کسان بورڈ نے7 اگست کو پٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف سڑکیں بند کرنے کا اعلان کر دیا
1دن پہلے
کسان بورڈ نے7 اگست کو پٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف سڑکیں بند کرنے کا اعلان کر دیا
کسان سڑکوں پر موجود ہوں گے تمام کسان تنظیموں کو اس احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں
گندم کے بحران کے ذمہ داران وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز ہیں۔
سردار ظفر حسین کی منصورہ میں پریس کانفرنس
کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین نے 7 اگست کوامیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں ان پر لیوی ٹیکس کے خاتمے کے لیے 7 اگست کو ملک بھر کی تمام سڑکوں کو بند کرنے کے اعلان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام کسان تنظیموں کو اس احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر کسان بورڈ پاکستان کے نائب صدر چوہدری اعجاز ایڈووکیٹ،کسان بورڈ وسطی پنجاب کے صدر میاں رشید منہالہ اور چیف آرگنائزر چوہدری اختر فاروق مئیو بھی موجود تھے۔
سردار ظفر حسین نے کہا کہ ملک بھر کے کسانوں میں ڈیزل،پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے زرعی مشینری کے استعمال کی لاگت کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کسان بورڈ پاکستان نے بہت پہلے حکومت اور اداروں پر واضح کر دیا تھا کہ گندم کی سپورٹ پرائس کا اعلان کیا جائے اس پر حکومت نے گندم کی فی من قیمت3900 روپے مقرر کرنے کا اعلان کر کے اپنا فیصلہ واپس لیا جس سے ذراعت اور کاشتکاروں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔کسان دشمن پالیسی کا یہ نتیجہ یہ نکلا کہ گندم کم رقبے پر کاشت ہوئی۔
سردار ظفر حسین نے کہا کہ گندم کے بحران کے ذمہ داران وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز ہیں۔اب بیرون ملک سے 10 ٹن گندم منگوانا پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے باعث شرم کا مقام ہے۔جس کے ذمہ دار موجودہ حکمران ہیں۔بھارت کے صوبہ پنجاب میں کسان خوشحال اور پاکستان کے صوبہ پنجاب و دیگر صوبوں کے کسان بدحالی کا شکار ہو گئے ہیں۔بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کسانوں اور عوام کے لیے پاور پلانٹ خرید کر 600 یونٹ بجلی فری کر دی اور ہماری وزیر اعلیٰ پنجاب نے 11 ارب کا جہاز خرید کر عوام کے زخموں پر نما پاشی کی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہر فصل کی کاشت سے قبل اس کی امدادی قیمت کا تعین کیا جائے تاکہ کسان یکسوئی کے ساتھ فصلیں کاشت کر سکیں۔کسانوں کی فصلوں سے ہر کاروباری طبقہ منافع کما رہا ہے کسانوں سے 3500 روپے فی من گندم خرید کر اب گندم مافیا 5000 روپے فی من میں گندم فروخت کر رہا ہے جبکہ آٹا مافیا 6000روپے فی من میں آٹا فروخت کر رہا ہے لیکن حکومت اور ادارے آٹا اور گندم مافیا کو سپوٹ کر رہے ہیں۔



