حافظ نعیم الرحمن کی مولانا فضل الرحمن ، علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقاتیں
9دن پہلے
حافظ نعیم الرحمن کی مولانا فضل الرحمن ، علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقاتیں
آزاد کشمیر صورتحال میں بہتری کے لیے حکومت آگے بڑھے ، امیر جماعت اسلامی پاکستان
صورتحال میں بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، سربراہ جمعیت علماء اسلام
کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، قائد حزب اختلاف سینٹ
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر سیاسی و مذہبی قیادت سے رابطوں کے سلسلے میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور سینٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقاتیں کیں۔
دونوں قائدین سے اسلام آباد میں الگ الگ ملاقاتوں کے دوران آزاد کشمیر کی صورتحال، مذاکراتی عمل اور حالات کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امیر میاں اسلم، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق خان، معاون امیر جماعت اسلامی میاں عطاء الرحمن، ہیڈ میڈیا سیل سلمان شیخ، سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی جبکہ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر انجینئر ضیاء الرحمن بھی شامل تھے۔
مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال انتہائی پریشان کن ہے، کشمیر کا معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور 80 سال سے ہم ایک پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ حکومت نے عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو بگاڑا، تاہم اب امید پیدا ہوئی ہے کہ بات چیت کے ذریعے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا قدم جس سے حالات مزید خراب ہوں پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا، حکومت آگے بڑھے اور مذاکرات کا آغاز کرے۔ آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کو کبھی ناراض نہیں کیا جا سکتا۔ تمام مؤثر کردار ادا کرنے والے فریقین کو مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے بھی اپیل ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جن سے حالات خراب ہوں، جبکہ کشمیری عوام بھی ایسے اقدامات نہ کریں جن سے دشمن خوش ہو۔ کشمیر میں انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے، اس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے مگر حالات معمول پر لانے ہی سے پرامن انتخابات کا انعقاد ہوسکے گا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن اور وفد کی آمد پر مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے ہمیشہ پاکستان کے پرچم تلے جدوجہد کی ہے اور ہمیں جذبات کے بجائے عقل و دانش سے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کشمیر قیادت کا ایک وفد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا خط لے کر ان کے پاس آیا تھا، جس پر انہوں نے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے وقت مانگا تھا۔ انہوں نے دھرنا ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا، اگرچہ دھرنا برقرار رہا لیکن کوئی اگلا قدم نہیں اٹھایا گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت بھی مشاورت کر رہی ہے، حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے تاکہ ہم اپنا کردار ادا کر سکیں۔ کشمیر کے معاملے پر حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کی بنیاد پر فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے، الیکشن کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے۔
قبل ازیں وفد کے ہمراہ حافظ نعیم الرحمن نے سینٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آزاد کشمیر کے حالات تشویشناک ہیں، ہماری کوشش ہے کہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔ ہر صورت میں امن کو موقع دینا چاہیے، کیونکہ طاقت سے مسئلہ دبانے کے دوررس نتائج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئینی فریم ورک میں رہتے ہوئے ہی بات چیت ہوگی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مثبت رویے کی وجہ سے ہم نے اپنی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔ عوامی مطالبات پر کسی کو اختلاف نہیں، جن امور پر اختلاف ہے وہ بھی مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پہلے ہی بہت نقصان ہو چکا ہے، اب زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ عدم اعتماد کا بڑھنا خطرناک ہے۔ کشمیری ہمیشہ پاکستان کا پرچم لہراتے رہے ہیں اور آزاد کشمیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔



