حافظ نعیم الرحمن سے ایرانی سفیر کی ملاقات، اہم مسائل پر گفتگو
2دن پہلے
حافظ نعیم الرحمن سے ایرانی سفیر کی ملاقات، اہم مسائل پر گفتگو
غزہ، لبنان میں مکمل جنگ بندی ہونی چاہیے، اتحاد امت وقت کی ضرورت، امیرجماعت اسلامی پاکستان
مشکل وقت میں حمایت پر پاکستانی عوام، جماعت اسلامی کے شکرگزار ہیں، رضا امیری مقدم
پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے وفد کے ہمراہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن سے اُن کے اسلام آباد دفتر میں ملاقات کی، جس میں پاک ایران تعلقات، خطے کی صورتحال، عالم اسلام کو درپیش چیلنجز، غزہ و فلسطین اور امت مسلمہ کے اتحاد کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران حافظ نعیم الرحمن نے ایرانی حکومت اور عوام کی جدوجہد اور استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے کردار اور مزاحمت کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل کو پسپائی اختیار کرنا پڑی، جبکہ امریکہ ایران کے ساتھ معاہدے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے حوصلے کا باعث ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ موجودہ حالات میں اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد، اتفاق اور باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ اختلافات اور انتشار کا فائدہ ہمیشہ امت کے دشمنوں کو پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت اور فلسطینی عوام پر مظالم خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہیں، اس لیے غزہ اور لبنان میں مکمل جنگ بندی ہونی چاہیے اور فلسطینیوں کو اپنی آزاد ریاست کے قیام کا حق دیا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل یقینی بنائے اور اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ کیا جائے۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مشکل وقت میں پاکستان کی حکومت، عوام اور جماعت اسلامی کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد اور باہمی تعاون کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی، سفارتی کوششوں اور خطے میں امن و استحکام کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی جانب سے کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کیے گئے کردار کو سراہا۔
ملاقات میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے امیر عبدالواسع اور امیر جماعت اسلامی پاکستان کے معاون خصوصی عطاءالرحمن بھی موجود تھے۔



