News Detail Banner

دھرنے قوم کی امیدوں کا مرکز ، حکمران عوام کو ریلیف دیں، حافظ نعیم الرحمن

2گھنٹے پہلے

دھرنے قوم کی امیدوں کا مرکز ، حکمران عوام کو ریلیف دیں، حافظ نعیم الرحمن
عوام غصہ میں، سڑکوں پر حالات خراب ہوگئے تو حکمران قابو نہیں رکھ سکیں گے،
مطالبات کی منظوری تک جمہوری جدوجہد جاری رہے گی، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا لاہور دھرنا سے خطاب

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ عوام شدید غصہ میں ہیں ، سڑکوں پر آگئے تو حکمران حالات پر قابو نہیں رکھ سکیں گے، حکومت لوگوں کا موڈ سمجھتے ہوئے فوری طور پر پٹرولیم لیوی ختم کرے۔ مطالبات کی منظوری تک دھرنوں کا دائرہ مزید وسیع کریں گے، ملک گیر ہڑتال، پہیہ جام اور لانگ مارچ سمیت تمام آئینی و جمہوری راستے اختیار کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور کے باہر جاری دھرنے کے دسویں روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لاہور، کراچی اور پشاور میں دھرنے جاری ہیں جبکہ حیدرآباد میں بھی تین روز سے احتجاجی دھرنا ہو رہا ہے اور 29 اگست سے بلوچستان میں بھی دھرنوں کا آغاز کیا جائے گا۔ دھرنے اب قوم کی امیدوں کا مرکز بن چکے ہیں، وزرا کی جانب سے مسلسل ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ احتجاج اثر کر رہا ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر اسامہ رضی، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر شیخوپورہ زاہد عمران کوروٹانہ اور ناظم اسلامی جمیعت طلبہ پنجاب جنوبی حذیفہ عثمان نے بھی دھرنا سے خطاب کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ،امیر لاہور ضیا الدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
لاہور ، کراچی اور پشاور میں جاری دھرنوں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہے ، سخت گرمی کے باوجود شرکاء کا جوش و خوش دیدنی ہے۔ اندرون سندھ کے مختلف شہروں اور اسلام آباد میں بھی پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف دھرنے جاری ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو جتنی تکلیف ہوگی، دھرنا اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جو لوگ دھرنوں میں شریک نہیں ہو سکتے وہ سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی کی آواز بنیں اور عوامی حقوق کی اس جدوجہد کو گلی محلوں تک پہنچائیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے پٹرول کی قیمت میں اضافے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام پر مسلسل پٹرول بم گرا رہے ہیں اور ہر مرتبہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کا جواز پیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت دو ڈالر فی بیرل کم ہوئی، اس کے باوجود پاکستان میں پٹرول 50 پیسے مہنگا کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ عالمی قیمت میں کمی کے باوجود عوام کو مہنگا پٹرول کیوں دیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران طبقہ آئی ایم ایف کا نام لے کر پٹرولیم لیوی ختم کرنے سے انکار کرتے ہیں، اگر عوام سڑکوں پر نکل آئے تو یہی حکمران آئی ایم ایف کو کہیں گے کہ حالات قابو سے باہر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سیدھی طرح لیوی ختم کرو، ذلت سے کیوں کرنا چاہتے ہو۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمرانوں نے عالمی جنگ کو پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا بہانہ بنایا، جبکہ اسی جنگی ماحول میں پنجاب حکومت نے 11 ارب روپے کا جہاز خرید لیا۔ حکمران عوام کے مسائل سمجھیں ورنہ حالات مزید خراب ہوں گے۔
آئی پی پیز کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ دو سال قبل حکومت کا مؤقف تھا کہ آئی پی پیز سے بات نہیں ہوسکتی، جماعت اسلامی کے دھرنوں کے بعد حکومت نے انہی آئی پی پیز سے مذاکرات کیے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں عوام کو بجلی 10 سے 16 روپے فی یونٹ تک سستی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عام صنعتکار اور مخصوص طبقے کے لیے گیس کی قیمتوں میں فرق ہے، ایسا دوہرا معیار زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ عوام کے بچوں کو بھی وہی معیاری تعلیم ملنی چاہیے جو حکمران طبقے کے بچوں کو حاصل ہے۔
پنجاب حکومت کی تعلیمی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 11 ہزار سرکاری اسکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں اور مزید 25 ہزار اسکولوں کو اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت تعلیم اور صحت کی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے نمائشی اقدامات میں مصروف ہے۔ انہوں نے زراعت کی صورتحال پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ کسان کو گندم کی مناسب قیمت نہیں مل رہی، جبکہ درمیان میں مافیاز اپنا حصہ لے رہے ہیں۔ شوگر مافیا بھی حکومت کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ 6 لاکھ 65 ہزار ٹن چینی درآمد کی گئی، مگر اس کے باوجود قیمتیں بڑھ گئیں اور اب چینی دوبارہ برآمد کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں ایک محدود مافیا ہر حکومت میں فائدے حاصل کرتا ہے اور اسے طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان معاملات کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اقتدار کا میوزیکل چیئر ختم کرنا ہوگا اور عوام کی آواز دبانے کے بجائے انہیں ریلیف دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک نظریاتی تحریک ہے اور عوام کو بڑی جدوجہد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پاکستان ہمارا ہے اور یہاں عدل و انصاف کا نظام قائم ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی ملک میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ کی جدوجہد کر رہی ہے اور دین ظالم نظام کے خلاف اٹھنے کا حکم دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے اندرونی علاقوں میں بھی احتجاجی کیمپ قائم ہونا شروع ہو گئے ہیں جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے لوگ لاہور دھرنے میں پہنچ رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں بھی احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ فیصل آباد میں 28 اگست اور راولپنڈی میں 30 اگست کو بڑے جلسے ہوں گے، جبکہ جمعرات کو لاہور میں نوجوانوں کا بڑا پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نوجوانوں سے خطاب کے دوران ملک گیر ہڑتال کا اعلان کریں گے۔ 26 اگست کو جماعت اسلامی کا یوم تاسیس بھی دھرنے کے مقام پر منایا جائے گا، جبکہ عید میلاد النبی کی تقریبات بھی دھرنے میں ہی منعقد ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے، جلسے اور احتجاجی کیمپ جاری رہیں گے، جبکہ تحریک کو مزید وسعت دے کر پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرایا جائے گا۔