آزاد کشمیر صورت حال کا واحد حل بامعنی مذاکرات، حکومت طاقت استعمال نہ کرے، حافظ نعیم الرحمن
3گھنٹے پہلے
آزاد کشمیر صورت حال کا واحد حل بامعنی مذاکرات، حکومت طاقت استعمال نہ کرے، حافظ نعیم الرحمن
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جماعت اسلامی پر مکمل اعتماد کا اظہارکیا ہے، حکومت بھی آگے بڑھے،
آزاد کشمیر سے ایسا کوئی پیغام نہ جائے جس سے بھارت کو فائدہ پہنچے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا پریس کانفرنس سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال کا واحد حل بامعنی مذاکرات ہیں، حکومت طاقت کے استعمال سے گریز کرے، جماعت اسلامی نے ثالثی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان اعتماد سازی کے لیے عملی کردار ادا کیا ہے، دونوں فریق فوری طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھیں تاکہ خون خرابے اور انتشار سے بچا جا سکے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جماعت اسلامی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے، اپنے لانگ مارچ کو مؤخر کر کے مثبت پیغام دیا ہے، اب حکومت بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور عوام کے جائز مطالبات حل کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آزاد کشمیر کی صورت حال کو اس نہج پر نہ پہنچایا جائے کہ بھارت کو پاکستان اور مسئلہ کشمیر کے خلاف پروپیگنڈا کا موقع مل جائے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ جماعت اسلامی کی ثالثی پاکستان اور مسئلہ کشمیر کے آئینی و قومی فریم ورک کے اندر ہے، یہ فریم ورک برقرار رہا تو ہر ممکن کوشش ہو گی کہ مسئلہ حل ہو جائے۔حکومتی مؤقف کہ حالات ”پوائنٹ آف نو ریٹرن“ پر پہنچ چکے ہیں سے اتفاق نہیں کرتے، ابھی بھی مذاکرات کا دروازہ کھلا، جماعت اسلامی ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق خان، سابق امیر آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود، ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان سید فراست شاہ اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوابھی اس موقع پر موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ابتدا ہی سے کوشش کی کہ آزاد جموں و کشمیر کا مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو۔ اسی مقصد کے تحت جماعت اسلامی نے ثالثی کی پیشکش کی، جسے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے قبول کیا۔ اس کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت نے مشاورت کے بعد مصالحتی کوششوں کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کے امیر ڈاکٹر مشتاق خان اور سابق امیر ڈاکٹر خالد محمود مسلسل مختلف حلقوں سے رابطے کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد محمود نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے متعدد ملاقاتیں کیں، جن میں کمیٹی نے جماعت اسلامی کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور اپنے مطالبات کی تفصیلی فہرست بھی فراہم کی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کسی بھی صورت خون بہنے، تشدد یا ریاستی طاقت کے استعمال کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ آزاد جموں و کشمیر سے ایسا کوئی پیغام نہیں جانا چاہیے جس سے پاکستان کے دشمن کو فائدہ پہنچے۔ بھارت پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، قتل و غارت، پیلٹ گنوں کے استعمال اور کشمیری قیادت کی قید و بند کے ذریعے ظلم ڈھا رہا ہے، ایسے میں پاکستان کو داخلی محاذ پر کوئی ایسی غلطی نہیں کرنی چاہیے جس سے دشمن کو سفارتی فائدہ ملے۔ جماعت اسلامی کسی قسم کی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہی، ہماری ترجیح پاکستان، کشمیر اور مسئلہ کشمیر ہے۔ جماعت اسلامی آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر، گلگت بلتستان، جموں اور لداخ کو ایک تاریخی ریاست سمجھتی ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دیے جانے کی حامی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی کی قربانیوں اور جدوجہد کوکون بھلا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور ہزاروں کشمیری آج بھی پاکستان سے اپنی وابستگی کی قیمت ادا کر رہے ہیں، اس لیے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کا اپنی سیاسی قیادت پر اعتماد کمزور ہوا ہے کیونکہ بار بار وفاداریاں تبدیل کرنے، اقتدار کی سیاست اور مفاد پرستی نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسی اعتماد کے فقدان نے عوامی احتجاج کو جنم دیا، تاہم اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والے عناصر سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے آزاد کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی صورت پاکستان مخالف بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔ پاکستان کشمیریوں کا اپنا ملک ہے، یہاں کے تعلیمی ادارے، دفاتر اور وسائل ان کے لیے کھلے ہیں، اس لیے دشمن کے ہاتھ میں کھیلنے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے وفاقی حکومت، مقتدر حلقوں اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے انتشار، نفرت یا بدامنی پیدا ہو اور بھارت کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کا موقع ملے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر صورت بامعنی مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں۔
وزیراعظم سے رابطوں کے حوالے سے ایک سوال پر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے خواہاں ہیں۔ اگر حکومت بات چیت کرے گی تو جماعت اسلامی اپنی ذات یا پارٹی کے لیے کچھ نہیں مانگے گی بلکہ کشمیر کا پرامن حل، عوامی مسائل کا خاتمہ، پیٹرولیم لیوی میں کمی، بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی، آئی پی پیز کے خلاف کارروائی، نوجوانوں کو تعلیم و روزگار اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات جیسے قومی مطالبات پیش کرے گی۔ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہییں، تاہم اگر مذاکرات کامیاب ہو جائیں اور حالات معمول پر آ جائیں تو انتخابات زیادہ پرامن اور قابل قبول ماحول میں منعقد ہوں گے۔ بصورت دیگر نتائج پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو مذاکراتی عمل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اگرچہ عوام کا اس پر اعتماد متاثر ہوا ہے، تاہم چونکہ وہ آئینی حکومت ہے، اس لیے حتمی معاہدہ اسی کے ساتھ ہوگا جبکہ وفاقی حکومت بھی اس عمل کا حصہ ہوگی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بعض سخت تقاریر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان مخالف یا ناقابل قبول بیانیہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر خالد محمود نے بھی کمیٹی قیادت سے اس حوالے سے دوٹوک بات کی ہے اور حالیہ دنوں میں ان کے لہجے اور مؤقف میں مثبت تبدیلی بھی نظر آ رہی ہے۔انہوں نے پنجاب اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر کو اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے کیونکہ اس سے عام شہری متاثر ہوں گے اور نفرت بڑھے گی۔
ایک سوال پر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کشمیر کمیٹی ماضی اور حال دونوں میں مسئلہ کشمیر کے تقاضوں کے مطابق مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم اگر کشمیر کمیٹی جماعت اسلامی سے مشاورت کرنا چاہتی ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا مگر آزاد کشمیر کی موجودہ صورت حال سے کمیٹی کا کوئی تعلق نہیں۔ کراچی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شہر کا بلدیاتی نظام تباہ ہو چکا ہے، کراچی کے عوام پر رحم کیا جائے اور جنہوں نے شہر میں بدانتظامی پیدا کی ہے وہی اس کی ذمہ داری قبول کریں۔
انہوں نے انتخابی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان دونوں میں متناسب نمائندگی، آزاد الیکشن کمیشن اور جدید انتخابی نظام متعارف کرایا جانا چاہیے تاکہ عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد بحال ہو سکے۔


