پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف گورنر ہاؤس کے سامنے جماعت اسلامی کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری
9گھنٹے پہلے
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف گورنر ہاؤس کے سامنے جماعت اسلامی کا دھرنا ساتویں روز بھی جاری
حکومت نے لیوی ٹیکس کا خاتمہ نہ کیا تو اسلام آباد مارچ سمیت دھرنوں کو شہر شہر منتقل کر دیں گے، عنایت اللہ خان
*2 اگست کو دھرنوں کے پنڈال میں بارہ ربیع الاول کے موقع پر سیرت نبی کانفرنسز کا انعقاد کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر جماعت اسلامی کے تحت ملک کے دیگر صوبوں کی طرح گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے غیر معینہ مدت تک جاری تاریخی دھرنا ساتویں روز بھی جاری رہا۔
گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے جماعت اسلامی کے دھرنے میں آج صوبہ بھر سے جماعت اسلامی یوتھ کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی اور حکومت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ظالمانہ لیوی ٹیکسز کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی مہمان خصوصی تھے۔
دھرنے سے قبل سابق سینئر صوبائی وزیر اور جماعت اسلامی شمالی پختونخوا کے امیر عنایت اللہ خان نے میڈیا ٹاک کے دوران اعلان کیا کہ ہمارا یہ دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ ہم نے ایک ہفتے کا شیڈول تیار کر لیا ہے۔ 26 اگست کو دھرنے میں 12 ربیع الاول کی مناسبت سے دھرنا پنڈال میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد ہوگا، جس میں صوبہ بھر سے علمائے کرام اور عوام کثیر تعداد میں شریک ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہمارے یہ دھرنے عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے منعقد کیے گئے ہیں۔ اگر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور ظالمانہ لیوی ٹیکسز کا فوری خاتمہ نہ کیا تو امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر اسلام آباد کی طرف مارچ سمیت دھرنوں کو ملک بھر کے تمام بڑے شہروں تک پھیلا دیں گے۔
دھرنے سے خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع، شمالی پختونخوا کے جنرل سیکرٹری محمد حلیم باچا، لوئر دیر کے امیر اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا اسد اللہ، چترال لوئر کے امیر وجیہ الدین، کرک کے امیر صدیق اللہ شاہین، صوابی کے امیر مفتی مراد احمد، مردان کے امیر غلام رسول، جماعت اسلامی یوتھ کے صوبائی صدر شاہ زمان درانی، جماعت اسلامی یوتھ کے رہنما خان ولی آفریدی، شمالی پختونخوا یوتھ کے صدر عتیق الرحمن، سابق رکن صوبائی اسمبلی محمد علی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ جس طرح جماعت اسلامی پاکستان نے بجلی کے بھاری بلوں اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف آئی پی پیز سے مہنگے معاہدوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا اور اسلام آباد میں دھرنا دیا، اسی طرح پہلی بار قوم کو آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں سے آگاہ کیا گیا۔ آج وزیراعظم کی ٹاسک فورس کی رپورٹ میں حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ چھ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی بندش سے حکومت کو 43 کھرب روپے کی بچت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اب لیوی ٹیکس کی صورت میں قوم کو لوٹنے والے منصوبے کو بھی بے نقاب کر دیا ہے اور پہلی بار قوم کو لیوی ٹیکس کی حقیقت سے روشناس کرایا ہے۔ ان شاء اللہ انہی دھرنوں کے ذریعے قوم کو حکومت کے ظالمانہ لیوی ٹیکس سے بھی نجات دلائیں گے۔


