عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، لیوی ختم، بجلی ، روٹی سستی کی جائے، حافظ نعیم الرحمن
10گھنٹے پہلے
عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، لیوی ختم، بجلی ، روٹی سستی کی جائے، حافظ نعیم الرحمن
تین ستمبر کو ملک گیر ہڑتال ہوگی، کل سے کوئٹہ میں بھی دھرنے کا آغاز ہوگا
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا فیصل آباد جلسہ سے خطاب، راولپنڈی ، پشاور ، کراچی جلسوں کا اعلان
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، حکمرانوں کے پاس عوامی مطالبات تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔پٹرولیم لیوی ختم، بجلی اور روٹی کی قیمتیں کم کی جائیں، 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال ہوگی ، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے، کوئٹہ میں کل سے دھرنے کا آغاز ، راولپنڈی ، پشاور ، کراچی میں بڑے جلسے ہوں گے۔
فیصل آباد میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے مقام پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فیصل آباد اور گردونواح سے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی کی تحریک میں عوامی شمولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حکمران سن لیں، دھرنے جاری رہیں گے اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے گا۔
فیصل آباد جلسہ عام سے امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر ضلع پروفیسر محبوب الزماں بٹ، سیکرٹری جنرل پنجاب وسطی بابر رشید ، صدر این ایل ایف شمس الرحمن سواتی ، صدر کسان بورڈ سردار ظفر حسین ، سابق صدر فیصل آباد چیمبر رانا سکندر اعظم نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی کا خطاب لاہور، کراچی ، پشاور ، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں جاری دھرنوں میں بڑی سکرین پر براہ راست سنا گیا۔ پٹرولیم لیوی ، آئی پی پیز معاہدوں اور مہنگائی کے خلاف جاری دھرنوں کے تیرھویں روز شدید گرمی اور حبس کے باوجود مردوخواتین کی کثیر تعداد شریک ہوئی ۔ شرکاء نے حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام بجلی، گیس، پٹرول، آٹا اور چینی سمیت ہر بنیادی ضرورت کی بڑھتی قیمتوں سے تنگ آ چکے ہیں، لوگ گھروں کے کرائے اور بچوں کی فیسیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی کو ’’بھتہ ٹیکس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا۔ ظالم حکمرانوں نے پٹرول مہنگا کرکے اور لیوی عائد کرکے عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی وڈیروں اور جاگیرداروں کی جماعت نہیں بلکہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ملک پر ایک مخصوص طبقہ طویل عرصے سے مسلط ہے جو عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کر رہا ہے، جبکہ عام آدمی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نےکہا کہ ان کی حکومت نے پنجاب کو برباد کر دیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی پالیسیاں عوام کو بے وقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں کر رہیں۔
پمز ہسپتال کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اپنے بچوں کے نام رکھنے سے پہلے ہی ان کی لاشیں اٹھائیں، ہسپتال میں بنیادی سہولیات تک موجود نہیں تھیں۔ اگر اسلام آباد کےہسپتال کا یہ حال ہے تو باقی شہروں کے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پنجاب حکومت صحت کے بنیادی مراکز تک مؤثر انداز میں چلانے میں ناکام ہو چکی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دو سال قبل بھی آئی پی پیز کے خلاف دھرنا دیا تھا اور پرامن جدوجہد میں اس کے 1,300 کارکن گرفتار ہوئے۔ اس وقت حکمران کہتے تھے کہ وہ آئی پی پیز سے بات نہیں کر سکتے، جب تحریک آگے بڑھی تو انہیں آئی پی پیز سے مذاکرات کرنا پڑے۔ جماعت اسلامی کے دھرنے کے نتیجے میں بجلی فی یونٹ 10 سے 16 روپے تک سستی ہوئی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں بھی 32 روپے فی لیٹر کمی ہوئی۔ اب بھی ہمارا مطالبہ واضح ہے کہ پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کیا جائے اور آئی پی پی مافیا کو لگام دی جائے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے بھی احتجاجی تحریک کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔ ہم عوام کی طاقت سے اس ٹولے سے جان چھڑائیں گے۔
نوجوانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کو یکساں مواقع میسر نہیں۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں دنیا آگے بڑھ رہی ہے لیکن پاکستان میں ڈیٹا سینٹرز تک نہیں بن رہے۔ اگر نوجوانوں کو مواقع اور درست سمت فراہم کی جائے تو یہی نوجوان پاکستان کو امریکا اور یورپ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے خواتین کے تحفظ، منشیات اور عدالتی نظام کی صورتحال پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں خواتین محفوظ نہیں، نوجوانوں کو منشیات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جبکہ پولیس اور عدالتوں کا نظام بھی ناقص ہے۔عدالتوں میں 24 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں اور ججز چھٹیوں پر ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کو موجودہ فرسودہ نظام سے نجات دلانے کے لیے بڑی عوامی تحریک کی تیاری کرنا ہوگی۔ انہوں نے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنے اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
پیپلز پارٹی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے اسے اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس پارٹی قرار دیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کیا، آصف علی زرداری نے سندھ کا بیڑہ غرق کر دیا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم سمیت مختلف سیاسی قوتیں ایک دوسرے کے خلاف نورا کشتی کرتی ہیں، جبکہ عوام کے حقیقی مسائل نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام نے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ ایم کیو ایم کی انتخابی نمائندگی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس جماعت نے ہزاروں پولنگ اسٹیشنز میں سے ایک پر بھی کامیابی حاصل نہیں کی، اسے اس نظام نے قومی اسمبلی میں نشستیں دے دی گئیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج وزرا کے استعفوں کی بات ہورہی ہے، لیکن پہلے یہ سوال کیا جائے کہ یہ وزرا منتخب کیسے ہوئے۔ عوام کے مینڈیٹ کو پامال کرنے والوں کو جواب دینا ہوگا۔


