بجٹ عوام دشمن، دو روز تک اہم لائحہ عمل دیں گے، حافظ نعیم الرحمن
9دن پہلے
بجٹ عوام دشمن، دو روز تک اہم لائحہ عمل دیں گے، حافظ نعیم الرحمن
آزاد کشمیر کی صورتحال میں بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان کی پریس کانفرنس
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے احکامات پر بنائے گئے بجٹ میں عوام کے لیے کوئی سہولت نہیں، ملکی قرضے پچاسی ہزار ارب تک چلے گئے، سالانہ آٹھ سو ارب سود کی ادائیگی میں چلے جاتے ہیں۔ حکومت پٹرولیم لیوی ختم، صنعتوں کو سستی بجلی دے۔بجٹ اور عوامی مسائل پر دو روز تک مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر میاں محمد اسلم، ڈپٹی سیکریٹری سید فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کے لیے بجٹ اعدادوشمار کو ادھر اُدھر کرنے کا کھیل ہے، حکمرانوں کو عوامی مسائل کا ادراک نہیں، اس ظالمانہ نظام کے خلاف بہت بڑی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ عوامی حقوق کے لیے جدوجہد میں نوجوانوں کو بھی شامل کیا جائے گا، اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو سڑکیں جام کرنے سمیت ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں برسوں سے ایک ہی طبقہ حکومت کر رہا ہے اور 79 سال سے یہی نظام عوام پر مسلط ہے۔ بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں فارم سنتالیس کا ذکر کیا البتہ وہ یہ بتانا بھول گئے کہ پی پی کو کراچی سے سیٹیں اسی فارم کی وجہ سے ملیں، پی ڈی ایم جماعتوں میں محض نورا کشتی چل رہی ہے، یہ سب عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔ حکمران خود اعتراف کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے اور ملک اس کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، تاہم ان کی اپنی شاہ خرچیوں کے لیے آئی ایم ایف کا کوئی دباؤ نہیں، یہ عالمی مالیاتی ادارے کے دیے گئے اہداف عوام پر بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور براہ راست ظالمانہ ٹیکس کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے آمدن کا بڑا ذریعہ پٹرولیم لیوی کو بنا لیا ہے، حالانکہ جس مقصد کے لیے لیوی عائد کی جاتی ہے وہ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے پٹرولیم لیوی فوری ختم کی جائے اور صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت 9 سینٹ فی یونٹ مقرر کی جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بجٹ میں کیپسٹی پیمنٹس (Capacity Payment) کم کرنے کے لیے کیا اقدامات تجویز کیے گئے ہیں؟ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ حکومت نااہلی کا شاہکار ہے، زرعی مداخل جیسا کہ کھاد، ادویات، بیج وغیرہ انتہائی مہنگے ہوچکے ہیں اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت کسانوں، مزدوروں اور عام آدمی کو سہولت دے، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں، سرکاری اداروں میں 1300 سی سی سے بڑی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی لگنی چاہیے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز، جنرلز اور حکمران اشرافیہ کو اپنی مراعات میں کمی کا آغاز خود کرنا چاہیے۔ دفاعی ضروریات کے لیے عوام قربانی دینے کو تیار ہیں، لیکن غیر ضروری مراعات ختم کی جانی چاہئیں۔ 26 ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا تھا کہ 31 دسمبر 2026 تک سود ختم ہوجائے گا، حکومت کو اس حوالے سے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
تعلیم کے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تعلیم کے لیے صرف 0.8 فیصد بجٹ مختص کیا گیا ہے، جبکہ پنجاب میں ایک کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ پنجاب میں سکولوں اور صحت کے مراکز کو فروخت کیا جارہا ہے، سرکاری ملازمین پریشان ہیں اور نجی شعبے کے ملازمین کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں عام آدمی اور غریب طبقے کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا تھا، اور اگر یہ پروگرام کامیاب ہوتا تو غربت میں اضافہ نہ ہوتا۔ پنجاب میں غربت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ایف بی آر میں سالانہ 1200 سے 1300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، لیکن اس کے خاتمے کے بجائے عوام پر نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ یہ پورا نظام سرمایہ دارانہ مفادات کا تحفظ کرتا ہے، اس نظام سے جان چھڑانے کے لیے عوام کو جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر منظم جدوجہد کرنا ہوگی۔نوجوانوں کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بجٹ میں نوجوانوں کے لیے چند ارب روپے رکھ دینا کافی نہیں، آئی ٹی کے شعبے میں عملی اقدامات نظر نہیں آتے، صرف دکھاوے کے لیے لیپ ٹاپ تقسیم کیے جاتے ہیں۔ تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ غربت میں 8 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پوری قوم کو وہاں کے حالات پر تشویش ہے، ایسے واقعات اور حادثات اچانک رونما نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سے کراچی تک مرضی کے نتائج حاصل کرنے کا تاثر موجود ہے، حتیٰ کہ حکومتی جماعتوں کے رہنما بھی فارم 47 کے حوالے سے اعتراضات کرتے رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مسئلے کا حل نہ تو پرتشدد احتجاج ہے اور نہ ہی اس کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال۔ انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے سامنے آنے والے نکات بارے کہا کہ جماعت اسلامی اس معاملے کے حل کے لیے کمیٹی و حکومت دونوں فریقوں کے بیچ کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت سے بھی رابطہ کریں گے۔ جماعت اسلامی پیشکش کر رہی ہے اور امید ہے کہ حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس پر مثبت ردعمل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی کی قیادت سے بھی مسلسل رابطہ ہے اور واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں صرف آزاد کشمیر نہیں مقبوضہ کشمیر کی بھی ایک واضح اکثریت پاکستان کی حامی ہے اور پورا پاکستان بھی سارے کشمیر کا پشتیبان ہے۔



