جمعہ کو 510 مقامات پر پرامن دھرنے ہوں گے، سڑکیں بند کریں گے، حافظ نعیم الرحمن
17گھنٹے پہلے
جمعہ کو 510 مقامات پر پرامن دھرنے ہوں گے، سڑکیں بند کریں گے، حافظ نعیم الرحمن
پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج روکا گیا تو یہ حکومت گراؤ تحریک میں بدل جائے گا
مہنگائی سے ہرشخص پریشان، خواتین کے لیے کچن چلانا مشکل ہوگیا، امیر جماعت اسلامی کا حلقہ خواتین کے تحت مظاہرہ سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ عوام پر مزید ظلم برداشت نہیں،پٹرول 225 روپے لٹر کیا جائے، جمعہ (کل) کو ملک کے 510مقامات پر پرامن دھرنے ہوں گے، سڑکیں بند کریں گے، صرف ایمبولینس کو راستہ ملے گا، رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو لیوی کے خلاف احتجاج حکومت گراؤ تحریک میں بدل دیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیراہتمام وحدت روڈ پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف منعقدہ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ ، صدر حلقہ خواتین ڈاکٹر حمیرا طارق، سمیحہ راحیل قاضی، ثمینہ سعید اور عظمیٰ عمران نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔ مظاہرہ امیر جماعت اسلامی کی جانب سے ملک کے تمام اضلاع کو ملانے والی اور اہم سڑکیں بند کرنے کے اعلان سے ایک روز قبل منعقد کیا گیا جس میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ حکومت کو عوام کے مطالبات پورے کرنا ہوں گے، حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس نہیں بلکہ بھتہ ہے جس سے ہر فرد شدید پریشان ہے۔ غریب آدمی سے ایک لیٹر پٹرول پر 125 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام پر ڈالتے ہیں اور خود اربوں کے جہاز اور کروڑوں کی گاڑیاں خرید رہے ہیں، پٹرولیم لیوی کا سیدھا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگی حالات کے دوران عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر قیمتیں بڑھائی گئیں، جنگ ختم ہونے کے بعد جب قیمت 74 ڈالر فی بیرل ہو گئی تب بھی پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پرانی سطح پر نہیں لائی گئیں۔ لیوی کی صورت میں اب تک 8 ہزار ارب روپے کا بھتہ وصول کیا جا چکا ہے لیکن ان میں سے ایک روپیہ بھی آئل ریفائنریز اور پٹرولیم انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کے لیے نہیں لگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لیوی ختم کر دے تو معیشت ٹھیک ہو جائے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے فارم سنتالیس کے حکمرانوں کے پاس قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے، یہ عوام کا دکھ اور تکلیف نہیں سمجھ سکتے۔ خواتین کو گھر کا کچن چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ گھر چلانے کے لیے اپنے زیورات بیچنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ پیرا فورس جیسے ادارے غریب آدمی کی ریڑھیاں الٹانے میں مصروف ہیں۔ تعلیم کو طبقات میں تقسیم کر دیا گیا ہے، بیوروکریسی عوام کو محکوم سمجھتی ہے ، عوام کے آواز اٹھانے پر پابندیاں ہیں، حکمران خود تسلیم کر رہے ہیں کہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف انتظامی یونٹس کا نہیں ہے پورا نظام ہی مفلوج ہے اور ایسے ماحول میں جبر کے خلاف آواز بلند کرنا ہر شخص کا دینی و قومی فرض ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا حکمران آئی ایم ایف کے غلام بن چکے ہیں۔ آئی ایم ایف حکمرانوں کو یہ بھی کہتا ہے کہ اپنے اخراجات کم کرو، لیکن یہ بات انھیں سنائی نہیں دیتی۔ مظلوم عوام پر ظلم کرنے، ٹیکس لگانے اور ظالمانہ بجٹ منظور کروانے کے لیے تمام سرمایہ دار، وڈیرے اور جاگیردار اکٹھے ہو کر قوم کا استحصال کرتے ہیں ۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جمعہ کو شام 4 بجے لاکھوں افراد حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے، تمام شہروں میں پرامن احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ، پنجاب، بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں گے۔ نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر لے کر آئیں اور انہیں بند کر دیں۔ انہوں نے بتایا کہ کل شاہراہ ریشم تا دیر، گوجرانوالہ، گجرات اور دیگر شہروں سمیت ملک بھر کی تمام اہم شاہراہیں بند کی جائیں گی اور حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی احتجاج مکمل پرامن ہوگا۔



