حافظ نعیم الرحمن کا عید الاضحی کے پہلے روز گلبر گ میں اجتماعی قربانی کے مرکز کا دورہ ٗ صفائی ستھرائی کے انتظامات کا جائزہ لیا
2دن پہلے
*حافظ نعیم الرحمن کا عید الاضحی کے پہلے روز گلبر گ میں اجتماعی قربانی کے مرکز کا دورہ ٗ صفائی ستھرائی کے انتظامات کا جائزہ لیا*
*سندھ میں پیپلزپارٹی کی کرپشن اور نااہلی کا بدترین امتزاج قائم ہوچکا ہے۔حافظ نعیم الرحمن کی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو*
*سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا 43 ارب روپے کا بجٹ ہے شہری روزمرہ کچرا اٹھانے کے لیے بھی پیسے خرچ کرنے پر مجبور ہیں ٗ امیرجماعت اسلامی*
*قربانی کی آلائشیں ٗحکومتی انتظامات انتہائی سست وناکافی، جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز صفائی ستھرائی اور آلائشیں اٹھانے کے انتظامات کررہے ہیں*
*پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رہے گی،عیدالاضحی کے بعد پہیہ جام ہڑتال کی کال بھی دی جائے گی*
*ہم عید الاضحی کے موقع پر اہل غزہ و فلسطین کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرسکتے،ہزاروں مردوں،بچوں وخواتین کی شہادت امت مسلمہ کی طرف سے عظیم قربانی دی ہے*
کراچی /27مئی ( )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے جامع مسجد قباء فیڈرل بی ایریا بلاک 13 گلبرگ میں جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت قائم اجتماعی قربانی کے مرکز کا دورہ کیا اور قربانی کے انتظامات، صفائی ستھرائی اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، امیر ضلع گلبرگ کامران سراج، سکریٹری ضلع سید احمدودیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پوری امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہماری عبادات اور قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی بڑے پیمانے پر قربانی کا عمل جاری ہے اور گلبرگ میں انتہائی نظم و ضبط اور احسن انداز سے احتجاجی قربانی کا فریضہ انجام دیا جارہا ہے۔کراچی اس وقت شدید پانی کے بحران کا شکار ہے لیکن قابض میئر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شہر میں پانی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ گزشتہ 21 برسوں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مختلف ادوار میں حکومت کا حصہ رہے ہیں اور دونوں جماعتیں کراچی کی تباہی کی ذمہ دار ہیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی فارم 47 کی پیداوار ہیں اور دولت کے بل بوتے پر لوگوں کو اسمبلیوں تک پہنچایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی کرپشن اور نااہلی کا بدترین امتزاج قائم ہوچکا ہے۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا 43 ارب روپے کا بجٹ ہونے کے باوجود کراچی کے شہری روزمرہ کچرا اٹھانے کے لیے بھی اپنی جیب سے پیسے خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ قربانی کی آلائشیں اٹھانے کے حوالے سے حکومتی انتظامات انتہائی سست اور ناکافی ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز اپنی مدد آپ کے تحت صفائی ستھرائی اور آلائشیں اٹھانے کے انتظامات کررہے ہیں۔چاروں صوبائی حکومتیں معمولی نوعیت کے منصوبوں پر بھی اربوں روپے کے اشتہارات دیتی ہیں اور یہ تمام رقم عوام کے ٹیکسوں سے خرچ کی جاتی ہے۔ہم عید الاضحی کے موقع پر اہل غزہ و فلسطین کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرسکتے،ہزاروں مردوں، بچوں وخواتین نے پوری امت مسلمہ کی طرف سے عظیم قربانی دی ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل دنیا بھر میں بے نقاب ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے تمام معاہدوں کے باوجود اسرائیل فلسطینیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حکمرانوں نے پیٹرول لیوی کی مد میں عوام سے اتنی رقم وصول کی ہے جو آئی ایم ایف کے دو پروگراموں سے بھی زیادہ ہے، جبکہ صرف آئی پی پیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے پوری قوم کو لوٹا جارہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور عیدالاضحیٰ کے بعد پہیہ جام ہڑتال کی کال بھی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹرمپ کو سلوٹ کیا جاتا ہے اور ان کے لیے نوبل انعام کی سفارش کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی بیانات پر صرف وزیر خارجہ کا ردعمل کافی نہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کریں۔ پاکستان کے عالمی تعلقات اصولوں اور قومی وقار کے مطابق ہونے چاہییں، البتہ اگر کوئی ملک ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے تو اسے خوش آئند سمجھتے ہیں لیکن امریکہ کی بالادستی کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ جماعت اسلامی اور الخدمت کی جانب سے قربانی کے مختلف مراکز پر شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی ہے، جبکہ کراچی میں ڈیڑھ سو سے زائد مقامات پر اجتماعی قربانی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا عوام کے ساتھ مضبوط اور دیرینہ تعلق آج شہریوں کے لیے سہولت اور خدمت کا ذریعہ بن رہا ہے، جبکہ کارکنان اپنی ذاتی مصروفیات ترک کرکے خدمت خلق کے جذبے کے تحت فرائض انجام دے رہے ہیں۔قربانی کی کھالوں سے فلاحی اور رفاہی سرگرمیوں میں مدد ملتی ہے اور بہت سارے مسائل حل ہوتے ہیں، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کھالوں کی مناسب قیمت یقینی بنائے تاکہ فلاحی ادارے اور عوام مستفید ہوسکیں۔#



