ن لیگ ، پی پی آزاد کشمیر میں فارم سنتالیس کے چھیچھڑوں پر لڑ رہی ہیں، حافظ نعیم الرحمن
8گھنٹے پہلے
ن لیگ ، پی پی آزاد کشمیر میں فارم سنتالیس کے چھیچھڑوں پر لڑ رہی ہیں، حافظ نعیم الرحمن
سات اگست کو پٹرولیم لیوی کے خلاف عوامی حقوق کی جنگ ہوگی
حکمرانوں نے غریبوں پر تعلیم کے دروازے بند کردیے، الخدمت امید کی کرن بن گئی، امیر جماعت اسلامی ہاکستان کا بنو قابل تقریب سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے آزاد کشمیر میں ہمارے نوجوانوں کا خون بہہ رہا ہے جب کہ ن لیگ اور پی پی میں فارم سنتالیس کی صورت میں پھینکے گئے چھیچھڑوں پر لڑائی ہورہی ہے۔ پٹرولیم لیوی بھتہ کے خلاف سات اگست کا ملک گیر احتجاج عوامی حقوق کی جنگ ہے ، مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور ظالمانہ ٹیکسوں کے ستائے لوگ مزید خاموش نہیں رہیں گے۔ حکمرانوں نے غریب پر تعلیم کے دروازے بند کردیے ، بنوقابل ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن بن گیا۔
ان خیالات کا اظہار ملتان میں الخدمت فاؤنڈیشن کے بنو قابل پروگرام کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، قیم پنجاب جنوبی ثنا اللہ ، امیر ضلع صہیب عمار صدیقی ، صدر الخدمت پنجاب جنوبی احمد عمار یاسر، صدر الخدمت ملتان سید عبدالقادر شاہ نے بھی خطاب کیا۔ کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد تقریب میں شریک تھی۔ امیر جماعت اسلامی نے طلبہ کے تیار کردہ مختلف منصوبوں کے سٹالز کا دورہ بھی کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 7 اگست کو تمام اضلاع کو جوڑنے والی سڑکیں بند ہوں گی، لاکھوں نوجوان موٹر سائیکلوں کو سڑکوں پر لا کر بند کریں گے ، انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج ہمیشہ کی طرح پرامن ہوگا ، یہ جمہوری جدوجہد اور پرامن مزاحمت ہے ، عوام گھروں سے نکل کر پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کا حصہ بنے۔ حکومت پر ایک دفعہ پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آئینی حدود کے اندر ہماری پرامن مزاحمت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرول پر عائد لیوی عوام سے جگا ٹیکس وصول کرنے کے مترادف ہے ، ایک موٹرسائیکل سوار بھی ایک لیٹر پٹرول پر 125 روپے سے زائد ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسے ریفائنریوں کی بہتری کے نام پر نافذ کیا گیا تھا، مگر حکومت اس مد میں تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے وصول کر چکی ہے۔ جن افراد پر براہِ راست ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، ان سے بھی بالواسطہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ عوام پہلے ہی پٹرول اور بجلی کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب واسا کے بل بھی ان پر مسلط کیے جا رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کی 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ 18 ہزار ارب روپے کے قومی بجٹ میں سے آٹھ ہزار ارب روپے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک کو سودی نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے بنو قابل پروگرام سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو جدید مہارتیں اور بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔ جو نوجوان مزید کورسز کرنا چاہتے ہیں، جماعت اسلامی انہیں بھی مفت تربیت فراہم کرے گی۔ تقریب میں نوجوانوں کے تیار کردہ منصوبے دیکھ کر خوشی ہوئی اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا تعلیمی نظام صرف صاحبِ حیثیت طبقے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جبکہ غریب والدین اپنے پیٹ کاٹ کر بچوں کو تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں۔ ملتان میں دو لاکھ ساٹھ ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو حکومتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ عوام کو مفت اور معیاری تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، مگر حکمران عوام کے حقوق غصب کرنے میں مصروف ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گزشتہ 78 برس سے ایک مخصوص اشرافیہ اقتدار پر قابض ہے، جو صرف جماعتیں بدل کر حکومت کرتی رہی ہے۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور جرنیلوں نے ایک ایسا گٹھ جوڑ قائم کر رکھا ہے جس نے تعلیم سمیت ہر شعبے کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ ملک میں تعلیم کو طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کر دیا گیا ہے اور 90 فیصد نوجوانوں کو پہلے ہی مقابلے کی دوڑ سے باہر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بنو قابل پروگرام سے مستفید ہونے والے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم اور مہارت دوسروں تک بھی منتقل کریں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بنو قابل پروگرام کے تحت مفت تعلیم فراہم کر کے جماعت اسلامی نے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اگر ایک فلاحی ادارہ یہ کام کر سکتا ہے تو حکومت کیوں نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مفت اور معیاری تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے، خیرات نہیں۔
انہوں نے پنجاب حکومت کی سکولوں کی فروخت کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مزید 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں جبکہ کالجوں اور بنیادی مراکز صحت کو بھی نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ جب حکومت عوام کو تعلیم نہیں دے سکتی تو پھر عوام ہی ایسے حکمرانوں کو "آؤٹ سورس" کر دیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایک طرف لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب اربوں روپے کا نیا طیارہ خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران مسلسل عوام کا استحصال کر رہے ہیں، تاہم جماعت اسلامی گالی اور گولی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ آئینی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے عوام کے حقوق کی جنگ لڑتی رہے گی۔



