News Detail Banner

حکمرانوں نے عوام کے چولہے ٹھنڈے کردیئے، خواتین غیر محفوظ ہیں، حافظ نعیم الرحمن

9گھنٹے پہلے

حکمرانوں نے عوام کے چولہے ٹھنڈے کردیئے، خواتین غیر محفوظ ہیں، حافظ نعیم الرحمن
تین مقامات پر دھرنا جاری، پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا
حکمران ڈھٹائی ختم کریں، عوام کو سہولت دیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا لاہور میں خواتین کے جلسہ سے خطاب

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت کو خواتین کے تحفظ، تعلیم، صحت اور روزگار سمیت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں نے عوام کے چولہے ٹھنڈے کر دیے، بچوں کی تعلیم مشکل بنا دی اور خواتین کو غیرمحفوظ معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، اب حکومت کو اپنی ڈھٹائی ختم کرنا ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم ہونے تک دھرنا ختم نہیں ہوگا، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر ہڑتال، شٹر ڈاؤن اور لانگ مارچ سمیت احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر مال روڈ پر جماعت اسلامی کے دھرنے کے ساتویں روز خواتین کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک بھر میں بیک وقت تین دھرنے جاری ہیں اور یہ احتجاج محض پٹرول کی قیمتوں کے خلاف نہیں بلکہ مہنگائی، آئی پی پیز اور پٹرولیم لیوی کے خلاف عوام کی جنگ ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے تک پہنچتے ہیں، اس لیے اصل مسئلہ ہر گھر کے چولہے کا ہے۔
دھرنا سے قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین ثمینہ سعید ، ڈپٹی سیکرٹری سمیحہ راحیل قاضی ، ناظمہ وسطی پنجاب نازیہ توحید ، ناظمہ شمالی پنجاب ثمینہ احسان اور ناظمہ حلقہ لاہور عظمی عمران نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج مائیں بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے پریشان ہیں اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بچوں کی فیسیں ادا کر رہی ہیں۔ مہنگائی نے گھر کا بجٹ تباہ کر دیا ہے، اسی لیے خواتین بڑی تعداد میں دھرنے میں شریک ہوئی ہیں۔ انہوں نے خواتین کی بڑی شرکت کو جماعت اسلامی کے مضبوط ویمن ونگ کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب میں خواتین کے تحفظ کی صورتحال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خود خاتون ہیں لیکن صوبے میں خواتین محفوظ نہیں۔ گزشتہ برس خواتین سے زیادتی کے 4,500 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، مگر ان مقدمات میں ہر ایک ہزار ملزمان میں سے صرف چار کو سزا مل سکی۔ پولیس اور عدالتی نظام عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تقریباً 80 لاکھ بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ صوبے میں خواندگی کی شرح زیادہ سے زیادہ 70 فیصد ہے، اسکولوں سے باہر بچوں میں 60 فیصد لڑکیاں اور 40 فیصد لڑکے ہیں۔ حکومت نے قوم کی بچیوں کو تعلیم سے محروم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے بچیوں کے 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کر دیے ہیں اور حکومت خواتین کو امن، تحفظ اور محفوظ ٹرانسپورٹ فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئین ریاست کو ہر شہری کے لیے مفت اور معیاری تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، مگر 80 فیصد لوگ اپنے بچوں کی یونیورسٹی فیسیں ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ غریب کے بچوں کا تعلیم پر اتنا ہی حق ہے جتنا حکمرانوں کے بچوں کا۔ اگر ریاست ماں کا کردار ادا کرے تو ہر بچے کو معیاری تعلیم مل سکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے خواتین ڈاکٹرز اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بننے والی بچیوں کو بھی ہاؤس جاب میں پورا حصہ نہیں ملتا، جبکہ نجی شعبے میں ڈاکٹرز کو معمولی تنخواہوں پر ملازمتیں ملتی ہیں۔ حکومت کے پاس ڈاکٹرز کو دینے کے لیے بھی کچھ نہیں، اور جو ڈاکٹر اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔حکومت نے بنیادی مراکز صحت سے جان چھڑانے کے لیے انہیں مختلف نام دے دیے ہیں، مگر عوام کو بنیادی صحت کی سہولتیں اب بھی میسر نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں ساڑھے آٹھ کروڑ مزدور ہیں جن میں تقریباً تین کروڑ خواتین شامل ہیں۔ خواتین فیکٹریوں اور کھیتوں میں کام کرتی ہیں، مگر پنجاب کی چار کروڑ خواتین کی کم از کم اجرت تک طے نہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہی ہیں اور ہنر مند افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع نہیں مل رہے۔انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 40 فیصد سے زائد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، گزشتہ چھ برس میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پنجاب میں یہ اضافہ 41 فیصد تک پہنچ گیا۔ شہباز شریف، مریم نواز اور انہیں مسلط کرنے والوں نے عوام کو غریب کر دیا ہے، جس کے باعث آج بہنیں اور بیٹیاں بھی مجبوری میں روزگار کے لیے گھروں سے نکل رہی ہیں۔
پٹرولیم لیوی پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت پٹرول پر 125 روپے سے زائد فی لیٹر ٹیکس اور لیوی وصول کر رہی ہے۔ حکمران کہتے ہیں کہ لیوی ختم نہیں کر سکتے، تو ہم بھی کہتے ہیں کہ دھرنا ختم نہیں کر سکتے۔ حکومت کو پٹرولیم لیوی کا یہ بھتہ ختم کرنا ہوگا اور مہنگائی کم کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی، آٹا، موبائل چارجز اور چینی سمیت ہر چیز پر ٹیکس وصول کر رہی ہے جبکہ عوام کے وسائل حکمرانوں کے پاس ہیں۔ لیوی کی مد میں حاصل ہونے والے ہزاروں ارب روپے بھی حکومت کے پاس ہیں، لیکن عام آدمی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مخصوص طبقہ بار بار قوم کے سروں پر مسلط رہتا ہے اور حکمران اب قوم کا مزید استحصال نہیں کر سکتے۔ انگریزوں کا بنایا ہوا بیوروکریسی کا نظام آج بھی عوام کو غلام سمجھتا ہے۔ نظام کی محض شاخیں کاٹنے سے تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ اسے جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔انہوں نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ حکمران عوام کے پیسوں سے پلتے ہیں لیکن عوام کو سہولتیں دینے کے بجائے اپنے اخراجات بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، جبکہ دوسری جانب عام مائیں بچوں کی فیسیں ادا کرنے کے لیے اپنی ضروریات قربان کر رہی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کے لیے بھرپور کام کر رہی ہے۔ بنوقابل پروگرام میں 17 لاکھ سے زائد طلبہ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔اصل وسائل حکومت کے پاس ہیں، اس لیے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو علاج، تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج مزید پھیلایا جائے گا۔ لیوی کا خاتمہ، مہنگائی میں کمی اور عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی تک دھرنا جاری رہے گا، جبکہ آئندہ مرحلے میں ملک گیر ہڑتال، شٹر ڈاؤن اور لانگ مارچ بھی کیا جائے گا۔