پٹرول لیوی بھتہ کے خلاف جمعہ کو ملک گیر مظاہرے، دھرنے ہوں گے، حافظ نعیم الرحمن
1گھنٹہ پہلے
پٹرول لیوی بھتہ کے خلاف جمعہ کو ملک گیر مظاہرے، دھرنے ہوں گے، حافظ نعیم الرحمن
غیرملکی خواتین اغوا، ریپ مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے،
پاکستان کے پانیوں پر بھارتی جارحیت کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کی پریس کانفرنس
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جمعہ دس جولائی کو ملک گیر دھرنوں اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے پاکستان کے پانیوں پر بھارتی جارحیت کے مسئلہ کو بھرپور طریقہ سے عالمی فورمز پر اٹھانے، ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ پر کام کے فوری آغاز اور ایران سے باضابطہ تجارت کے آغاز کے مطالبات کیے۔ حافظ نعیم الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی خواتین کے اغوا اور ریپ کیس کا مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے اور حکومت فوری طور پر آزاد کشمیر مسئلہ کے حل کے لیے مذاکرات کی میز سجائے۔ نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکرٹریز شیخ عثمان فاروق ، نذیر احمد جنجوعہ ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری اور امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری بھی اس موقع پر موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ پر حکمرانوں کوشدید تنقید کانشانہ بنایا اورکہا کہ گیس کے ذخائر کی نشاندہی کے باوجود گزشتہ بولی (Bidding) میں انٹرنیشنل کمپنیوں کا شرکت نہ کرنا حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے، ایل پی جی دوسو اکتالیس روپے کلو حکومتی ریٹ کے برعکس پانچ سو روپے کلو میں فروخت ہورہی ہے۔ حکومت فی لیٹر پٹرول پر پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کی مد میں عام آدمی سے ایک سو اٹھارہ روپے بھتہ وصول کررہی ہے، پٹرولیم لیوی کے بھتہ کی صورت میں اب تک عوام سے ساڑھے آٹھ ہزار ارب وصول کیے جاچکے ہیں جو کہ پٹرولیم انفراسٹرکچر (Infrastructure) میں بہتری کی بجائے ٹیکس اہداف کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں ، ٹیکس وصولی کے لیے بننے والا پچیس ہزار ملازمین پر مشتمل ایف بی آر کے محکمہ میں اپنے اصل کام کی بجائے ہزاروں ارب کی کرپشن ہوتی ہے، حکمران عوام کو سستا پٹرول ، بجلی ، گیس دینے کی بجائے عیاشیوں میں مصروف ہیں ، گیارہ ارب کا جہاز اور کروڑوں کی گاڑیاں خریدنے والے اپنے آپ کو عوام کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے ، پنجاب کو شریف خاندان بادشاہوں کی طرح چلا رہا ہے، اربوں کے اشتہارات سے کارکردگی کے دعوے ہورہے ہیں، حالت یہ ہے کہ صوبہ میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، تعلیمی اداروں کو فروخت کیا جارہا ہے، کسان سے گندم پنتیس سو روپے من کے حساب سے خریدی گئی اب آٹا چھپن سو روپے من فروخت ہورہا ہے ، نہ کسان کو مناسب قیمت ملی اور نہ ہی عام آدمی کو سستا آٹا مل رہا ہے، لاہور میں روٹی سترہ سے بیس روپے اور نان پچیس سے تیس روپے کا فروخت ہورہا ہے، شوگر مافیا کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی ، ساتھ ہی چینی کی قیمت اوپر چلی گئی ، حکومتی سرکردگی میں مختلف مافیاز عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، پنجاب میں کپاس کی کاشت پچاس فیصد سے کم ہوگئی ، کپاس کے علاقوں میں گنا کاشت ہورہا ہے ، شوگر مل مالکان کی جانب سے کسانوں کو گنے کی ادائیگیاں بھی نہیں ہورہی۔ عوام کو اس ظالمانہ نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا، پٹرول کی فی لیٹر قیمت دوسو پچیس سے اوپر نہیں ہونی چاہیے۔ عوام خصوصی طور پر نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جمعہ کو ہونے والے مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کی ساتھ جو گھناؤنا واقعہ ہوا وہ انتہائی شرمناک ہے، پنجاب پولیس نے عام آدمی کے گھروں کے بعد ججز کے گھروں میں بھی گھسنا شروع کردیا ، اس کیس میں ملک کی جگ ہنسائی ہوئی، ملزمان جتنے طاقتور ہوں انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے کاہنہ میں بچوں کی شہادت پر بھی انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور پنجاب حکومت پر واضح کیا کہ اپنی نااہلی کو چھپانے کی آڑ میں ٹیوشن سنٹرز کو ہدف نہ بنائے، کاہنہ میں سڑکوں کا برا حال ہے، بجلی کی تاریں ہرطرف لٹک رہی ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ پنجاب میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کیا کام کررہی ہے؟ عوام کو بنیادی سہولیات دستیاب نہیں، غربت میں تنتیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کرپشن کا گڑھ اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہورہا ہے، حکمران سکیمیں متعارف کرانے کی بجائے پالیسیوں کی تشکیل پر توجہ دیں ، نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر ہنر سکھائے جائیں۔
حافظ نعیم الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر مسئلہ کے حل کے لیے حکومت آگے بڑھے، دشمنیوں کو نسلوں میں منتقل نہ کیا جائے ، جماعت اسلامی ثالثی کا کردار ادا کررہی ہے ، جوانئٹ ایکشن کمیٹی بات چیت کے لیے تیار ہے، اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پانیوں پر بھارتی جارحیت کا موثر اور بھرپور جواز دیا جائے، ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر اور پانی پر ثالثی کی بات کی تھی ، اب حکومت ایران امریکہ ثالثی کی پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرمپ کو اپنا وعدہ یاد دلائے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پٹرول پرکلائمیٹ سپورٹ لیوی (Climate Support Levy) کی مد میں ساٹھ ارب اکٹھے کیے ہیں تاہم یہ فنڈز ماحولیات کی بہتری کے لیے استعمال نہیں ہورہے۔


