وڈیرے و جاگیردار، بیوروکریسی ایک دوسرے کے محافظ، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،حافظ نعیم الرحمن*
5دن پہلے
وڈیرے و جاگیردار، بیوروکریسی ایک دوسرے کے محافظ، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،حافظ نعیم الرحمن*
*ہم پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی و جاگیردارانہ سوچ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، ضلع کیماڑی و ضلع ایئر پورٹ کی تربیت گاہوں سے خطاب*
*ٹرمپ کے منصوبے پر اگر فوج غزہ بھیجی جائے گی تو یہ فیصلہ ملک اور فوج کے خلاف ہو گا، مزاحمت کریں گے،امیر جماعت اسلامی پاکستان*
*کارکنان گلی گلی جائیں،نوجوانوں کوتحریک کا حصہ بنائیں، عوامی کمیٹیاں فعال اور مضبوط بنائیں،حالات کا ڈٹ کر مقابلہ، دین کا پیغام عام کریں*
*تربیت گاہوں سے جماعت اسلامی کے مرکزی و مقامی ذمہ داران، خواتین سیشن سے ڈاکٹر حمیرا طارق و دیگر خواتین رہنماؤں نے بھی خطاب کیا*
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں وڈیروں، جاگیرداروں، ملٹری و سول بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ ہے جو 25 کروڑ پاکستانیوں کی تقدیر کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے محافظ ہیں اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ موجودہ حکمران اور وزیر اعظم فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں، اسٹبلشمنٹ نے کراچی اور سندھ میں بدترین لوگوں کو مسلط کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی40 بڑے وڈیروں پر مشتمل اور وصیت و وراثت کی بنیاد پر چلنے والی جماعت ہے،جماعت اسلامی نے ثابت کیا ہے کہ اس نے کبھی بھی لسانیت و عصبیت کی سیاست نہیں کی۔ ہم پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی و جاگیردارانہ سوچ اور سسٹم سے جان چھڑانا چاہتے ہیں،کارکنان گلی گلی جائیں، پاکستان کی آبادی میں 65 فیصد نوجوان ہیں، کارکنان انہیں تحریک کا حصہ بنائیں اور بزرگ ان کی سرپرستی کریں، عوامی کمیٹیاں فعال اور مضبوط بنائیں، حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور دین کے پیغام کو عام کریں۔ آئندہ الیکشن نہ صرف جیتنا ہے بلکہ ووٹ کا تحفظ بھی کرنا ہے اور ایسی عوامی قوت اور طاقت جمع کرنا ہے کہ کوئی مینڈیٹ پر ڈاکا نہ ڈال سکے۔ پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا کو اپنی فوج غزہ نہیں بھیجنی چاہیے۔ ٹرمپ کے منصوبے پر اگر فوج بھیجی جائے گی تو یہ فیصلہ ملک اور فوج کے خلاف ہو گا۔ امن کے نام پر دھوکا نہیں چلے گا اگر حکومت نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو زبردست مزاحمت کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ضلع کیماڑی کے تحت جامع مسجد رابعہ رحمان صحافی کالونی ماڑی پور میں ایک روزہ فیملی تربیت گاہ اور ضلع ایئرپورٹ کے تحت جامعہ ملیہ مسجد ملیر میں ایک روزہ تربیتی اجتماع سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ پاکستان کی ائیر لائن جو پاکستان کا فخر اور دنیا کی ٹاپ ائیر لائن مانی جاتی تھی جس نے چائنا، امارات ودیگر ممالک کے ائیر لائن کو تربیت دی، اسے حکمران طبقے کی کرپشن و نا اہلی اور من پسند بھرتیوں سے تباہ کردیا گیا اور اسے ایسے موقع پر فروخت کیا جب اس نے گزشتہ 6 ماہ میں قومی خزانے کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ہمارا اس سے کوئی مطلب نہیں کہ اس کو کس نے خریدا ہے ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس کو کیوں فروخت کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے پی آئی اے کو بہتر کیوں نہیں بنایا اس لیے ان سب کو کٹہرے میں لانا چاہیئے؟ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن سمیت دیگر حکمران پارٹیاں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھتی ہیں۔ فوج کو بھی جواب دینا چاہیے کہ کیا وہ چوروں اور ڈاکوؤں کو ہی پسند کرتی ہے؟ ہم کسی سازش کے ذریعے سے اقتدار میں نہیں آئیں گے۔ زیر زمین نہیں بلکہ بر سر زمین عوام کی جدوجہد سے ہی اقتدار میں آئیں گے۔پنجاب میں بلدیاتی ایکٹ کے خلاف جماعت اسلامی احتجاج کررہی ہے۔ وڈیرے اور جاگیردار نہ صرف بلدیاتی انتخابات نہیں کروانا چاہتے بلکہ اختیارات بھی منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ صرف سندھ کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام صوبوں کا یہی رویہ ہے۔ حکمران طبقہ قوم کو خادم اور خود کو حاکم سمجھتا ہے۔ ظلم کا نظام معاشرے کو تقسیم کرتا ہے۔ افراتفری، انارکی اور انتشار پورے سسٹم میں موجود ہے۔ اگر حالات کو ایسے ہی اور عوام کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا جائے تو اس کے نتیجے میں مزید انارکی اور فساد برپا ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لاہور مینار پاکستان پر بدل دو نظام اجتماع عام میں ملک بھر سے لاکھوں مردو خواتین کی تاریخی شرکت کے بعد نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ تحریک اور جدو جہد کا آغاز کر دیا گیا ہے، اجتماع میں انٹر نیشنل سیشن میں بیرون ملک سے آئے ہوئے مندوبین نے بھی جماعت اسلامی کی اجتماعیت اور قوت وطاقت کو دیکھا اور خراج تحسین پیش کیا۔ کارکنان اپنے اپنے محلے اور علاقے میں بدل دو نظام تحریک کا پیغام پہنچائیں۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد ہمہ جہتی ہے۔ جماعت اسلامی محض سیاسی جماعت نہیں بلکہ نظریاتی، آفاقی سوچ کی حامل ہے اور اقامت دین کی تحریک ہے۔ دین میں اخلاقیات، معاشرت اور زندگی کے دیگر تمام معاملات کے حوالے سے بھی واضح احکامات موجود ہیں۔ہمارا نظام اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک دین کا عملی طور پر نفاذ نہ ہو۔ بد قسمتی سے ملک میں طبقاتی نظام تعلیم اور معیشت میں سود کا نظام قائم ہے۔ ہم چاہتے ہیں ملک میں یکساں نظام تعلیم اور معیشت سود سے پاک ہو۔ اسلامی تحریکیں دین کے کسی ایک جزکی نہیں بلکہ مکمل دین کے نفاذ کی جدو جہد کرتی ہیں اورمسلک پرستی پر یقین نہیں رکھتیں،ہر مسلک کے لوگوں کو اختیار ہے کہ وہ اپنے فقہ کی بنیاد پر چلیں لیکن کسی کی تکفیر نہیں کریں، اسلامی تحریکیں عوام کے ذریعے سے ہی انقلاب لانا چاہتی ہیں۔ قرارداد مقاصد میں یہ بات لکھی ہوئی اور بعد میں اسے دستور کا حصہ بنایا گیا کہ ملک میں حاکمیت اعلیٰ صرف اور صرف اللہ کی ہی ہوگی۔ سیکولر و لبرل لوگوں کو اس بات سے تکلیف ہوتی ہے اور وہ طاغوت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ مخصوص حکمران طبقہ بیوروکریسی کے ذریعے ملک پر مسلط ہو جاتا ہے اور عوام کا استحصال کرتا ہے۔ ظلم و استحصا ل کا یہ نظام ہی ملک اور قوم کے تمام مسائل کی جڑہے، اسے جڑ سے اُکھاڑنا ہوگا۔ مسجد جامعہ ملیہ میں مرکزی ڈپٹی سیکریٹری شیخ عثمان فاروق، مرکزی صدر الخدمت پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمن، معروف اسکالر مولانا خلیل الرحمن چشتی، امیر ضلع ایئر پورٹ محمد اشرف نے بھی خطاب کیا جبکہ مولانا ثناء اللہ نے درسِ قرآن پیش کیا۔ضلع کیماڑی کی تربیت گاہ میں مرکزی ڈپٹی سیکریٹری سید فراست حسین شاہ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، نائب امیر کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ امیر ضلع کیماڑی فضل احد،مدیر مرکز ختم نبوت اسلام آباد کے مفتی امتیاز مروت، ناظم اعلیٰ جمعیت اتحاد العلماء مولانا عبدالوحید نے بھی مختلف علمی و فکری موضوعات پر خطاب کیا۔تربیت گاہ میں خواتین کے لیے علیحدہ سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان (حلقہ خواتین) ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکریٹری عطیہ نثار اور سمیحہ راحیل قاضی نے خطاب کرتے ہوئے خاندان کی تربیت اور دورِ حاضر میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر والدین کی سہولت اور بچوں کی نظریاتی نشوونما کے لیے شعبہ اطفال کے تحت خصوصی ”گوشہ اطفال“قائم کیا گیا تھا۔ جہاں 6 سے 12 سال کے بچوں کے لیے قصص الانبیاء، تربیتی کوئز، نعت و تقریر کے مقابلے اور ٹیبلوز پیش کیے گئے، جبکہ بچوں کی تفریح کے لیے جھولوں کا بھی خصوصی انتظام موجود تھا۔



