News Detail Banner

حافظ نعیم الرحمن کا دھرنوں کو بڑے عوامی محاذ میں تبدیل کرنے کا اعلان

6دن پہلے

حافظ نعیم الرحمن کا دھرنوں کو بڑے عوامی محاذ میں تبدیل کرنے کا اعلان
مطالبات منظور نہ ہوئے تو ملک جام کریں گے، مارچ اسلام آباد بھی جاسکتا ہے
دھرنا میں کل سے خواتین بھی شریک ہوں گی، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کو حکومت کے خلاف ایک بڑے عوامی محاذ میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ چند روز کا احتجاج نہیں، مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا، ضرورت پڑی تو ملک بھر کو جام کرکے اسلام آباد کا رخ کریں گے ، ظلم کے خلاف عوام مارچ کی شکل میں دارالحکومت پہنچ گئے تو حکمرانوں کو بھاگنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ کل سے دھرنے میں خواتین بھی شریک ہوں گی۔
پٹرولیم لیوی ، آئی پی پیز ، مہنگائی اور حکمرانوں کی مراعات اور عیاشیوں کے خلاف لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور پشاور اور کراچی میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے کے دوسرے روز بھی ہزاروں افراد نے احتجاج میں شرکت کی اور مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ لاہور میں دھرنے سے نائب امیر لیاقت بلوچ ، ڈپٹی سیکرٹریز اظہر اقبال حسن ، شیخ عثمان فاروق، ، رسل خان بابر ،امیر لاہور ضیاالدین انصاری ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری اور امیر فیصل آباد غربی سردار عثمان نے بھی خطاب کیا۔ نائب امیر اسامہ رضی ،قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کراچی میں دھرنے سے امیر کراچی منعم ظفر اور مقامی قائدین نے خطاب کیا۔ پشاور دھرنے سے نائب امیر پروفیسر ابراہیم ، امیر کے پی وسطی عبدالواسع اور امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔
لاہور دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرول پر 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کیے جاچکے، عوام سے روزانہ ڈھائی ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا جارہا ہے، آئی پی پیز مافیا کو عوام کے خون پسینے سے پالاجا رہا ہے جبکہ اشرافیہ کے ٹیکس معاف اور غریب، مزدور، طالب علم اور مڈل کلاس مسلسل نچوڑے جارہے ہیں۔آج لاہور، کراچی اور پشاور کے دھرنوں سمیت چاروں صوبوں میں حق اور سچ کی آواز گونج رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی یہاں سے جانے کے لیے نہیں آئی، یہ دھرنا جاری رہے گا اور پوری قوم مل کر اسلامی انقلاب برپا کرے گی۔ ملک میں مختلف تجربات کیے گئے مگر سب ناکام ہوگئے، اب اس نظام کو چلانے والے بھی سن لیں کہ یہ نظام مزید نہیں چل سکتا۔ انہوں نے عدالتی نظام کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک کی عدالتوں میں تقریباً 24 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، انصاف بکتا ہے اور طاقتور لوگوں کی موجودگی میں عام آدمی کو انصاف ملنا مشکل ہے۔ ججز کو مراعات اور بڑی گاڑیاں میسر ہیں مگر موجودہ بوسیدہ نظام عوام کو انصاف فراہم نہیں کرسکتا۔ جماعت اسلامی عدالتوں سے امید نہیں چھوڑ رہی ، وہاں حجت تمام کرنے کے لیے بھی جاتی ہے۔
پٹرولیم لیوی کو عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی قرار دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے تقریباً ڈھائی ماہ قبل آئینی عدالت میں لیوی کے خلاف درخواست دائر کی تھی مگر اب تک سماعت نہیں ہوسکی، بعد میں معلوم ہوا کہ ججز چھٹی پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے حق کے لیے قانونی اور سیاسی دونوں محاذوں پر جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا جماعت اسلامی کسی سازش یا چور دروازے سے اقتدار میں نہیں آنا چاہتی بلکہ عوام کی تائید سے تبدیلی لانا چاہتی ہے، ہجوم کی کوئی سمت نہ ہو تو وہ بے سود ہوتا ہے، اس لیے جماعت اسلامی نظم و ضبط، نظریے اور عقیدے کی بنیاد پر جدوجہد کررہی ہے۔ جماعت اسلامی شخصیت پرستی نہیں کرتی، یہ ایک تحریک ہے اور سیاست کو بھی عبادت سمجھ کر کرتی ہے۔ جو لوگ زمینی خداؤں کا انکار نہیں کرسکتے ان کی مزاحمت حقیقی مزاحمت نہیں۔ جماعت اسلامی دھرنے کو بھی عبادت سمجھ کر عوام کے حقوق کی بات کرتی ہے اور اس کے راستے میں موت بھی آئے تو اسے شہادت سمجھتی ہے۔
فلسطین، غزہ اور کشمیر کے مسائل پر جماعت اسلامی کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی نے ان معاملات کو اس انداز میں نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بات کرنے کی بھی جرات نہیں۔ جماعت اسلامی نے کشمیر کے لیے اربوں روپے کی امداد پہنچائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی جرنیل، نواز شریف، آصف علی زرداری یا عمران خان کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کسی ادارے سے ناراض ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان نے ان کا کچھ بگاڑا ہے۔ ریاست کسی ادارے کا نام نہیں بلکہ عوام کا نام ہے۔ بندوق کی نوک پر عوام سے ریاست کی بات نہیں منوائی جاسکتی، لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی کیاریوں میں پرورش پانے والے لوگ عوام پر مسلط کیے جاتے رہے ہیں اور جب خود اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو 70 ہزار جعلی ووٹ دیے جانے کے الزامات کے باوجود ووٹ کی عزت کی بات کرنا سوالات پیدا کرتا ہے۔ ان کے بقول 2024 کا انتخاب فارم 47 اور 2018 کا انتخاب آر ٹی ایس بٹھانے کے حوالے سے متنازع رہا، جبکہ لوگوں کو جہازوں پر لاکر سیاسی جماعتوں میں شامل کیا جاتا رہا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کو کسی کی بھیک میں نشستیں نہیں چاہئیں، وہ عوامی رائے ہموار کرے گی، نوجوانوں کی تربیت کرے گی اور عوام کے ساتھ مل کر حالات تبدیل کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ حکمرانوں نے عالمی جنگ کو جواز بنا کر پٹرول مہنگا کیا، پھر ہر مرتبہ آئی ایم ایف کا نام لیا۔ پٹرولیم لیوی کی مد میں اب تک 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کیے جاچکے ہیں، حالانکہ اس رقم کا مقصد ریفائنریوں کو بہتر بنانا تھا، مگر اربوں روپے وصول کرنے کے باوجود ریفائنریوں کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں ہیں اور ان کے مالکان سے پٹرول پر بھاری ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ حکومت عوام سے روزانہ تقریباً ڈھائی ارب روپے وصول کررہی ہے جبکہ صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ تقریباً 900 ارب روپے بٹورے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی رقم قوم کو تعلیم دینے پر خرچ کی جائے تو ملک کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔
حافظ نعیم نے الرحمن آئی پی پیز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز مافیا کو عوام کے خون پسینے سے پالا جارہا ہے۔ انہوں نے اسے ظلم کی انتہا قرار دیا کہ بعض آئی پی پیز ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے جبکہ ان کی ادائیگیوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ زیادہ تر ٹیکس طالب علموں، مزدوروں اور مڈل کلاس سے وصول کرتا ہے، جبکہ اشرافیہ کے ٹیکس معاف ہیں۔ اشرافیہ کی کمپنیوں کو مراعات اور بینکوں سے قرضے ملتے ہیں، افسران کے اللے تللے ختم نہیں ہوتے، انہیں مفت بجلی اور دیگر سہولیات حاصل ہیں۔ بیوروکریسی عوام کے پیسوں سے بڑی گاڑیوں میں سفر کرتی ہے اور پھر اسی غریب کا ٹھیلا الٹ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو طبقات میں تقسیم کردیا گیا ہے، صنعتکاروں کو بھی مختلف طبقات میں بانٹ دیا گیا ہے، کچھ صنعتکاروں کی ہر جگہ سنی جاتی ہے جبکہ دیگر مشکلات میں ہیں۔
لاہور میں دھرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہاں ایک خاندان کی حکومت ہے، مسلم لیگ ن میں پیدا ہونے والا بچہ آقا جبکہ 40 سال پرانا کارکن بھی غلام رہتا ہے۔ جماعت اسلامی کے دھرنے سے نتھیا گلی، جاتی امرا اور اسلام آباد تک حکمرانوں کو تکلیف محسوس ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کے خلاف اسلام آباد بھی جاسکتے ہیں۔ پٹرول 225 روپے فی لیٹر کیا جائے، پٹرولیم لیوی ختم اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر کے نوجوانوں کو طویل دھرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے طرزعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بریف کیس چلتے اور ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے تو سب اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ ایک سیاستدان کہتا رہا “مجھے کیوں نکالا” اور دوسرا پوچھتا رہا “مجھے کیوں نہیں جتوایا”، مگر جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی بات کررہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کی دھرنے میں آمد پر شرکا نے پرتپاک استقبال کیا اور “حافظ، حافظ” کے نعرے لگائے۔ شدید گرمی کے باوجود بڑی تعداد میں عوام اور کارکنان احتجاج میں شریک ہیں۔ دھرنے کے شرکا نے بھی مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے، پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کرنے اور بجلی سستی کرنے کے مطالبات کا اعادہ کیا۔ مزید برآں جیل میں بند پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی دھرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔