News Detail Banner

ملک میں موجود فرسودہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام کا متبادل اسلامی نظام ہےٗ حافظ نعیم الرحمن

5گھنٹے پہلے

ملک میں موجود فرسودہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام کا متبادل اسلامی نظام ہےٗ حافظ نعیم الرحمن
جماعت اسلامی سازشوں، خفیہ راستوں یا بندوق کی نوک پر تبدیلی کی قائل نہیں بلکہ رائے عامہ کے ذریعے انقلاب لانا چاہتی ہے
جماعت اسلامی ملک گیر سطح پر نوجوانوں کو منظم کر کے تنظیم، تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے تینوں محاذوں پر بیک وقت کام کررہی ہے۔تربیتی نشست سے خطاب
تربیتی نشست سے ڈاکٹر حفیظ الرحمن،سیف الدین ایڈوکیٹ،کامران سراج،اسد اعجاز،حافظ عبد الواحد شیخ ودیگر نے بھی خطاب کیا

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اقامتِ دین کی تحریک ہے۔ اقامتِ دین کے لیے پوری یکسوئی، استقامت اور اخلاص کے ساتھ جدوجہد کی ضرورت ہے،نظام کا متبادل نظام ہی ہوسکتا ہے،ملک میں موجود فرسودہ، ظالمانہ اور استحصالی نظام کا متبادل اسلامی نظام ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے،جماعت اسلامی سازشوں، خفیہ راستوں یا بندوق کی نوک پر تبدیلی کی قائل نہیں بلکہ عوام کے دل و دماغ روشن کرکے، ان کی فکری تربیت کرکے اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے انقلاب لانا چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی ملک گیر سطح پر نوجوانوں کو منظم کر کے تنظیم، تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے تینوں محاذوں پر بیک وقت کام کررہی ہے۔اصلاحِ معاشرہ کا مطلب صرف اخلاقی اصلاح نہیں بلکہ معاشرے میں موجود ظلم، ناانصافی اور زیادتیوں کے خلاف جدوجہد بھی ہے۔ اگر کوئی ادارہ عوام کے حقوق سلب کرے یا ان کے ساتھ زیادتی کرے تو اس کے خلاف آواز بلند کرنا اور مزاحمت کرنا بھی اصلاحِ معاشرہ کا حصہ ہے۔ یہ ایک ہمہ جہت عمل ہے جس کے تمام پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس کے لیے اجتماعیت ناگزیر ہے۔جب جماعت اسلامی عوامی حقوق کی بات کرتی ہے تو بعض نام نہاد دانشور اعتراض کرتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں،صرف ووٹ حاصل کرلینا کافی نہیں بلکہ کارکنان کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے کارکنان تیار کرنے ہیں جو نہ صرف ووٹ ڈالیں بلکہ ووٹ کا تحفظ بھی کریں، عوام کے درمیان موجود رہیں اور اقامتِ دین کے مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد قباء، فیڈرل بی ایریا بلاک 13 میں منعقدہ ایک روزہ تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نشست میں جماعت اسلامی کے کارکنان، ذمہ داران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔نشست سے صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے فلسطین،اقوام عالم کا کردارکے موضوع پرتفصیلی گفتگو کی اور شرکا ء کی جانب سے سوالات کے جوابات بھی دیے،نائب امیرجماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے عوام تک رسائی کے مؤثر ذرائع کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے سے صدارتی خطاب کیا۔امیر ضلع وسطی گلبرگ کامران سراج نے بھی خطاب کیا،نائب امیر ضلع جنوبی اسد اعجاز نے دور حاضر، دعوت کے جدید ذرائع کے موضوع پر خطاب کیاجبکہ سابق امیر ضلع جنوبی حافظ عبد الواحد شیخ نے درس قرآن پیش کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان جو بھی کام کریں وہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کریں اور ہر خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دیں۔ خدمت خلق کے کاموں میں ریاکاری اور نمود و نمائش نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دکھاوے سے اعمال ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بالخصوص فلسطین کے مظلوم عوام کی امداد اور خدمت میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو صرف نماز، روزے اور چند انفرادی عبادات سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا، لیکن جب اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو باطل قوتیں پریشان ہوجاتی ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒنے دین کے غلبے اور اقامتِ دین کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا اور واضح کیا کہ اسلامی نظام کا مقصد کسی قوم یا مذہب کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عدل، انصاف اور انسانیت کی فلاح پر مبنی نظام کا قیام ہے۔ دین کو صحیح انداز میں پیش نہ کیے جانے کے باعث بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، جنہیں مولانا مودودیؒ نے اپنی تحریروں، فکر اور جدوجہد کے ذریعے دور کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر مذہبی طبقہ ہی دین کا سودا کرنے لگے تو عوام کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے لوگوں کے اذہان کی آبیاری کی اور ایک ایسی عالمگیر تحریک کی بنیاد رکھی جو صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عرب و عجم سمیت پوری دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ اسلام صرف غالب ہونے اور زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے آیا ہے۔ اسلام صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج تک محدود نہیں بلکہ سیاست، معیشت، عدل و انصاف اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مولانا مودودیؒ نے یہ طریقہ کار متعین کیا کہ لوگوں کو منظم کیا جائے، انہیں دین کی درست تعلیمات سے آگاہ کیا جائے اور رائے عامہ کی طاقت کے ذریعے اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کی جائے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اندر تنوع موجود ہے اور اسلامی جمعیت طلبہ سمیت مختلف ذیلی تنظیمیں اسی مشن کی تکمیل میں معاون کردار ادا کررہی ہیں۔ معاشرے میں مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کی جائے اور نااہل و کرپٹ حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کی جائے۔