News Detail Banner

ظالمانہ لیوی کے خلاف جلد نوجوانوں کو احتجاج کی کال دیں گے جو مرکزی شاہراہوں پر اپنی موٹر سائیکل بند کر کے احتجاج کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن

6دن پہلے

ظالمانہ لیوی کے خلاف جلد نوجوانوں کو احتجاج کی کال دیں گے جو مرکزی شاہراہوں پر اپنی موٹر سائیکل بند کر کے احتجاج کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن

آزاد کشمیر میں مسئلہ مذاکرات سے حل کیا جائے ،صومالیہ میں یرغمالیوں اور پریا کماری کی بازیابی میں حکومت اپنی ذمہ اداری پوری کرے، پریس کانفرنس

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی ہر موٹر سائیکل سوار اور عام شہری کے لیے بھاری مالی بوجھ ہے جبکہ ان کی آمدنی اتنی بھی نہیں ہے کہ وہ انکم ٹیکس ادا کرے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پیٹرول قیمت225روپے فکس کی جائے ، پیٹرولیم لیوی فوری ختم کی جائے ، بجلی بلوں میں بھاری ٹیکس اور آئی پی پیز کے معاہدے ختم کیے جائیں ۔ جماعت اسلامی پر امن سیاسی جدو جہد اور مزاحمت پر یقین رکھتی ہے ، ظالمانہ لیوی کے خلاف بہت جلد ملک بھر کے نوجوانوں کو احتجاج کی کال دیں گے جو بڑی اور مرکزی شاہراؤں پر اپنی اپنی موٹر سائیکل بند کر کے احتجاج کریں گے ۔ جماعت اسلامی آئندہ انتخابات میں پہلے سے زیادہ بھاری مینڈیٹ حاصل کرے گی اور مینڈیٹ کا تحفظ بھی کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں مسئلے کا حل مذاکرات ہیں، طاقت کے استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، پاکستان کے25 کروڑ عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں،جس کی جو آئینی ذمہ داری ہے وہ اداکرے ، سیاسی معاملات میں دخل اندازی بند کی جائے ، کبھی آر ٹی ایس بٹھاد یا جاتا ہے ،کبھی فارم 47 کے ذریعے حکومت لے آتے ہیں یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیئے ،پریا کماری کو بازیاب کروانے میں حکومت اپنی ذمہ اداری ادا کرے ، ہمارے پاکستانی شہریوں کو صومالیہ کے قزاقوں سے بازیاب کرایا جائے ،حکومت اپناکردار اداکرے، ہم ای چالان کے خلاف نہیں ہیں لیکن پہلے پورا نظام بھی تو بہتر بنایا جائے ۔پیر کو ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیا ہے کہ سندھ حکومت نے کم از کم اجرت 43ہزار روپے مقرر کر دی ہے لیکن اس ہٹ وہ عوام کو بتائیں کہ ان کے خاندان کی ہزاروں مربوں پر مشتمل اراضی پر کام کرنے والے ہاریوں کی اجرت کتنی ہے ؟ ان کو اجرت تو کیا صرف تھوڑا سا غلہ دیا جاتا ہے اور غلام بنا کر رکھا ہوا ہے ، پیپلز پارٹی کے اندر تو جاگیردارانہ نظام قائم کیا ہوا ہے اور بات جمہوریت کی کرتے ہیں ، ان کے خاندان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ آقا اور چالیس سال سے پارٹی میں کام کرنے والے ورکرز کی کوئی حیثیت نہیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین، محنت کشوں اور عام شہریوں کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں دیا گیا، ملک میں لاکھوں نجی شعبے کے ملازمین ایسے ہیں جن کی تنخواہوں میں برسوں سے اضافہ نہیں ہوا لیکن حکومت اس طبقے کے مسائل سے لاتعلق ہے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں محدود اضافہ کیا گیا، جبکہ پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں 300 سے 400 فیصد تک اضافہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تقریباً 7کروڑ افراد بنیادی ملازمانہ حقوق سے محروم ہیں، جبکہ ای او بی آئی کے ملازمین کی پینشن میں کوئی اضافہ نہ کرنا افسوسناک اور شرمناک ہے،صوبائی حکومتیں عوام کے ٹیکسوں سے اربوں روپوں کے اشتہارات دیتی ہیں، ہم تمام میڈیا گروپس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے ورکرز کو ان کے جائز حقوق دیں اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کریں،انہوں نے اقلیتی رکن ونیش کمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ قرآن مجید سود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ قرار دیتا ہے، مگر پاکستان کے بجٹ کا بڑا حصہ سودی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے۔ حکومت نے سودی نظام کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کے برعکس سودی بوجھ میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں اس نے کبھی جمہوریت تسلیم نہیں کیا جس کی ایک مثال کراچی میں ہونے والا گزشتہ بلدیاتی الیکشن ہے ،جس میں اس نے جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر قبضہ کرکے اپنا میئرمسلط کردیا ، ، یونیورسٹیوں کو گرانٹ نہیں دی جارہی ، کراچی میں یونیورسٹیوں کے ٹیچرز احتجاج کررہے ہیں، نہ تعلیم کی سہولت دیتے ہیں نہ صحت کی ، پیپلز پارٹی کے مطابق اگر اندرون سندھ صحت کی اتنی سہولتیں موجود ہوتی تو وہاں کے سارے مریضوں کا رخ کراچی کی طرف کیوں ہوتا ہے،یونیورسٹی روڈ کا بیڑا غرق کردیا ہے ، جہانگیر روڈ پر پیورز لگادیے گئے ہیں ، دنیا میں کہیں مرکزی شاہراہوں پر پیورز نہیں لگائے جاتے ، کراچی میں 15ہزار بسوں کی ضرورت ہے ، سندھ حکومت نے 150بسوں کا اضافہ کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات ماردی ہے ، ایم کیوایم چالیس سال میں اس شہر کے لیے کوئی ایک چیز حاصل نہیں کرسکی ،جو شہر میں ایک پولنگ اسٹیشن نہیں جیت سکے ان کو درجنوں سیٹیں دے دی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ اسرائیل کو بمباری سے روکیں وہ نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان پر بلکہ غزہ پر بھی بدستور بمباری کررہا ہے ، اسرائیل میں اب کچھ بھی نہیں بچا ،اس کے ناقابل تسخیر ہونے کا تصور ختم ہوچکا ہے ۔ پریس کانفرنس میں امیرجماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ، امیر کراچی منعم ظفرخان،نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ ، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی ، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، سیکریٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی بھی موجود تھے ۔