حافظ نعیم الرحمن کا پٹرولیم لیوی کے خلاف چاروں صوبائی ہیڈکوارٹرز پر دھرنوں کا اعلان
8دن پہلے
حافظ نعیم الرحمن کا پٹرولیم لیوی کے خلاف چاروں صوبائی ہیڈکوارٹرز پر دھرنوں کا اعلان
حکومت جان لے جمعہ کا پانچ سو دس مقامات پر تاریخی احتجاج ریہرسل تھا
پنجاب ، سندھ ، کے پی اور بلوچستان کے سپوتوں کو احتجاج کرنے پر سلام پیشں کرتے ہیں، امیر جماعت اسلامی کا قرطبہ چوک پر دھرنا سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جمعہ (آج) کے تاریخی احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے اتوار کو سندھ ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے گورنر ہاؤسز اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔ قرطبہ چوک پر بڑے عوامی دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پٹرولیم لیوی کے نام پر بھتہ کسی صورت قبول نہیں ، جمعہ کو پانچ سو دس مقامات پر احتجاج ریہرسل تھا، ایک دن کے وقفے کے بعد چاروں صوبائی ہیڈکوارٹرز پر دھرنوں کا آغاز ہوگا اور عوام اسی صورت میں واپس جائیں گے جب پٹرولیم لیوی ختم ہوگی، فارم سنتالیسں سے مسلط حکمران عوام کے کلیجوں پر مونگ دل رہے ہیں، قوم کے دھتکارے ہوئے لوگ مسلط ہوکر سسٹم کے فیل ہونے کی باتیں کررہے ہیں، مسلط ہونے کی روایت انگریز دور سے شروع ہوئی اور سات دہائیوں سے انگریزوں کے وفاداروں کی صورت میں چلی آرہی ہے، مسلسل کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام بدبودار اور فرسودہ ہے، اسے جڑ سے اکھاڑنا ہوگا، نظام چلانے والے اپنی ناکامی کا اعتراف کریں۔ دھرنا سے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری اور اظہر بلال نے بھی خطاب کیا۔ ڈپٹی سیکرٹری رسل خان بابر، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی ، صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی ، اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے ناظم عبداللہ عباس ،جمعیت طلبہ عربیہ کے ناظم اور دیگر قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اس وقت کراچی کے ساحلوں سے لے کر لاہور سمیت ملک بھر میں سیکڑوں مقامات پر عوام سڑکوں پر موجود ہیں اور جماعت اسلامی کی دی گئی چار بجے کی کال پر تھرپارکر جیسے دور دراز علاقوں سے بھی لوگ نماز جمعہ ہی سے قبل احتجاج کے لیے نکل آئے۔ بلوچستان میں حالات خراب ہونے کے باوجود 18 کے بجائے 21 مقامات پر احتجاج ہوا، جو عوامی اعتماد کا مظہر ہے۔عوام کے حق کے لیے آواز بلند کرنے والے پنجاب، سندھ ، کے پی اور بلوچستان کے سپوتوں کو سلام، جماعت اسلامی کے گرفتار رہنماؤں اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔ انہوں نے جمعیت علماء اسلام ، پاکستان تحریک انصاف ، اے این پی ، لاہور بار اور دیگر کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی قسم کی تفریق پر یقین نہیں رکھتی بلکہ پوری قوم کو ایک لڑی میں پرونے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ قبضہ مافیا، جاگیردارانہ سیاست اور استحصالی نظام کے خلاف متحد ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہیں عوام نے انتخابات میں مسترد کر دیا، وہی آج سسٹم کی ناکامی کا رونا رو رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی دور میں قائم کیا گیا یہی فرسودہ نظام عوام کو کبھی ریلیف فراہم نہیں کر سکا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ نومبر مینار پاکستان کے جلسے میں بھی سوال اٹھایا تھا کہ حکمرانوں نے عوام کے لیے کیا کیا؟ بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں کو اب تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت چلانے میں ناکامی کے بعد خود حکمران طبقہ سسٹم کی ناکامی کا اعتراف کر رہا ہے، جبکہ سسٹم صرف انتظامی حد بندیوں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو انگریز نے اپنے وفادار جاگیرداروں اور وڈیروں کے ذریعے اس خطے پر مسلط کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی نام نہاد اشرافیہ پارٹیاں بدل بدل کر دہائیوں سے عوام پر حکمرانی کرتی آ رہی ہے اور اس نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج پورا پاکستان نظم و ضبط کے ساتھ سڑکوں پر نکلا، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے کسی ایمبولینس یا مریض کا راستہ نہیں روکا، کیونکہ یہ احتجاج عوام کے حقوق کے لیے ہے، نہ کہ عوام کو تکلیف پہنچانے کے لیے۔
انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مافیا عوام پر مسلط ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوا تو حکومت نے اس سے کہیں زیادہ قیمتیں بڑھا دیں اور اس کے ساتھ پٹرولیم لیوی بھی بڑھا دی، لیکن جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں تو معمولی کمی کر کے عوام کو ریلیف دینے سے گریز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں خام تیل تقریباً 74 ڈالر فی بیرل ہے، مگر اس کے باوجود عوام کو تقریباً 333 روپے فی لیٹر پٹرول فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی قیمت کہیں کم ہونی چاہیے تھی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران عوام سے ناجائز ٹیکس اور لیوی وصول کر رہے ہیں، ایف بی آر کی کرپشن اور ناکامی چھپانے کے لیے پٹرولیم لیوی کا سہارا لیا گیا۔ ان کے مطابق اب تک لیوی کی مد میں آٹھ ہزار ارب روپے سے زائد وصول کیے جا چکے ہیں، مگر اس رقم میں سے ایک روپیہ بھی ریفائنریوں کی بہتری پر خرچ نہیں کیا گیا۔ حکومتوں نے پٹرولیم لیوی کو عوام سے پیسہ بٹورنے کا ذریعہ بنایا ہے، اس لیے وزیراعظم شہباز شریف کو اب پیچھے ہٹنا ہوگا اور لیوی ختم کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ غریب، مزدور، کسان، رکشہ ڈرائیور اور طالب علم پر مسلسل ظلم کیا جا رہا ہے، جبکہ اشرافیہ اپنی مراعات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدنے سے پہلے آئی ایم ایف سے اجازت لی؟ کیا چیئرمین سینیٹ یا بیوروکریسی کی مہنگی گاڑیاں خریدنے کے لیے آئی ایم ایف سے پوچھا جاتا ہے؟ لیکن جب غریب کو ریلیف دینے کی بات آتی ہے تو آئی ایم ایف کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔
امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ آج غریب آدمی کی تنخواہ سے زیادہ اس کا بجلی کا بل آتا ہے، اس کے بچے پھل تو دور سبزیاں تک نہیں کھا سکتے، جبکہ جاگیرداروں اور طاقتوروں کے بچوں کو کبھی ایسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم بھی طبقات میں تقسیم ہو چکی ہے، ایک طرف اشرافیہ کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں اور دوسری طرف عام آدمی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی جدوجہد کر رہی ہے تاکہ حقیقی تبدیلی اور انقلاب کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے اور ایسی ریاست چاہتی ہے جہاں گولی اور گالی کی سیاست نہ ہو، بلکہ عدل و انصاف، علم، میرٹ اور عوامی خدمت کا نظام قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ریاست صرف بندوق رکھنے والے اداروں کا نام نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا نام ہے، اور یہ ملک اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، اس لیے اس پر نہ کسی جرنیل کی اجارہ داری ہو سکتی ہے اور نہ کسی جاگیردار کی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کو نہ جعلی نشستیں چاہئیں اور نہ کسی طاقتور کی سرپرستی، بلکہ وہ 25 کروڑ عوام کی حقیقی ترجمان بن کر ان کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے حلقہخواتین جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز 41 شہروں میں خواتین نے احتجاج کر کے تاریخ رقم کی اور آئندہ دھرنوں میں بھی خواتین بھرپور شرکت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم 9 اگست کو بھرپور قوت کے ساتھ نکلے گی اور حکومت کو عوام کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔



