مذاکرات کے نام پر عوامی جدوجہد کو سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے، پٹرولیم لیوی کے خاتمہ سمیت دیگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو پورا ملک بند کر دیں گے، نااہل حکمرانوں نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا،

لاہور: 05 ستمبر 2026ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکمران جماعتوں اور سیاسی حلقوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ جماعت اسلامی کا دھرنا چند روز میں ختم ہو جائے گا، ہم عوام کے حقوق کی جدوجہد کسی سیاسی مفاد یا انتخابی فائدے کے لیے نہیں کر رہے۔ ابھی نہ انتخابات ہیں اور نہ ہی ہمیں اپنی جماعت کے لیے کچھ حاصل کرنا ہے، ہماری پوری جدوجہد مہنگائی، ظالمانہ ٹیکسوں، پٹرولیم لیوی اور عوامی مسائل کے خاتمے کے لیے ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات ضرور ہوں گے لیکن جماعت اسلامی مذاکرات کے چکروں میں جدوجہد ترک نہیں کرے گی، دھرنے جاری رہیں گے ، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ مرحلے میں ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کرکے پورا ملک بند کر دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنا کے اکیسویں روز مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی خان،ڈپٹی سیکریٹریز وقاص انجم جعفری، شیخ عثمان فاروق، امیر لاہور ضیاالدین انصاری، امیر وسطی پنجاب جاوید قصوری، نائب امیر پنجاب وسطی ذکر اللہ مجاہد، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کراچی ، پشاور ، اسلام آباد ، حیدر آباد ، چترال اور ملک کے دیگر مقامات پر بھی پٹرولیم لیوی، آئی پی پیز معاہدوں اور مہنگائی کے خلاف دھرنے اور احتجاج جاری ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے، حالانکہ ملک کے پاس بجلی پیدا کرنے کی واضح صلاحیت موجود ہے۔ عوام کو اس کے باوجود گھنٹوں لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو حکمرانوں کی بدترین نااہلی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ملک جہاں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو، وہاں عوام کو اندھیروں میں رکھنا حکومتی ناکامی اور ناقص پالیسیوں کا کھلا ثبوت ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی سے ملاقات ہوئی ہے اور پیر سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا، تاہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کے نام پر عوامی تحریک کو کمزور کرنے یا ختم کرنے کے کسی چکر میں نہیں آئیں گے۔ مذاکرات اپنی جگہ لیکن دھرنے اور عوامی جدوجہد جاری رہے گی۔ حکومت نے اگر عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے تو جماعت اسلامی اگلے مرحلے میں پہیہ جام ہڑتال کرے گی اور پورا ملک بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے پٹرولیم لیوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی صورت پٹرولیم لیوی کو قبول نہیں کر سکتے۔ پٹرولیم لیوی کا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں یا دیگر عوامل سے کوئی تعلق نہیں، یہ براہ راست عوام کی جیبوں سے پیسہ نکالنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ حکومت نے جنگ اور عالمی حالات کو بہانہ بنا کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا ہے، جبکہ عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے فقدان سے پریشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کو نہ محفوظ سفری سہولتیں میسر ہیں اور نہ ہی مہنگائی سے نجات مل رہی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، عوام کی قوت خرید ختم ہو رہی ہے، لیکن حکمران طبقہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ کی سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اور سندھ پر چند خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہے۔ پیپلزپارٹی کو سندھ اور سندھی عوام سے زیادہ اپنے اقتدار اور کرپشن کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو قیامت کے دن زرداری سے سوال کریں گی کہ ان کے قاتل کیوں گرفتار نہیں کیے گئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیپلزپارٹی برسوں سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے لیکن لاڑکانہ، نوڈیرو، شہدادکوٹ اور دیگر علاقوں کو بھی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کر سکی۔ کراچی کو صرف لوٹنے کے لیے سندھ کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ شہر کے مسائل کے حل اور عوام کو بنیادی سہولتیں دینے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھی اور مہاجر کے نام پر سیاست اور ڈرامے بازی بند کی جائے اور عوام کو حقیقی اختیار دیا جائے۔ عوام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرکے حکمران طبقہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرتا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے اپنی سیاست اور مفادات کی خاطر سندھ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کے عوام کو تقسیم کرنے کی نہیں بلکہ انہیں ظلم، مہنگائی، کرپشن اور استحصالی نظام کے خلاف متحد کرنے کی سیاست کر رہی ہے۔ عوام کے مسائل کا مستقل حل اسی وقت ممکن ہے جب چند خاندانوں، اشرافیہ اور مفاد پرست طبقوں کی اجارہ داری ختم کرکے حقیقی عوامی نظام قائم کیا جائے۔
انہوں نے دھرنے کے شرکا سے کہا کہ عوامی جدوجہد جاری رکھی جائے، کیونکہ حقوق کسی حکومت کی مہربانی سے نہیں بلکہ منظم اور مسلسل جدوجہد سے حاصل ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی، مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور عوام پر مسلط ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف اپنی تحریک کو مزید منظم اور وسیع کرے گی۔