News Detail Banner

پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج ، اہم شاہراہیں بند، سینکڑوں مقامات پر پُرامن دھرنے

17گھنٹے پہلے

پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج ، اہم شاہراہیں بند، سینکڑوں مقامات پر پُرامن دھرنے
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے
حکومت سے ظالمانہ لیوی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی واپسی کا مطالبہ، کئی مقامات پر پولیس کا کارکنوں پر تشدد

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ظالمانہ لیوی کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں پرامن احتجاجی دھرنوں، ریلیوں اور مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، اہم شاہراہیں، موٹروے، انٹرچینجز اور ٹول پلازے بند کر دیے گئے ، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد و راولپنڈی سمیت تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں کم و بیش 510مقامات پر احتجاج ہوا، کئی مقامات پر کارکنوں پر پولیس تشدد ہوا اور گرفتاریاں کی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں قرطبہ چوک مکمل طور پر بند کر دیا گیا جہاں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے احتجاجی دھرنے سے کلیدی خطاب کیا۔ اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور صدر انجمن تاجران کاشف چودھری نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا، اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم بھی ہوا۔راولپنڈی میں امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم کی زیر قیادت مری روڈ، لیاقت باغ کے قریب بند کر کے احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی سٹی ڈسٹرکٹ راولپنڈی سید عارف شیرازی سمیت دیگر ذمہ داران اور کارکنان کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک ہوئی۔
کراچی میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں شاہراہ فیصل پر احتجاجی ریلی نکالی گئی اور دھرنا دیا گیا، نوجوانوں سمیت بڑی تعداد میں شہریوں اور جماعت اسلامی کے کارکنان نے شرکت کی۔ کراچی کے مختلف اضلاع سے قافلے شاہراہ فیصل پہنچے اور شہریوں نے موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بند کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ عوام ظالمانہ نظام اور پٹرولیم لیوی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اندرون سندھ میں حیدرآباد سے کشمور تک جماعت اسلامی کے تحت احتجاج کیا گیا۔ حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، لاڑکانہ، کشمور، گھوٹکی، اوباڑو، شہدادکوٹ، عمرکوٹ، سانگھڑ، مٹھی، بدین، جیکب آباد، سکرنڈ، مٹیاری اور ٹھٹھہ سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے اور دھرنے دیے گئے۔قومی شاہراہ، انڈس ہائی وے، مہران ہائی وے، تھرکول روڈ، سندھ پنجاب و سندھ بلوچستان بارڈر اور دیگر اہم شاہراہوں پر احتجاج کے باعث ٹریفک معطل رہی اور صرف ایمبولینسز کو راستہ دیا گیا۔ ٹنڈو محمد خان میں جماعت اسلامی کے مقامی رہنما اکرم بیگ کو گرفتار کیا گیا تاہم مذاکرات کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے گوادر موٹروے علی شاہ بائی پاس اور لاڑکانہ میں دھرنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظالمانہ لیوی ٹیکس اور حکومتی اقدامات نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ کندھ کوٹ، گھوٹکی، حیدرآباد، بدین اور سکھر سمیت مختلف مقامات پر بھی دھرنے دیے گئے۔سکرنڈ میں نیشنل ہائی وے بلاک کر کے بینظیر فلائی اوور کے نیچے دھرنا دیا گیا، جبکہ ٹنڈو آدم اور ٹنڈو جان محمد میں بھی احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری رہے۔
پشاور میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع کی قیادت میں پشاور موٹروے ٹول پلازہ بند کر دیا گیا۔ صوبے کے مختلف اضلاع سے جماعت اسلامی کے قافلے احتجاجی مقامات کی جانب پہنچے، جبکہ چارسدہ انٹرچینج اور صوابی انبار انٹرچینج سمیت مختلف مقامات پر بھی دھرنے دیے گئے۔خیبرپختونخوا کے متعدد مقامات پر موٹروے، انڈس ہائی وے، ہزارہ موٹروے، سوات موٹروے اور پاک افغان شاہراہ پر احتجاج کیا گیا اور ٹریفک معطل رہی۔ چارسدہ میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر احتجاجی دھرنا دیا گیا، جبکہ صوابی میں قیم جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی صابر حسین اعوان اور امیر ضلع صوابی مفتی مراد احمد نے قیادت کی۔پشاور موٹروے انٹرچینج پر امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی عبدالواسع، امیر ضلع پشاور بحراللہ خان ایڈووکیٹ، سابق صوبائی وزراء کاشف اعظم خلیل اور حافظ حشمت خان، سابق رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی، ضلعی ترجمان طارق متین، ضلع مہمند کے امیر ملک سعید خان، نائب امراء سراج الدین قریشی اور حمداللہ جان، نیشنل لیبر فیڈریشن کے صوبائی صدر جمشید منیر خان اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ایبٹ آباد میں امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرزاق عباسی کی قیادت میں دھرنا شروع ہوا اور شاہراہ ریشم بند کر دی گئی۔ دیر بالا میں امیر جماعت اسلامی دیر بالا صاحبزادہ فصیح اللہ کی قیادت میں احتجاجی دھرنا دیا گیا اور مین سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہی۔ مہمند میں پشاور تا مہمند باجوڑ روڈ میاں منڈی کے مقام پر بند کی گئی جہاں عوام، طلبہ اور سماجی کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔چترال میں بھی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عوامی مسائل کے خلاف احتجاجی دھرنا جاری رہا۔
کوئٹہ میں میاں غونڈی کراچی روڈ مکمل طور پر بند کر کے دھرنا دیا گیا۔ خضدار میں مین روڈ بند رہی جبکہ لورالائی میں لورالائی تا ملتان روڈ پر احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ چمن، حب اور زیارت میں بھی مین روڈز بند کر کے احتجاج کیا گیا۔
ملتان میں سیداں والا بائی پاس پر احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سید ذیشان اختر اور صہیب عمار صدیقی نے کی، جبکہ شجاع آباد میں احتجاجی دھرنا دے کر تھانہ چوک بند کر دیا گیا۔ قصور میں بھائی پھیرو روڈ اور شیخوپورہ میں مریدکے جی ٹی روڈ مکمل بند کر دی گئی۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نائب امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب رانا عبدالوحید کی قیادت میں مین روڈ پر دھرنا شروع کیا گیا۔ فیصل آباد غربی میں بھی مین روڈ پر احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر دھرنے کا آغاز ہوا جس کی قیادت ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان شیخ عثمان فاروق کر رہے تھے۔بہاولنگر میں امیر جماعت اسلامی بہاولنگر ارسلان خان خاکوانی کی زیر قیادت احتجاجی ریلی نکالی گئی، جبکہ وزیرآباد میں پولیس کی جانب سے تشدد کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اوکاڑہ، جھنگ، نارووال، خانیوال، لیہ اور بہاولپور میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں۔ننکانہ میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب وسطی رانا تحفہ دستگیر احمد اور جڑانوالہ میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل باسم سعید چوہدری کی قیادت میں کارکنان دھرنے کے مقامات کی جانب رواں دواں رہے۔ ڈجکوٹ میں پی پی 107 کا قافلہ امیر ضلع یاسر اقبال کھارا ایڈووکیٹ کی قیادت میں احتجاجی مقام کی طرف روانہ ہوا۔
مقررین نے کہا کہ حکومت عالمی حالات کو جواز بنا کر روزانہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے، لیکن عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کے ذریعے عام شہریوں، بالخصوص موٹر سائیکل سواروں پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان کے بقول حکمران اور بیوروکریسی اپنی مراعات اور شاہانہ طرز زندگی ختم کرنے کو تیار نہیں، جبکہ غریب عوام پر مسلسل ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ عوام کو مزید موجودہ حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا اور امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی کال پر اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے بھی جماعت اسلامی پوری طرح تیار ہے۔