نظام اور قیادت کی تبدیلی کے لئے شفاف، غیرجانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے قومی سیاسی جمہوری قیادت ماضی کی غلطیوں، خطاؤں کا ازالہ کرے، قومی ڈائیلاگ اور قومی ترجیحات پر مشترکہ مؤقف اختیار کرے۔
• ریاستِ آزاد جموں و کشمیر میں احتجاج اور اُس کے خلاف ریاست کا بےمہاباں طاقت کا استعمال انتہائی تشویش ناک ہے، پوری قوم بڑی تشویش میں مبتلا ہے۔ احتجاج اور پُرامن احتجاج عوام کا آئینی، جمہوری ، بنیادی حق ہے۔ ریاست عوام کی آواز سُننے کی بجائے اندھی بہری طاقت کا استعمال کرے تو تشویش، نفرت اور دِلوں کا پھٹنا فطری عمل ہے۔ ریاستِ جموں و کشمیر کے عوام کی ہمیشہ پاکستان سے پائیدار اور لازوال وابستگی رہی ہے۔ پاکستان میں بھی اسلوبِ حکومت عوام میں شدید ناراضگی پیدا کرچکا ہے۔
• آزاد کشمیر کی قیادت نے بیس کیمپ کا بنیادی فرض ادا نہیں کیا بلکہ اُن کی ناہلی، سیاسی بے وفائی، طاقت ور مراکز کی آلہ کاری اور تحریکِ آزادی کشمیر کے مقدس فرض سے انحراف نے ہی عوام میں گلے سڑے نظام سے نفرت اور احتجاج کو طاقت ور آواز بنادیا ہے۔ جموں، ویلی کے مہاجرین کی نشستیں اسٹریٹیجک اہمیت رکھتی ہیں لیکن 12 نشستوں کے لئے انتخاب کا انعقاد مشکوک اور متنازع بنادیا گیا ہے۔ مِلّی یکجہتی کونسل پورے خطہ جموں و کشمیر کی آزادی کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، ریاستِ جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان تحریکِ آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج تاریخ ساز ہے لیکن ڈائیلاگ کا راستہ ترک کرکے پُرتشدّد احتجاج بند کیا جائے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرے اور حکومت عوام کے اختلافی جذبات کو سُننے کا حوصلہ پیدا کرے۔ قومی قیادت آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنا قومی کردار ادا کرے۔
• اجلاس معرکہ حق کی عظیم کامیابی اور ایران، امریکہ کے درمیان ثالثی کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے اور اِسے پوری قوم کے لئے عزت کا اعزاز گردانتا ہے۔ امریکہ، ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہونا پوری دُنیا، عالمِ اسلام بالخصوص خطہ کے عوام کے لئے بڑا ریلیف لاسکتا ہے۔ امریکہ نے صیہونیت، اسرائیلی ناجائز وجود کی سرپرستی کرکے غزہ میں معصوم فلسطینیوں کی نسل کُشی، اُن کے املاک کو تباہ کرنے کی حمایت کی اور ایران پر ناجائز، ناکام جارحیت کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای شہید کو ٹارگٹ بناکر قتل کرنا بدترین جنگی جرم اور عالمی جنگی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی تھی لیکن ایران کے بہادر، غیور عوام نے تاریخ ساز، بےمثال استقامت اور وحدت کا مظاہرہ کرکے امریکہ، اسرائیل کے دانت کھٹے کئے اور دونوں دجالی، شیطانی قوتوں کو شکست سے دوچار کرکے مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کردیا۔ امریکہ و یورپ 47 سال سے ایران پر مسلّط ناجائز پابندیاں ختم کریں، ایران کی آزادی و خودمختاری اور دیگر آزاد اقوام کی طرح اپنے ملک کا نظام چلانے کا اُن کا حق تسلیم کیا جائے۔
• جنگ بندی کے بعد امریکہ، ایران معاہدہ عالمی منظرنامے کو تبدیل کردے گا۔ پاکستان کے لئے انتہائی مفید اور پائیدار راستہ ہے کہ خطہ میں ایران سے تجارتی، علاقائی برادرانہ تعلقات کو مضبوط کیا جائے، افغانستان سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے سفارتی کوششوں کو تیز اور نتیجہ خیز بنایا جائے، خطہ میں پاکستان، ایران، افغانستان کا ایک پیج پر ہونا تینوں ممالک کے عوام اور پورے خطہ میں امن و استحکام کے لئے ناگزیر ہے۔ افغانستان کی طالبان قیادت اپنے اسلوبِ حکمرانی پر نظرثانی کرے، امریکہ، انڈیا، اسرائیل نہیں اُمّت سے جُڑنا اور خطہ میں پائیدار امن قائم کرنا اُن کی دینی، انسانی، اخلاقی ذمہ داری ہے۔
• خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی، بیرونی مداخلت اور بے گناہ انسانوں کی جانوں کے ضیاع نیز افواجِ پاکستان کے جوانوں اور افسران کی شہادتوں کو عظیم قومی سرمایہ اور نقصان گردانتے ہوئے مِلّی یکجہتی کونسل کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عوام کا اعتماد بحال کیا جائے، لاپتہ افراد کو آئین و قانون کے مطابق بازیاب کیا جائے اور دہشت گردی کے خاتمہ، ملک دشمن قوتوں کی مداخلت کے سدّباب کے لئے وزیراعظم اور سکیورٹی فورسز متفقہ قومی ایکشن پلان پر متفق ہوں، نیز مدارس، مساجد، امام بارگاہوں اور دینی قیادت پر ناروا بندشیں ختم کی جائیں؛ حکومت مذہب بےزار سیکولر خفیہ قوتوں کے حصار سے باہر آئے۔



