پنجاب میں بچے شدید غذائی قلت کا شکار، وزیراعلیٰ نے طیارہ خرید لیا، حافظ نعیم الرحمن
4گھنٹے پہلے
پنجاب میں بچے شدید غذائی قلت کا شکار، وزیراعلیٰ نے طیارہ خرید لیا، حافظ نعیم الرحمن
مسائل کے باوجود حکمرانوں کی عیاشیاں جاری ہیں
حکمرانوں کے پاس عوام کی بہبود کا کوئی پروگرام نہیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اپنے استعمال کے لیے مہنگا اور پرتعیش طیارہ خریدنے اور عوام کی حالت زار کے باوجود حکمران طبقہ کی سرکاری وسائل پر جاری عیاشیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے قومی میڈیا پر ایک ہی روز شائع ہونے والی ایک طرف حکومت پنجاب کے طیارہ خریدنے اور دوسری جانب صوبہ میں غذائی قلت کا شکار بچوں اور خواتین کی تعداد میں شدید اضافہ کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ?یہ دونوں خبریں ایک ہی دن اور ایک ہی صوبے کی ہیں۔ پنجاب جہاں غذائی قلت کا شکار بچوں اور خواتین کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہورہا ہے وہاں کی وزیر اعلٰی کے لیے 10 ارب کی لاگت سے نیا طیارہ خرید لیا گیا ہے۔ ابھی کچھ روز قبل ہی چچا وزیراعظم نے محض دس ارب روپے کی نیٹ رقم میں PIA کا پورا ادارہ بیچا اور خوب جشن منایا اور اب بھتیجی وزیراعلیٰ نے پُرتعیش اڑان کے لیے بہترین جہاز خرید لیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ پنجاب حکومت نے پنجاب کے سرکاری ملازمین کی پنشنز میں کٹوتی کردی ہے۔ ہزاروں سکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز پرائیویٹ کرکے بالآخر جان چھڑائی جارہی ہے لیکن مجال ہے حکمرانوں کی مراعات اور عیاشیوں میں کوئی کمی آئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ملک میں آخری چھ سال میں غربت ?21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.8 فیصد پر پہنچ گئی گویا اصلاً اضافہ 31.5 فیصد ہوا ہے۔ ایک طرف ملکی قرضہ آسمان کو چھو رہا ہے دوسری طرف غربت کا گراف ریکارڈ تیزی سے اوپر جارہا ہے۔ یہ ہے حکمران اتحاد کی رپورٹ کارڈ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آخری 6 سال میں آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت اربوں ڈالرز کا قرض لیا گیا، کھربوں روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریبوں میں تقسیم کے نام پر عملاً فراڈ کیا گیا، مگر نتائج ہولناک ہیں۔صوبائی سطح پر بھی غربت میں اضافے میں تیزی دیکھی گئی۔ درحقیقت ملک کی حکمران جماعتوں کے پاس عوام کی بہبود کا کوئی پروگرام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ پارٹیاں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور ان کی پالیسیاں اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کے گرد گھومتی ہیں۔ انھیں پرتعیش اڑان کے لیے 11 ارب روپے کا طیارہ چاہیے، چاہے قوم کی حالت کچھ بھی ہو۔


