آزاد کشمیر کی موجودہ نازک ترین صورت حال کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ۔
9گھنٹے پہلے
آزاد کشمیر کی موجودہ نازک ترین صورت حال کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ۔
حافظ نعیم الرحمن صدر وزیر اعظم پاکستان اور قومی قیادت سے ملاقاتیں کرینگے۔
ایکشن کمیٹی کی طرف سے امیر جماعت اسلامی کو ثالثی کی پیش کش کا خیرمقدم۔
آزاد کشمیر کی موجودہ نازک ترین صورت حال کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ صورت حال کی بہتری کے لئے جماعت اسلامی پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن اس سلسلے میں پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور دیگر رقومی قیادت سے ملاقاتیں کر کے صورت حال کی بہتری کے لیے کردار ادا کریں گے، جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے ایک اور کمیٹی جموں و کشمیر ایکشن کمیٹی سے رابطہ کے لیے قائم کی ہے۔
اس بات کا فیصلہ اسلام آباد میں حافظ نعیم الرحمٰن کی صدارات میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، سابق امراء عبدالرشید ترابی ، ڈاکٹر خالد محمود خان ،سیکریٹری جنرل جہانگیر خان، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا ، نائب امراء نورالباری، راجہ محمد فاضل اور پاکستان و آزاد کشمیر جماعت کے دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کو ثالثی کی پیش کش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کسی طور قابل قبول نہیں۔ کشمیریوں کی پاکستان سے لازوال وابستگی کسی شک و شُبے سے بالا ہے۔
اجلاس میں طے پایا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے صدر و وزیراعظم پاکستان سے ملاقاتیں اور قومی قیادت سے رابطے کرکے صورتِ حال کو معمول پر لانے کی کوششیں کریں گے تاکہ آزاد کشمیر کی موجودہ دگرگوں اور غیریقینی صورت حال کا پُرامن حل نکل سکے۔ اجلاس میں قائم کردہ کمیٹی فوری طور پر ایکشن کمیٹی سے ملاقاتیں کرکے تجاویز مرتب اور عملی اقدامات کرے گی۔
اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ تین ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے باعث آزاد کشمیر کے بعض داخلی راستوں کی بندش سے عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں حتی کہ ادویات تک اُن تک پہنچنا مشکل بنا دی گئی ہیں۔حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مطلوبہ اشیا کی ترسیل یقینی بنائے۔



