پٹرولیم لیوی ختم ، بجلی سستی ، روٹی کی قیمت دس روپے کی جائے، حافظ نعیم الرحمن
1گھنٹہ پہلے
پٹرولیم لیوی ختم ، بجلی سستی ، روٹی کی قیمت دس روپے کی جائے، حافظ نعیم الرحمن
مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو شٹرڈاؤن ہوگا، دھرنوں کو ملک بھر میں پھیلائیں گے
ہمارے احتجاج سے حکومت گھبرا گئی، یہ تحریک رکنے والی نہیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا لاہور دھرنا سے خطاب
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے حکومت پٹرولیم لیوی ختم ، بجلی سستی ، روٹی دس روپے کی اور گندم کی امدادی قیمت پنتالیس روپے من کرے ۔ مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاجی تحریک مزید وسیع کی جائے گی، 12 ربیع الاول کو دھرنوں میں سیرت کانفرنسز کا انعقاد ہوگا، 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔ انتیس اگست سے بلوچستان میں بھی دھرنوں کا آغاز ہوگا۔ جماعت کے احتجاج سے حکومت میں کھلبلی مچ گئی، عوام کا سمندر سڑکوں پر نکل آیا تو حکمرانوں کے لیے اسے سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور کے باہر جاری دھرنے کے نویں روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
دھرنا سے نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکریٹری شیخ عثمان فاروق ، امیر لاہور ضیا الدی انصاری، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری ، صدر کسان بورڈ سردار ظفر حسین ، منتظم جمعیت طلبہ عربیہ پنجاب عبدالحنان عباسی اور ناظم اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی احسن فرید
نے بھی خطاب کیا۔قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
لاہور، کراچی ، پشاور میں دھرنے کے نویں روز شدید گرمی کے باوجود ہزاروں افراد احتحاج میں شریک ہوئے ۔ اسلام آباد اور اندرون سندھ میں لاڑکانہ ، مٹھی ، میر پور خاص ، ٹندو الہ یار اور حیدرآباد میں احتجاجی کیمپوں میں عوام کی بڑی تعداد موجود ہے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے ، بجلی کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات کیے۔ انہوں نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ امیر جماعت اسلامی کی ہدایات کے مطابق مظاہرے جاری رہیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا مزید طویل کیا جائے گا، حیدرآباد سمیت دیگر علاقوں میں بھی دھرنے شروع ہوچکے ہیں۔ انہوں جماعت اسلامی نے حکمرانوں کی لوٹ مار عوام کے سامنے بے نقاب کی ہے اور اب عوام کو بھی اس تحریک کا حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے کارکنوں اور عوام پر زور دیا کہ وہ مارکیٹوں میں جائیں، وہاں کی صورتحال کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں، لوگوں سے پوچھیں کہ وہ کن مسائل کا شکار ہیں اور انہیں تحریک کو مزید آگے بڑھانے کا پیغام دیں۔ سوشل میڈیا پر ایسا طوفان برپا کیا جائے گا جو حکمرانوں کی نیندیں حرام کردے گا، کروڑوں عوام کے دستخطوں اور ناموں پر مشتمل فہرست تیار کرکے پوری دنیا کو دکھائی جائے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم سے وزیراعلیٰ تک حکمران فارم 47 کی پیداوار ہیں جبکہ عوام 45 والے ہیں۔ اب بہت ظلم ہوچکا، پٹرولیم لیوی ناجائز بھتہ ہے، حکومت غریب عوام سے لیوی سمیت تقریباً 130 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کررہی ہے۔ ان کے بقول زکوٰۃ کے مستحقین تک سے بھتہ ٹیکس لیا جارہا ہے اور لیوی کی مد میں 8 ہزار ارب روپے سے زائد جمع کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو دوٹوک الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لیوی ختم کرو، ورنہ تمہاری حکومت ختم ہوجائے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اشیاء ضروریہ، بجلی اور گیس سب کچھ مہنگا ہوچکا ہے جبکہ پنجاب میں غربت میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی عیاشیاں کم کریں، عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر 11 ارب روپے کا جہاز خریدا گیا، حکمران کروڑوں روپے کی گاڑیاں استعمال کرتے اور پٹرول مفت لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری گاڑی 1300 سی سی سے بڑی نہیں ہونی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام پر لیوی اور بجلی کے فکسڈ چارجز (Fixed Charges) مسلط کرکے مخصوص مافیاز کو نوازا جارہا ہے۔ پٹرولیم اور آئل ریفائنریز میں بھی ایک ہی مافیا دکھائی دیتا ہے، درآمد شدہ ریفائنڈ آئل کی قیمت کے برابر پاکستانی آئل کی قیمت بھی وصول کی جاتی ہے۔ آئی پی پیز مافیا بھی اسی نظام کا حصہ ہے، کسی نے تھرمل پلانٹ لگایا اور کسی نے کوئی دوسرا منصوبہ، لیکن کیپسٹی پیمنٹ کے نام پر مافیاز کو ہزاروں ارب روپے ادا کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بتایا گیا تھا کہ آئی پی پیز کے قیام کے بعد لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ ناجائز معاہدے ہیں اور بجلی کے پلانٹس کی صلاحیت میں بھی دو نمبری کی گئی۔ ایک 125 میگاواٹ کا پلانٹ حقیقت میں 100 میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے۔ بجلی پیدا کرنے کے 1700 ارب روپے بنتے ہیں جبکہ بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود آئی پی پیز کو 1800 ارب روپے ادا کیے گئے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے 14 روزہ دھرنے کے نتیجے میں عوام کو بجلی کے معاملے میں ریلیف ملا، لیکن قوم کی خاموشی کا فائدہ اٹھا کر حکمران مزید لوٹ مار کرتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ عوام پر مختلف جماعتوں کے نام سے چند خاندان بار بار مسلط کیے جاتے رہے ہیں۔ محسن نقوی نے خود کہا کہ موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے، لیکن یہ ناکام نظام کراچی میں قبضہ میئر، پنجاب میں جاگیرداروں، سندھ میں وڈیروں، خیبرپختونخوا میں خانوں اور بلوچستان میں سرداروں کی شکل میں موجود ہے۔ غریب آدمی پر ٹیکس پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے جبکہ سیکڑوں مربع زمین رکھنے والوں سے انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اب صرف شاخیں اور پتے جھاڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس ظالم نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ ہمارے اوپر مسلط ٹولے کے بچے بظاہر بہت پڑھے لکھے ہیں لیکن وزرا اور مشیروں کے بچوں اور غریب کے بچوں کو حاصل سہولیات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ پڑھے لکھے لوگ ہی قوم سے اس کا بنیادی حق چھین رہے ہیں۔پنجاب کے تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مریم نواز سرکاری اسکول نہیں چلاسکیں اور 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کردیئے گئے۔ پنجاب میں ایک کروڑ 18 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ چند نمائشی نواز شریف اسکول بناکر ان پر کروڑوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ پنجاب کے عوام سے تعلیم چھینی جارہی ہے اور حکومت اپنا بوجھ قوم پر منتقل کرکے نئی نسل کو جاہل بنا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر جماعت اسلامی کی کوریج روکی جاسکتی ہے، جماعت اسلامی کی آواز نہیں روکی جاسکتی۔
کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کا کسان شدید پریشان ہے، شریف خاندان کی پالیسیوں نے کپاس کی فصل تباہ کردی اور گندم کے کاشتکاروں کو بھی پوری قیمت نہیں مل رہی۔ اب حکومتی وزرا بھی اعتراف کررہے ہیں کہ گندم کے معاملے میں غلط فیصلہ ہوا اور قیمت 4500 روپے فی من ہونی چاہیے تھی۔ ایک طرف غریب کو سستی روٹی نہیں مل رہی اور دوسری جانب کسان کو اس کی فصل کے پورے پیسے نہیں دیے جارہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران مافیا عیاشیاں کررہا ہے جبکہ عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات ناپید ہیں اور صرف چند نمائشی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے نوجوانوں کے سروں پر ہاتھ رکھا ہے اور انہیں آئی ٹی کی مفت تعلیم فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے پاس عوام کی لوٹی ہوئی دولت موجود ہے لیکن وہ عوام پر خرچ نہیں کی جاتی۔ ریاست ماں ہوتی ہے لیکن موجودہ ریاست ڈائن بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے ساتھ مل کر اس مسلط ٹولے کو ملک سے بھگائے گی، تاہم جماعت اسلامی اپنی مرضی سے پرامن رہتی ہے اور تشدد کے ذریعے سیاست چمکانا نہیں چاہتی۔ حکومت ہمارے پرامن رہنے کو کمزوری نہ سمجھے، ہم ملک بھر کی سڑکیں بند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور 7 اگست کو بھی سیکڑوں سڑکیں بند کی گئی تھیں۔حافظ نعیم الرحمن نے نے اپوزیشن جماعتوں اور تاجر تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ 25 کروڑ عوام کے حقوق کے لیے جماعت اسلامی کے دھرنوں کا ساتھ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی ذات یا جماعت کے لیے کچھ نہیں چاہیے، مقصد عوام کے حقوق کا حصول ہے۔ انہوں نے کہا آئی ایم ایف بھی سوال کرتا ہے کہ کیا حکومت نے اپنے اخراجات کم کیے ہیں، لیکن گزشتہ سال وفاقی حکومت نے 25 فیصد زائد اخراجات کیے۔ حکومتی اخراجات میں عیاشیاں اور اس کے ساتھ کرپشن الگ ہے۔ ان کے بقول ایف بی آر کا عملہ سالانہ 1300 ارب روپے کی کرپشن کرتا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے سے براہ راست ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور بااثر طبقات خود ٹیکس ادا نہیں کرتے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ دنیا ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، امریکا ڈیٹا سینٹرز پر 1700 ارب ڈالر جبکہ چین 400 ارب ڈالر خرچ کررہا ہے۔ پاکستان بھی ڈیٹا سینٹرز قائم کرے تو ملکی قرضے اتارنے کے قابل ہوسکتا ہے۔ حکمرانوں کے پاس کوئی وژن نہیں، جماعت اسلامی کے پاس وژن بھی ہے اور قوم کا درد بھی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا سرمایہ ہیں لیکن انہیں مواقع فراہم نہیں کیے جارہے، بلکہ حکمرانوں نے انہیں منشیات کا عادی بنادیا ہے۔ پنجاب میں خواتین سے زیادتی کے 4500 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور خواتین بھی محفوظ نہیں۔ پاکستان کو قبضہ مافیا سے آزاد کرانے کے لیے قوم کو بڑی جدوجہد کی تیاری کرنا ہوگی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مشکل وقت آیا تو جماعت اسلامی اسے برداشت کرنے کے لیے تیار ہے، ہماری تحریک ملک میں انقلاب برپا کرے گی۔ جماعت اسلامی مضبوط ہے اور قوم کو بھی مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت سے تجربات کیے جاچکے لیکن حالات نہیں بدلے، اب ایک منظم جماعت ہی پاکستان کو موجودہ بحران سے نکال سکتی ہے۔


