حکومت نااہلی چھپانے کے لیے سارا بوجھ عوام پر منتقل کررہی ہے، شہباز حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں غریب عوام سے چار ہزار ارب وصول کیے،امیر جماعت پاکستان

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے موجودہ حکومت نااہل ترین ہے ، یہ اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کے لیے سارا بوجھ عوام پر منتقل کررہی ہے، پیر سے حکومت سے مذاکرات کا آغاز ہوگا، مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو دھرنے حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے کے بائیسویں روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر لاہور ضیا الدین انصاری، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ شہباز حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے چار ہزار ارب اکٹھے کیے ہیں تاہم جس مقصد کے لیے لیوی اکٹھی کی جاتی ہے اس مقصد کے حصول کی بجائے ریونیو اہداف کے حصول کے لیے استعمال ہورہی ہے اور ریونیو اکٹھا کرنے کا جو ہدف ایف بی آر کو دیا گیا ہے وہ پورا نہیں ہورہا ، پورا ادارہ کرپشن میں ملوث ہے اور اس کے پچیس سو ملازمین کا بوجھ بھی عوام برداشت کررہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مذاکرات میں حکومت کو بتائیں گے کہ کس طرح لیوی کے بغیر معیشت چل سکتی ہے ، حکومت سب سے پہلے سود کو تین فیصد کم کرے اس سے قومی خزانہ کو ڈیڑھ ہزار ارب کا فائدہ ہوگا ، مہنگائی کم کرنے کے لیے جکومت سٹیٹ بنک کے ریزروز (Reserves) کو پانچ سے پندرہ فیصد بڑھا دے ، بجٹ کا آٹھ ہزار ارب بینکوں کو سود کی ادائیگی میں چلا جاتے ہیں ، ریزو بڑھا کر اور سود کی شرح کم کرکے اربوں روپے بچ سکتے ہیں، حکمران آئی پی پیز کو کیپیسٹی پے منٹ (Capacity Payment) دوہزار ارب سالانہ کے قریب ادا کررہی ہے وہ بند کرے، ملک میں اضافی بجلی ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اور آئی پی پیز کو بجلی نہ بنانے کی مد میں ہزاروں ارب ادا کیے جاتے ہیں۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں کہ پٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز معاہدے ختم کیے جائیں۔ دھرنے ساتھ ساتھ چلیں گے ، مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو اگلا مرحلہ پہیہ جام کا ہے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی ہوسکتا ہے۔ ثابت قدمی سے دھرنے دینے پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ جماعت اسلامی کا احتجاج کسی ذاتی نہیں عوام کے مفاد کے لیے ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بھارت میں حریت رہنما یاسین ملک کے ساتھ انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک ہورہا ہے، ان کے حالیہ خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کس طرح نشانہ بنایا جارہا ہے ، حکومت پاکستان نے اس ضمن میں اب تک کیا کردار ادا کیا ہے؟ حکومت معاملہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرے۔ بھارت ، جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر سے پابندیاں ختم اور جیلوں میں بند ساری قیادت کو رہا کرے، حکومت پاکستان اس سلسلہ میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
انہوں نے صومایہ میں چار ماہ سے یرغمال پاکستانیوں کے حالت زار اور ان کے خاندانوں کی مشکلات کا تذکرہ کیا اور حکومت اور اداروں سے اس ضمن میں فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایک سوال کے حواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے چراغ بجھنے سے پہلے پھڑ پھڑا رہے ہیں، مریم نواز کی جانب سے بیان صوبائی تعصب پھیلانے کی سازش ہے ۔ فریال تالپور اور پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت کا سندھ کے حوالے سے مؤقف انتہائی شرمناک ہے۔ پی ڈی ایم والے جب مل کر پی ٹی آئی کی حکومت گرا رہے تھے تو اس وقت سارے متحد تھے ،اب انہیں خطرات لاحق ہوئے ہیں تو پاکستانیوں کو تقسیم کرنے اور لڑانے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یوم دفاع کے موقع پر افواج پاکستان اور پوری قوم کی قربانیوں کو خراج تحیسن پیش کرتے ہیں ، فوج جب ملک کے دفاع کے لیے لڑتی ہے تو پوری قوم ان کو عزت و وقار دیتی ہے تاہم اداروں کو سیاسی معاملات میں مداخلت بند کرنا ہوگی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محسن نقوی بہت سارے معاملات کو سنبھالنے کی بجائے ایک شعبہ پر توجہ مرکوز کریں تو بہتر ہوگا، اب کرکٹ سمیت ان کے زیرنگرانی تمام شعبوں کا برا حال ہے۔