پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ،
2گھنٹے پہلے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ،
سرحدی مسائل، سکیورٹی خدشات اور سفارتی اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں،
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا جماعت اسلامی لوئر دیر کے تربیتی اجتماع سے خطاب
لوئردیر:یکم جنوری 2026ء
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے جماعت اسلامی لوئر دیر کے ماہانہ تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ خطے میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور باہمی اعتماد کے لیے دونوں ممالک کو دانشمندی، تحمل اور حکمت عملی سے آگے بڑھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے دینی، اخلاقی اور انسانی بھائی ہیں۔ مہاجرین کے ساتھ سختی، بے حسی اور زبردستی کے اقدامات مسائل کو حل نہیں بلکہ مزید پیچیدہ کرتے ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ مہاجرین کے ساتھ نرم رویہ اپنایا جائے، انہیں باعزت واپسی کے لیے مناسب وقت اور سہولت دی جائے۔ افغان حکومت بھی جذباتی ردِعمل کے بجائے حکمت، سنجیدگی اور زمینی حقائق کو سامنے رکھے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاک افغان تعلقات خراب ہونے کا نقصان صرف حکومتوں کو نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ تجارت، تعلیم، روزگار اور امن سب اس کشیدگی کی نذر ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرحدی مسائل، سکیورٹی خدشات اور سفارتی اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔
انہوں نے تحریک انصاف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو احتجاجی سیاست اور غیر سنجیدگی ترک کر کے قومی معاملات میں بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ملک اس وقت سنگین معاشی، سیاسی اور سکیورٹی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ایسے میں ضد، انا اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے تحریک انصاف کی حکومت مسلط ہے، لیکن صوبہ آج بھی بدترین بدانتظامی، کرپشن اور ادارہ جاتی زوال کا شکار ہے۔ صحت، تعلیم، بلدیات، پولیس اور پٹوار کا نظام زبوں حالی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ اصلاحات صرف نعروں تک محدود ہیں، عملی طور پر کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے بہت سے مسائل کا تعلق نہ تو اسٹیبلشمنٹ سے ہے اور نہ ہی وفاق سے، بلکہ یہ صوبائی حکومت کی نااہلی، غلط ترجیحات اور ناقص حکمرانی کا نتیجہ ہیں۔ اگر نیت ہوتی تو کئی مسائل آج بھی صوبائی سطح پر حل کیے جا سکتے تھے، لیکن بدقسمتی سے حکومت نے سنجیدہ طرزِ حکمرانی کے بجائے الزام تراشی کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے جو اصول، دیانت اور عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ ہم اقتدار کے لیے نہیں بلکہ نظام کی اصلاح، کرپشن کے خاتمے اور عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کارکنان کو تلقین کی کہ وہ دعوت، تربیت اور خدمت کے میدان میں مزید فعال کردار ادا کریں اور عوام میں جماعت اسلامی کا پیغام امید، دیانت اور تبدیلی کے طور پر لے کر جائیں۔


