پنجاب میں سب سے زیادہ غربت، تاثر دودھ شہد کی نہروں کا دیا جارہاہے، حافظ نعیم الرحمن
4گھنٹے پہلے
پنجاب میں سب سے زیادہ غربت، تاثر دودھ شہد کی نہروں کا دیا جارہاہے، حافظ نعیم الرحمن
مسلط حکمران طبقات عوام کی طاقت سے خوف زدہ ہیں
عید کے بعد عوام کے حقوق کی جدوجہد میں تیزی لائیں گے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا افطار تقریب سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں سب سے زیادہ غربت ، تاثر دیا جاتا ہے کہ صوبہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ جمہوریت کے دعوے دار خاندان سیاسی پارٹیاں چلاتے ہیں ، مسلط حکمران مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بناتے ، انہیں عوام کی طاقت سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں افطار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا اہتمام جماعت اسلامی لاہور کے رہنما ملک شاہد اسلم نے کیا تھا۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ اور امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔
امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے۔ وزیراعلیٰ نے 11ارب روپے کا جہاز خریدا ہے، اشتہارت میں کارکردگی کے دعوے کیے جاتے ہیں ، زمینی حقائق کا ان دعوؤں سے کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب سمیت پورے ملک میں ہر شعبے کے حالات خراب ہیں۔
توانائی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں نے ایک سال میں آئی پی پیز کے مالکان دو ہزار ارب روپے دیے ، پانچ سو ارب سے پورے ملک میں تعلیم مفت فراہم کی جاسکتی ہے، فارم سنتالیس کے حکمران غیر مقبول بھی ہیں اور انہیں عوام کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ آئی پی پیز کو عوام اس بجلی کے بھی پیسے ادا کر رہے ہیں جو بنتی ہی نہیں، یہ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عید کے بعد عوام کے حقوق کی تحریک میں مزید تیزی لائے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں ہمیں خدا کا خوف رکھنا چاہیے اور رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کا عہد کر کے قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانا ہوگا تاکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حقیقی تبدیلی آ سکے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ صبح شام اللہ کے احکامات توڑتے ہیں مگر دنیا کے سامنے مذہبی بن کر رہتے ہیں، جبکہ دین کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی عملی زندگی میں بھی اللہ کے احکامات کی پابندی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہِ رمضان میں قرآن پاک کے ساتھ جڑ کر زندگی کو بدلا جا سکتا ہے اور پاکستان کی بنیاد ہی اس وعدے پر رکھی گئی تھی کہ یہاں قرآن کا نظام نافذ ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قرآن کے نظام کا مطلب عدل و انصاف ہے، جس کے نفاذ سے کوئی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہیں رہے گا اور کسی کا حق نہیں مارا جا سکے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسلامی نظام کا تقاضا ہے کہ تمام شہریوں کو یکساں مواقع فراہم ہوں اور ظلم کے نظام کو بدلنے کے لیے منظم جدوجہد کی جائے، کیونکہ چند سڑکیں بنانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ظلم کا نظام بدلنے سے ہی حقیقی تبدیلی آتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے زور دیا کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اسے عملی زندگی میں نافذ کرنا ہی دین کی اصل خدمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں نظریے کی بنیاد پر چلتی ہیں، شخصیات کے گرد گھومنے سے نہیں، اور پاکستان میں حالات بدلنے کے لیے حقیقی اور مخلص قیادت کی ضرورت ہے۔


